بینکنگ سیکٹر کو ہیکنگ کا خطرہ: حکومت کا ملک گیر 'سائبر الرٹ' جاری کرنے کا فیصلہ

08:08 PM, 2 May, 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے ورچوئل اجلاس میں مالیاتی شعبے کو درپیش سائبر خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سائبر سیکیورٹی کو قومی سلامتی کا حصہ قرار دے دیا گیا ہے۔
اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ اے آئی (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ڈیجیٹل بینکنگ اور پیمنٹ سسٹمز کو ہیکرز کے لیے آسان ہدف بنا دیا ہے۔ وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ مالیاتی اداروں کو اب روایتی سیکیورٹی سے نکل کر جدید ترین دفاعی نظام اپنانا ہوگا، بصورت دیگر معاشی ترقی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
 وزیر خزانہ نے سٹیٹ بینک اور بینکس ایسوسی ایشن کو ہدایت کی کہ وہ سیکیورٹی فریم ورک کا فوری جائزہ لیں اور پرانے نظام (Legacy Systems) کی کمزوریوں کو دور کریں۔ جاپان اور بھارت میں ہونے والے حالیہ سائبر حملوں سے حاصل ہونے والے اسباق کی روشنی میں پاکستان کی حکمت عملی مرتب کرنے پر اتفاق ہوا۔ ریگولیٹرز اور بینکوں کے درمیان معلومات کے تبادلے (Information Sharing) کو بہتر بنانے کے لیے نئے میکانزم کی منظوری دی گئی۔
وزیر خزانہ نے زور دیا کہ سائبر سیکیورٹی اب محض ایک تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ     مالیاتی انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے فوری، درمیانی اور طویل مدتی پالیسیاں وضع کی جائیں۔    عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔    تمام سٹیک ہولڈرز بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کو یقینی بنائیں۔
اجلاس میں عزم کیا گیا کہ پاکستانی مالیاتی اداروں کو عالمی معیار کے مطابق محفوظ بنایا جائے گا تاکہ ڈیجیٹل معیشت پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

مزیدخبریں