اسلام آباد :پاکستان نے افغانستان کی صورتحال پر برطانوی نمائندے کے ریمارکس کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی نمائندے کا موقف حقائق سے دور اور سرحد کے دونوں اطراف کی سکیورٹی صورتحال سے لاعلمی پر مبنی ہے۔
دفتر خارجہ نے برطانوی نمائندے کے بیان کے جواب میں دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کی مسلسل نرمی اور خیر سگالی کے باوجود افغان جانب سے جارحیت اور دہشت گردی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ افغان طالبان کی حمایت یافتہ ہندوستانی پراکسیز پاکستان کے اندر معصوم شہریوں اور شھداء کے خلاف کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغان فورسز کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کے لرزہ خیز اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 26 مارچ سے اب تک افغان سرحد سے ہونے والی بلا اشتعال گولہ باری کے نتیجے میں 52 شہری شہید ہو چکے ہیں۔ سرحد پار حملوں میں زخمی ہونے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد 84 تک جا پہنچی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی ردعمل میں شہری ہلاکتوں کے دعوے سراسر بے بنیاد اور ناقابلِ اعتبار ہیں۔ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
پاکستان کا برطانوی نمائندے کے بیان پر شدید احتجاج؛ افغان سرحد سے دراندازی کی تفصیلات جاری
03:46 PM, 2 May, 2026