واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی اعلیٰ قیادت کو لکھے گئے خط میں ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کی نوید سناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت تہران کے ساتھ پائیدار امن کے لیے کوشاں ہے، تاہم فوجی آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔صدر ٹرمپ نے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ کے صدر چک گراسلی کو ارسال کیے گئے مراسلے میں موقف اختیار کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جاری مسلح تصادم کو ختم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ خط کے متن کے مطابق "ہماری انتظامیہ خطے میں مستقل امن کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ مکمل ختم ہو گیا۔ جب تک امن کا عمل مکمل نہیں ہوتا، جنگ کا امکان باقی رہ سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کشیدگی میں کمی کو اپنی انتظامیہ کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے، جو تہران کے حالیہ مثبت اشاروں (ثالثی کے لیے پاکستان کے انتخاب) کے بعد سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امن کی کوششیں جاری رہیں گی، لیکن وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ اس خط کا مقصد امریکی مقننہ کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ انتظامیہ ایران کے معاملے پر متحرک ہے اور کسی بڑی جنگ کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دے رہی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ خط ایک طرف تہران کو 'رعایت' دینے کا اشارہ ہے تو دوسری طرف یہ اندرونی سیاست میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش بھی ہے۔ پاکستان کی ثالثی کے اعلان کے بعد، امریکہ کی جانب سے "مسلح کشیدگی ختم" ہونے کا بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بیک چینل رابطے نتائج دینا شروع ہو گئے ہیں۔
'ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کا خطرہ ٹل گیا': صدر ٹرمپ کا امریکی سینیٹ اور سپیکر کو خط
09:48 AM, 2 May, 2026