لوہے کا سینڈوچ

09:10 AM, 2 Nov, 2025

انیس سو سینتالیس میں پاکستان کا قیام ہوا تو طے شدہ فارمولے کے تحت پاکستان نے اثاثے تقسیم کرکے اپنے حصے کے وسائل اور ملک چلانے کے لیے بجٹ کا تقاضا کیا تو نہرو اینڈ کمپنی نے شاطرانہ ہنسی دوغلے چہرے پر سجاتے ہوئے کہا کہ آپ نے کیا کرنے ہیں اثاثے ؟ پاکستان تو اپنا وجود قائم ہی نہیں رکھ پائے گا کچھ دنوںکی تو بات ہے آپ واپس آکر ہندوستان میں شامل ہونے کی بات کریں گے ۔یہ کہہ کر پاکستان کے حصے کی رقم تک دینے سے انکار کردیا گیا۔منصوبہ یہی تھا کہ انگریز کے سامنے ہندوستان کی تقسیم کا فارمولہ تسلیم کرنا پڑا اب انگریز چلا گیا ہے تو ہندوستان پاکستان کو دباکر واپس آنے پر مجبور کردے گا۔پاکستان نے ایک بار پھر ہندو کی قبیح چال کو سمجھا اور اپنی بقا کے لیے جدوجہدکرنے کا فیصلہ کیا۔جب پاکستان نے ہندوستان کی طرف مڑکر نہ دیکھاتو ہندوستان نے پاکستان کا پانی روک دیا۔تقسیم ہند کے وقت چونکہ دریاؤں کے ہیڈ ورکس ہندوستان کی طرف رہ گئے تھے تو ہندوستان نے پاکستان کا پانی روک کر ایک زرعی ملک کو بنجر کرنے کا منصوبہ بنالیاتاکہ پاکستان رحم کی بھیک مانگے اور واپس ہندوستان میں ضم ہوجائے ۔
ہندوستان کی طرف سے پانی بند کیے جانے کی وجہ سے پاکستان میں شدید بحران پیدا ہوا اور نوزائیدہ ریاست پہلے ہی سال گندم پیدا نہ کرپائی ۔پاکستان نے اس سال گندم امپورٹ کرکے گزارا کیا لیکن ہندوستان کی طرف واپس مڑکردیکھنا گوارا نہ کیا ۔پاکستان کا وجود ختم کرنا اور بھارت کو افغانستان تک وسیع کرنا ہندودھرم کا مقصد ہے۔اکھنڈ بھارت کوئی آج کی بات نہیں ہے ۔اس بات کے فیصلے انیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ہندووں کے پیشواؤں نے کردیے تھے۔انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان کو الگ کرنا بھی اسی فیصلے کی کڑی تھی اور آج کے مودی ،دوول اور امت شاہ راج ناتھ وغیرہ تو ان کیے گئے فیصلوں کو نافذ کرنے کی ناکام جدوجہد میں مصروف ہیں لیکن ۔پاکستان بہت آگے بڑھ گیا ہے،بہت مضبوط کرگیا ہے خود کو لیکن ہندوستان اسی سوچ میں پھنس کر رہ گیا ہے کہ جس سوچ کے تحت اس نے انیس سو سینتالیس میں پاکستان کے حصے کے وسائل اس لیے نہیں دیے تھے کہ پیسے نہیں دیں گے تو پاکستا ن واپس آنے پر مجبو رہوجائے گا لیکن پاکستان پر اللہ کا اتنا فضل ہمیشہ ہی رہا ہے کہ اس نے آگے بڑھنے کا راستہ نکالا ہے۔
اس وقت بھی حالات پاکستان کے لیے مشکل بنائے جارہے ہیں ۔آپریشن سندور میں چٹائی گئی دھول ہندوستان کا سانس روکے کھڑی ہے ۔یہ ایک ایسی شکست ہے کہ ہندوستان نے مار بھی کھائی اور رونے بھی نہیں دیا گیا۔کیسی مشکل ہے کہ مودی اپنے گھر میں یہ جنگ جیتنے کا ڈھول بجاسکتا ہے لیکن دنیا کے سامنے جنگ جیتنے کی بات نہیں کرسکتا۔آپ اندازہ لگائیں اس وزیراعظم کی پریشانی اور مشکل کا جو جنگ ہار ا ہے لیکن اس کو تسلیم بھی نہیں کرسکتا اور ہر روز دنیا بھر کے طعنے برداشت کرتا ہے۔ اس لیے اس ہندوبھگت نے مہابھارت چھیڑ رکھی ہے ۔حالانکہ وہ جانتا ہے کہ مہابھارت صرف ایک افسانوی کہانی ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ ایسی کسی جنگ میں کامیابی حاصل کرکے پاکستان کا وجود مٹاسکتا ہے ۔اکھنڈ بھارت اصل میں ایک ’’ پکھنڈبھارت ‘‘ تو ہوسکتا ہے باقی اس کی کوئی حیثیت اور اصلیت نہیں۔
ہندوستان نے پاکستان پر ایک مستقل جنگ مسلط کررکھی ہے یہ نفسیاتی جنگ بھی ہے اور ’’کائینیٹک‘‘ بھی ۔سامنے دکھاوا ہے ،بیانات ہیں اور پیٹھ کے پیچھے دہشتگردوں کی فنڈنگ۔ اب ہندوستان نے اس منصوبے میں افغانستان کو بھی شامل کیا ہے۔تف ہے ایسے افغان بھائی چارے پر جو پاکستان کا کھاتے ہیں اور اسی پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے مہابھارت کا ساتھ دیتے ہیں۔عجیب مخلوق ہے یہ افغانی بھی کہ جس کو گالیاں دیتے ہیں جانا بھی اسی ملک چاہتے ہیں رہنا بھی اسی ملک میں چاہتے ہیں۔ہمارا مسئلہ یہ رہا کہ ہم اسلامی بھائی چارے کے چکر میں ان کو پناہ دے کر اپنے ملک کا نقصان کرواتے رہے اور بھارت نیٹو جنگ کے دوران بیس سال افغانستان پر سرمایہ لگاکر ان کو پاکستان کے خلاف کرنے میں جُتا رہا۔ افغانستان میں اپنے سفارتخانوں کے ذریعے افغان قوم کی پاکستان کے خلاف مسلسل ذہن سازی کے نتائج اب پاکستان بھگت رہا ہے۔جب افغانستان میں حالیہ ’’انقلاب ‘‘ آیا تو بھارت میں اشرف غنی کے جانے پر صف ماتم تھی لیکن ہندوستان نے دوبارہ وہی صف سیدھی کی اور جن کو دہشتگردکہا انہی طالبان کی میزبانی کرنے کی ٹھان لی۔
یہ ایسی قوم ہے ماشاء اللہ کہ جس امریکا کے خلاف بیس سال تک ’’جہاد‘‘ کیا جب وہ افغانستان سے رخصت ہوا تو اسی کے جہاز سے لٹک کر امریکا جانے کے لیے پاگلوں کی طرح رن وے پر دوڑتے دکھائی دیے۔اکثریت اس لالچ میں اسلام آباد آکر ہوٹلوں میں رہنے لگ گئی کہ اگلی فلائیٹ سے شاید امریکا جانے کا چانس مل جائے ۔میں دوہزار بائیس میں ایک شو کے سلسلے میں اسلام آباد جاتا تھا جس گیسٹ ہاؤس میں میں ٹھہرتا تھا اس کے ایک ایک کمرے میں پورا پورا خاندان رہائش پذیر ہوگیا تھا ۔میں نے پوچھا اب تو آپ کا ملک آزادہوگیا ہے اسلامی امارت قائم ہوگئی ہے جس کے لیے آپ نے بیس سال جنگ کی ہے اب کیا مسئلہ ہے تو جواب آتا کہ دفعہ کرو ان طالبوں کو انہوں نے افغانستان کو جہنم بنایا ہو اہے۔ 
مجھے نہیں معلوم وہ خاندان کبھی امریکا جاپائے یا ابھی تک پاکستان میں ہی کسی جگہ رچ بس گئے ہیں لیکن یہ معلوم کہ وہ اس طالبانی رجیم میں واپس افغانستان نہیں جاناچاہتے تھے۔اب یہ طالبان جو شریعت کے دلدادہ ہیں وہ ایک بت پرست قوم کے آلہ کار بن کر برادر اسلامی ملک کیخلاف تلوار کشی کرنے کے لیے کیسے تیار ہوگئے ؟ کیا یہ اسلامی بھائی چارہ سب ڈھونگ ہے؟ کیا ڈالر اور پیسا ہی سب کچھ ہے؟ کیا اجیت دودل کا کہا سچ ثابت کرناضروری ہے کہ طالبان کرائے کے قاتل ہیں؟اب ایک نعرہ مشرقی سرحد سے لگتا ہے کہ پاکستان کو مٹادیاجائے گا تو اس کی ہاں میں ہاں مغربی سرحد سے ملائی جاتی ہے کہ پاکستان ہندوستان کے اور فغانستان کے درمیان ایک ’’سینڈ وچ‘‘ ہے اس کو دونوں ملک کر کھاجائیں گے۔پاکستان افغانستان اور ہندوستان کے نقشے کے درمیان ایک لوہے کا سینڈوچ ہے ۔ایک ایسا سیڈوچ جس کی سرحدیں سیسہ پلائی دیواریں ہیں۔تاریخ انسانی میں ایسا کوئی دانت نہیں بنا جو اس سینڈوچ کو کھاسکے ،اس کو چبا سکے۔ہندوستان80 سالوں سے اس سینڈوچ کو کھانے کے چکر میں بار بار اپنے دانت تڑواچکا ہے اب اگر افغانستان کو بھی شوق ہے تو وہ بھی آزماکر دیکھ لے نتیجہ تندور کا بھی وہی ہوگا جو سندور کا ہوا ہے۔

مزیدخبریں