اسلام آباد :پاکستان نے افغانستان کے ترجمان کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے سکیورٹی خطرہ سمجھے جانے والے افراد کو قبول کرنے سے انکار کیا۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق، استنبول مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے اس تجویز کو خوش آئند قرار دیا تھا کہ اگر افغانستان میں ایسے افراد موجود ہیں جنہیں پاکستان اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، تو انہیں مقررہ سرحدی چیک پوسٹوں کے ذریعے پاکستان کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اگر ایسے افراد کی پاکستانی شہریت ثابت ہو جائے تو انہیں واپس لیا جائے گا اور ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔وزارت کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کرنے کا دعویٰ درست نہیں، بلکہ یہ حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔
ترجمان کے مطابق، پاکستان اسلامی امارتِ افغانستان کے ساتھ تعمیری رابطے کے لیے پُرعزم ہے اور انسدادِ دہشت گردی و سرحدی نظم و نسق میں قابلِ تصدیق تعاون کو دونوں ممالک کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔