پشاور: خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی/ایڈز کے کیسز میں خطرناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں 2026 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران 481 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
صوبائی محکمہ صحت کے مطابق مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے طبی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور صورتحال کو صحت عامہ کا بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق حیات کے مطابق تازہ کیسز کے بعد صوبے میں مجموعی متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار 281 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 9 ہزار 800 تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق متاثرین میں 7 ہزار 178 مرد، 2 ہزار 381 خواتین اور 235 خواجہ سرا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 15 سال سے کم عمر 487 بچے بھی اس موذی مرض کا شکار ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔
صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوامی سطح پر آگاہی میں اضافہ، احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل اور بروقت تشخیص کو مزید مؤثر بنانا انتہائی ضروری ہے۔