پاکستان کی سیاست کا یہ سٹائل رہا ہے کہ یہاں شخصیات ہمیشہ جماعتوں سے زیادہ بڑی سمجھی جاتی رہی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ہو، بے نظیر بھٹو ہو یا نواز شریف، ہر ایک کا عروج و زوال ایک کہانی ہے۔ مگر شائد ان کہانیوں میں سب سے زیادہ ڈرامائی اور عبرت انگیز کہانی عمران خان کی ہے۔
ایک ایسا شخص جس نے عوامی امیدوں کا سمندر اپنے پیچھے لگا لیا تھا آج تنہائی اور بے بسی کے سمندر میں ڈوبتا نظر آ رہا ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا، جو کبھی تحریک انصاف کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، وہاں بھی معاملات عمران خان کے ہاتھوں سے تیزی سے پھسلتے جا رہے ہیں۔
وہ بھی ایک وقت تھا کہ جب عمران خان کا ایک بیان ملک کے سیاسی درجہ حرارت کو بدل کر رکھ دیتا تھا، لوگ اس کے انتظار میں ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے تھے، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ چلتے تھے، اور کارکن ہر وقت سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ مگر آج حالات بدل چکے ہیں۔ اب عمران خان کے بیانات پر نہ عوام میں وہ جوش رہ گیا ہے اور نہ اداروں میں وہ اہمیت۔ وہی عمران خان جو کبھی اقتدار کے مرکز میں تھا، آج اپنے ہی بنائے ہوئے دائرے میں قید دکھائی دیتا ہے اور یہ قید محض جسمانی نہیں بلکہ سیاسی تنہائی کی بھی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا جو کبھی اس کا سب سے مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا، اب عمران خان کے لیے ایک امتحان بن چکا ہے۔ وہ صوبہ جو ایک سے زیادہ مرتبہ اس کی پارٹی کو اقتدار میں لے کر آیا آج اسی کے بیانات سے بیزار دکھائی دیتا ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت اب عملاً عمران خان کے کنٹرول سے نکل چکی ہے۔ اس کے پرانے ساتھی ایک دوسرے سے نالاں ہیں بلکہ پارٹی کے اندر مختلف گروہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ عمران خان جیل کے اندر سے اب بھی یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ سب کچھ اسی کے اشارے پر چل رہا ہے مگر زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔
ہمیں یاد ہے کہ عمران خان نے ایک وقت میں ’سول نافرمانی‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ عوام ٹیکس دینا بند کر دیں، بیرون ملک پاکستانی پیسے نہ بھیجیں، تاکہ حکومت گھٹنے ٹیک دے۔ مگر وہ تحریک بری طرح ناکام ہوئی۔عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے قرضوں کے خلاف مزاحمت کی جائے، مگر خود ان کی حکومت بھی انہی قرضوں پر چلتی رہی۔ اب جب وہ اقتدار سے باہر ہے تو وہی قرضے اسے برے لگنے لگے ہیں۔ یہ وہ تضاد ہے جس نے اس کی سیاست کو بری طرح سے نقصان پہنچایا ہے۔
اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا ایک نازک صورتحال سے دوچارہے۔ دہشتگردی پھر سے سر اٹھا رہی ہے، مہنگائی نے لوگوں کو نڈھال کر رکھا ہے، اور صوبے کی مالی حالت بدترین ہو چکی ہے۔ ایسے میں عمران خان کا وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنا اور ایک ایسے شخص کو اس عہدہ پر فائز کرنا کہ جس کی خصوصیت اس کی انتظامی صلاحیتیں نہیں بلکہ وفاق سے محاذ آرائی کرنے کے لیے بڑھک بازی ہے ۔پھر نئی کابینہ کی تشکیل میں رکاوٹیں ڈالنا یہ بات ثابت کرتا ہے کہ عمران خان کی سیاست ملکی یا صوبائی مفادات کے لیے نہیں بلکہ ذاتی انا کی تسکین کے لیے ہے۔
عمران خان کی ذاتی مفاد اور اپنی انا کی تسکین کے لیے کی جانے والی سیاست نے اس کی اپنی پارٹی کے اندر بھی بے یقینی اور مایوسی پھیلا دی ہے۔ جو لوگ پہلے عمران خان کے ہر حکم پر لبیک کہتے تھے، وہ اب دل ہی دل میں سوچنے لگے ہیں کہ شاید خان صاحب حالات کو سمجھ نہیں پا رہے۔ ان کے قریبی ساتھی کہہ رہے ہیں کہ اس وقت پارٹی کو جارحانہ سیاست نہیں بلکہ مفاہمت کی ضرورت ہے، مگر عمران خان اب بھی تصادم کے راستے پر گامزن ہے۔
ریاستی ادارے بھی اب واضح طور پر ان سے فاصلہ رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بیان پر کوئی ردعمل نہیں آتا، نہ کسی دعوے پر تردید۔ گویا عمران خان اب خود اپنے شور میں گم ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ یہ وہی کیفیت ہے جو کبھی الطاف حسین کو لاحق ہوئی تھی۔ وہ بھی ایک وقت میں پورے کراچی پر اثر رکھتا تھا، مگر جب اداروں نے خاموشی اختیار کی، تو اس کی گونج خود ہی مدھم پڑ گئی اور آج کسی کو معلوم بھی نہیں کہ وہ کس حال میں ہے۔ عمران خان بھی اسی راستے پر بڑھ ر ہا ہے۔ اس کی تقاریر، بیانات اور احکامات اب صرف محدود دائرے میں ہی گردش کر رہے ہیں۔
اگر یہ کہا جائے تو زیادہ غلط نہ ہو گا کہ خیبر پختونخوا کے عوام بھی اب عمران خان کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے لیڈر اب بھی ذاتی انا کے گرد گھوم رہے ہیں، تو ان کے دلوں میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ پشاور، مردان، چارسدہ اور سوات کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ،’ہم نے خان صاحب پر دس سال لگا دیے، مگر اب ہماری زندگیاں پہلے سے بھی مشکل ہو گئی ہیں‘۔ وقت کے ساتھ ساتھ عمران خان کا بیانیہ اپنی کشش کھو چکا ہے۔ ’امپورٹڈ حکومت‘ اور’حقیقی آزادی‘ جیسے نعرے اب پرانے لگنے لگے ہیں۔ عوام اب کسی نئے راستے کی تلاش میں ہیں۔ تحریک انصاف کے اندر نئی قیادتیں سر اٹھا رہی ہیں، مگر ان میں وہ جوش نہیں جو عمران خان کے زمانے میں تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان نے خود کسی کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ وہ واحد آواز بننا چاہتاتھا ، اور اب جب وہ خاموش ہے تو پارٹی بھی گونگی ہو چکی ہے۔
سیاسی حقیقت یہی ہے کہ عمران خان اب آہستہ آہستہ غیر متعلق ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے بیانات خبروں کا حصہ ضرور بنتے ہیں مگر اثر نہیں چھوڑتے۔ عوام کی دلچسپی اب معاشی مسائل میں ہے، سیاست میں نہیں۔ خان صاحب کی گرفتاری نے ہمدردی ضرور پیدا کی تھی، مگر وقت کے ساتھ وہ بھی مدھم پڑ گئی ہے۔ اب لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ عمران خان نے اپنے صوبے کے لیے کیا کیا؟ تعلیم، صحت، روزگار اور امن میں کیا تبدیلی آئی؟ یقینا ان سوالات کا جواب خان صاحب کے پاس نہیں ہے۔ ریاست اب اسے چپ کرانے کے بجائے بھلائے جانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔گویا عمران خان کو’خاموش زوال‘ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اور شاید یہی اس کے لیے سب سے تکلیف دہ انجام ہو۔
عمران خان کے لیے ابھی بھی وقت ہے کہ وہ حقیقت کو تسلیم کرے، اپنے بیانیے میں نرمی لائے اور ذاتی انا کو پس پشت ڈال دے ۔ شاید اس طرح وہ سیاست میں دوبارہ سانس لے سکے گا۔ اگر وہ اسی طرح اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے گا تو انجام وہی ہو گا جو الطاف حسین کا ہوا۔سیاست میں غیر متعلق ہونا کسی جیل سے زیادہ سخت سزا ہوتی ہے۔ اور عمران خان کا زوال شاید اسی خاموش سزا کی طرف بڑھ رہا ہے۔
کیا عمران خان خاموش سزا کی طرف بڑھ رہا ہے؟
09:10 AM, 2 Nov, 2025