صرف پاکستان زندہ باد کہتے ہوئے میں ڈر رہا تھا۔۔ ہمارے تمام ادارے پاکستان کا حصہ ہیں چنانچہ جب ہم ”پاکستان زندہ آباد“ کا نعرہ لگاتے ہیں تو اصل میں ہم اپنے ان تمام اداروں کو زندہ آباد کہہ رہے ہوتے ہیں جو اندرونی طور پر کچھ معاملات میں ہماری بے توقیری کا باعث اگر بن بھی رہے ہیں تو مخصوص حالات میں ہمیں ان کی کم از کم ان خدمات کو ضرور سراہنا چاہیے جو خالصتاً پاکستان کے مفاد میں انہوں نے انجام دیں اور یہ کوئی کم خدمات نہیں ہیں ، ہم انڈیا کو بالکل ٹھیک دھمکیاں دے رہے ہیں اور وہ جانتا ہے یہ صرف دھمکیاں نہیں ہیں ، ہم اس کی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی الحمدللہ پوری صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں اور یہ بات ہم اپنے ہتھیاروں یا اپنے اداروں کی کسی طاقت یا صلاحیت کی بنیاد سے زیادہ اس ”جذبہ ایمانی“ کی بنیاد پر کرتے ہیں جس سے ہندوستان بخوبی آگاہ ہے ، یہ درست ہے اس ”جذبہ ایمانی“ سے اپنے بے شمار معاملات درست کرنے کے لیے ہم نے کبھی کام نہیں لیا بلکہ ہمارے خراب معاملات میں ہمارا یہ ”جذبہ ایمانی“ ستو پی کر سویا رہتا ہے ، مگر جب ہمارا گھٹیا دشمن بھارت ہمیں للکارتا ہے ہمارے اپنے بے شمار ذاتی معاملات میں ستو پی کر سویاہوا ہمارا یہ”جذبہ ایمانی“ ہڑبڑا کر اٹھ جاتا ہے ، جو دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتاہے ، چنانچہ ہمیں کم از کم اس حوالے سے اپنے روایتی حریف ہندوستان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ وقتاً فوقتا ًدھمکیاں وغیرہ دے کر ہمارے اس”جذبہ ایمانی“ کو جگا دیتا ہے جو نہ ہمارے جھوٹ بولنے پر جاگتا ہے ، نہ ہماری منافقت پر جاگتا ہے، نہ ملاوٹ و کرپشن پر جاگتا ہے ، نہ ہی کسی کے ساتھ ظلم زیادتی و نا انصافی پر جاگتا ہے ، ہم اپنے جذبہ ایمانی کے بھی شکر گزار ہیں جو کم از کم ہندوستان کی دھمکیوں پر ہی جاگ جاتا ہے ورنہ اس موقع پر بھی وہ اگر سویا رہے ہم اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں ؟ جہاں تک ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کا معاملہ ہے مجھے پورا یقین ہے ہندوستان یہ پنگا باقاعدہ طور پر کسی صورت میں نہیں لے گا ، البتہ چھوٹی موٹی شرارتیں اس کی پہلے بھی چلتی رہی ہیں آئندہ بھی چلتی رہیں گی جس کے منہ توڑ جواب ہم پہلے بھی دیتے رہے ہیں آئندہ بھی دیتے رہیں گے ، زبانی کلامی یا عملی طور پر منہ توڑ جواب بھی ہم اگر نہیں دیں گے ظاہر ہے اس سے ہمارے کردار پر انگلیاں اٹھیں گی کہ ملک کو ہر لحاظ سے کھانے پینے کے باوجود دشمن کو منہ توڑ جواب بھی ہم نہیں دیتے ؟ ، پھر خدانخواستہ یہ م±لک ہمارے ہاتھ سے اگر نکل گیا کھانے پینے کے لیے ہمارے پاس رہ کیا جائے گا ؟ دوسری اہم بات یہ ہے ہم سے جنگ کر کے ہندوستان نے اپنی ترقی برباد کروانی ہے ؟ سو مجھے پورا یقین ہے جنگ نہیں ہوگی جنگ کے نام پر صرف سیاست ہوگی ، پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آتا ہے پاکستان کو اس سے نکالنے کے لیے افواج پاکستان کا کردار ہمیشہ بڑا نمایاں رہتا ہے ، جنرل مشرف کے بے شمار کارناموں یا کرتوتوں سے مجھے نفرت تھی پاکستان میں آئین شکنی کوئی بھی کرے گا صرف ”لفافہ پلاٹ اور پرمٹ پسند صحافی“ ہی ا±س کی حمایت کر سکتے ہیں ، اس معاملے میں ہم نے ڈٹ کر جنرل مشرف کی مخالفت کی اور ا±س کا خمیازہ بھی بھگتا ، لیکن جب اس نے ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ لگایا اور م±کا لہرا کر لگایا ہمیں ا±س کی یہ ادا بہت اچھی لگی ، ورنہ وہ سب سے پہلے”افواج پاکستان“ کا نعرہ بھی لگا سکتا تھا ، میں یہ کہنا چاہتا ہوں”سب سے پہلے پاکستان“ ہی ہونا چاہئے ، پاکستان کو پیچھے رکھ کے خود کو مقدم رکھنے یا سمجھنے کی سوچ نہیں ہونی چاہئے ، پر کیا کریں ہماری سوچ یا فطرت میں خود پسندی اتنی سرایت کر چکی ہے ”سب سے پہلے پاکستان“ اس میں کہیں دکھائی نہیں دیتا ، چلیں سیاسی لوگوں کے اس رویے کی سمجھ آتی ہے ،”زیادہ بڑے سیاسی لوگ“ بھی اسی خود پسندی کا اگر مظاہرہ کریں گے پاکستان کے ساتھ ان کی اصلی محبت کا جو اصلی جذبہ ہے وہ مزید ماند پڑے گا ، سیاسی لوگوں کی خود پسندی کا واقعہ سن لیں ، ایک تقریب میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے سامنے کسی وزیر نے کہہ دیا ”موٹروے حکومت پاکستان کا عظیم کارنامہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا “ ، نواز شریف اپنے اس وزیر سے ناراض ہوگئے کہ اس نے یہ کیوں کہا کہ یہ حکومت پاکستان کا عظیم کارنامہ ہے ا±سے یہ کہنا چاہیے تھا یہ نواز شریف کا عظیم کارنامہ ہے “ ، حالانکہ اس وقت نواز شریف کی حکومت تھی تو ”حکومت پاکستان کا عظیم کارنامہ“ کہنے کا مطلب ظاہرہے یہی تھا ”یہ نواز شریف کا عظیم کارنامہ ہے“ ، پاک فوج زندہ آباد کا نعرہ ہمیں بہت اچھا لگتا ہے مگر پاکستان زندہ آباد کے نعرے کو نظر انداز کر کے یا اس سے پہلے لگے تو عجیب سا لگتا ہے ، اپنے لوگوں سے ہماری گزارش ہے وہ ”پاکستان زندہ آباد ریلیاں“ نکالیں ، پاکستان کے ساتھ اظہار یک جہتی فوج کے ساتھ اظہار یک جہتی ہی سمجھی جائے گی ، انفرادی طور پر کسی کو خوش کرنے سے پاکستان کو مقدم رکھنے کا عمل زیادہ افضل ہے ، البتہ پاک فوج کے لیے ہمارا جذبہ یہی ہے یہ اگر ہماری جانوں اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر سکتی ہے تو اس کی عزت آبرو کے تحفظ کے لیے ہم بھی اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں ، اس کی عزت آبرو کے تحفظ کی زیادہ ذمہ داری عائد بھی اب ہم پر ہی ہوتی ہے ، ان حالات میں یا اس پس منظر میں پی ٹی آئی کے کچھ راہنما اپنی ذاتی نفرتوں پر اگر قابو نہیں پا رہے اس کا نقصان کسی ادارے کو نہیں اس ملک کو ہوگا جس کا ان کا لیڈر دوسری بار وزیراعظم بن کر ا±ن ہی نااہلیوں کا مظاہرہ کرنا چاہتاہے جن نااہلیوں کا مظاہرہ پہلی بار وزیراعظم بن کر پونے چار برسوں تک وہ کرتا رہا ، اگلے روز پی ٹی آئی کی منہ وغیرہ پھٹ راہنما صنم جاوید نے جس گھٹیا انداز میں ہمارے”محافظوں“ پر تنقید کی وہ انتہائی قابل مذمت ہے ، اس طرح کے ٹوئیٹ کر کے وہ شاید اپنے لیڈر عمران خان کو خوش کرنا چاہتی ہیں کہ جیل میں اب وہ اسے صرف اسی طریقے سے ہی خوش کر سکتی ہیں ، ہماری ا±ن سے گزارش ہے اپنی ذاتی نفرتوں پر کچھ عرصے کے لیے قابو پا لیں ، ذاتی نفرتوں کے اظہار کا ایک وقت ایک ماحول ہوتاہے ، اس وقت جو حالات ہیں وہ اپنی فطرت سے باز نہیں آئیں گی اس کا کوئی فائدہ انہیں ، عمران خان یا پی ٹی آئی کو نہیں ہونا ، وہ جتنی چاہیں کوششیں کر لیں گرفتاری کی صورت میں کسی نے انہیں اس جیل یا اس بیرک میں بند نہیں کرنا جس میں عمران خان بند ہے، اس وقت وہ اگر صرف ”پاکستان زندہ آباد“ کا نعرہ ہی لگا دیں عقلمندوں کے لیے ا±ن کا یہی اشارہ کافی ہوگا ، مگر وہ شاید صرف یہ نعرہ لگانا چاہتی ہیں ۔
”وہ والا پاکستان زندہ آباد جس کا وزیراعظم صرف عمران خان ہو“
پاکستان زندہ آباد
09:37 AM, 3 May, 2025