جب چھوٹے لوگ بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہو جائیں تو بڑے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں گجرات کے شہر احمد آباد کے ریلوے سٹیشن پر چائے بیچنے سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے نریندر مودی تیسری دفعہ انڈیا کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد بھی وزیراعظم ہاو¿س چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ ایک سیاستدان اگلے الیکشن کا سوچتا ہے جبکہ ایک لیڈر اگلی نسل کا سوچتا ہے۔ اس مفروضے کے تناظر میں مودی صاحب کو دیکھیں تو وہ محض ایک الیکشن کا سوچتے ہیں اگلی نسل کا وہ اس لیے نہیں سوچتے کہ ان کی اپنی اگلی نسل نہیں ہے کیونکہ انہوں نے عمر بھر شادی نہیں کی اور اپنے آپ کو انتہا پسند ہندو تنظیم RSS کے لیے وقف کر رکھا ہے یہ وہ تنظیم ہے جو بابری مسجد کی شہادت اور 2000 مسلمانوں کے قتل عام کی ذمہ دار ہے جس کی بنا پر امریکہ میں مودی کے داخلہ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
انڈیا میں مرحلہ وار صوبائی انتخابات ہوتے ہیں یہ ریاستی انتخابات حکمران جماعت کے لیے اس لیے اہم ہوتے ہیں کہ منتخب ہونے والی اسمبلی نے اپنے صوبے سے راجیہ سبھا یعنی سینیٹ کے ممبران کو چننا ہوتا ہے بی جے پی بے چین ہے کہ اس سال بہار اور دیگر صوبوں کے انتخابات میں وہ ہر قیمت پر جیتنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ تینوں عام انتخابات مودی نے پاکستان دشمنی کی بنا پر جیتے ہیں اور اس وقت ایک جعلی واقعہ کے ذریعے پاکستان پر الزام لگا کر وہ دراصل 2029ءکے عام انتخابات بھی جیتنے کی راہ ہموار کرنا چاہتا تھا۔
ہندوستان امن پسند ملک نہیں ہے۔ بھارت کے جتنے ہمسایہ ممالک ہیں ان سب کے ساتھ انڈیا کے سرحدی تنازعات کوئی راز کی بات نہیں۔ لداخ بارڈر پر انڈیا اور چائنا کے درمیان طے پایا تھا کہ لڑائی سے بچنے کے لیے دونوں طرف سے فوجوں کے پاس آتشیں اسلحہ نہیں ہو گا اور وہ ڈنڈوں سے سرحد کی نگرانی کریں گے چند سال پہلے آپ کو یاد ہو گا کہ چینی فوجیوں نے انڈین فوجیوں کو ڈنڈے مار مار کر 50 سے زیادہ انڈین فوجی مار دئیے کیونکہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ چائنا کے علاوہ پاکستان بنگلہ دیش سری لنکا بھوٹان اور سب کے ساتھ انڈیا کا تاریخی طور پر کوئی نہ کوئی سرحدی تنازع آج بھی چل رہا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ سارے ممالک غلط ہوں اور بس انڈیا صحیح ہو۔
پہلگام واقعہ کا اصل پس منظر یہ ہے کہ انڈیا یہ گراو¿نڈ بنا رہا تھا کہ اس طرح کا واقعہ پلانٹ کر کے وہ آزاد کشمیر پر حملہ کر دے اور اس سے بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح زبر دستی اپنا حصہ بنا لے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے اور نہ ہی اتنا سادہ ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جا کر جنگ کرنا جہاں کے مقامی لوگ آپ کی فوج سے نفرت کرتے ہوں وہاں آپ بارڈر پار کر کے لڑنا تو دور کی بات ہے اپنی سائیڈ پر بھی قبضہ مستحکم نہیں کر سکتے۔ مقبوضہ جموں کشمیر اس کی مثال ہے۔
پہلگام سے جو واقعے کی تفصیلات مغربی خبر رساں ایجنسیاں رپورٹ کر رہی ہیں اس کے مطابق سیاحتی مقام پر کوئی سکیورٹی سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ یہ انڈیا کی پالیسی ہے کہ کشمیر کے سیاحتی مقامات پر فوج یا پولیس کو نہ دکھایا جائے تا کہ زبردستی قبضے کا تاثر زائل کیا جا سکے۔ جہاں واقعہ ہوا وہاں سے فوج کا کیمپ 5 کلو میٹر اور پولیس سٹیشن 7 کلو میٹر کے فاصلے پر تھا دہشت گرد 30 منٹ تک فائرنگ کرتے رہے اور اپنا کام ختم کر کے بلا روک ٹوک وہاں سے چلے گئے۔ پولیس اور فوج ایک گھنٹے کے بعد وہاں پہنچے۔ آپ انڈین فوج اور پولیس کا ریسپانس ٹائم نوٹ کریں کہ دہشت گردوں کی روانگی کے ایک گھنٹے تک وہاں کوئی نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین پولیس نے وہاں سیاحتی مقام پر سیاحوں کو Riding سروس دینے والے کشمیری مسلمانوں کو فون کیا ور اسے پوچھا کہ وہاں کچھ ہوا ہے ہمیں چیک کر کے بتاو¿۔ وہ بندہ اس وقت جائے واردات سے 3 کلو میٹر دور اپنے گھر میں تھا اس کا کہنا ہے کہ میں جب وہاں پہنچا تو ہر طرف خون ہی خون تھا مگر پولیس اور فوج کا کوئی ایک بھی سپاہی نہیں تھا جب انہیں بتایا گیا کہ دہشت گرد جا چکے ہیں تو پھر پولیس آئی تب تک ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکی سیکرٹری خارجہ کی مداخلت کے بعد اب جنگ کا خطرہ ٹل چکا ہے لیکن انڈیا کی طرف سے زبانی کلامی فائرنگ جاری ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انڈیا نے اپنی ویسٹرن کمانڈ کے سربراہ کو تبدیل کر دیا ہے کہا جا رہا ہے کہ اس نے پاکستان پر حملہ کرنے سے انکار کیا تھا۔ اسی طرح فضائیہ کے ایک ایئر مارشل کو بھی تبدیل کیا گیا جو یہ کہتا تھا کہ ہمیں ابھی نندن والی غلطی دوبارہ نہیں دہرانی چاہیے۔ پاکستان کو انڈیا پر فضائی جنگ میں حاصل کی گئی برتری ابھی برقرار ہے۔
گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہر طرف کے ڈائیلاگ منقطع ہیں جس کی وجہ سے نریندر مودی حکومت ہے۔ سفارتی تعلقات میں اتنا طویل بلیک آو¿ٹ آج تک نہیں ہوا۔ 2029ءتک مودی وزیراعظم ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح رہے گا اس کے بعد دونوں ملکوں میں بات چیت کی کوئی امید کی جا سکتی ہے۔ مودی کی ساری سیاست ہی پاکستان مخالف بیانات کی وجہ سے چلتی ہے۔ سرحد پار سے یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ ہم پاکستان کو غزہ بنا دیں گے۔ اس سے بڑی حماقت شاید کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ نہ تو انڈیا اسرائیل ہے اور نہ ہی پاکستان فلسطین ہے۔ انڈیا کو اس بات کا بڑی اچھی طرح پتہ ہے یہی وہ خوف ہے جو انہیں پاکستان پر حملہ کرنے سے روک رہا ہے۔ یہ خوف انڈیا پر طاری رہے گا۔
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
09:36 AM, 3 May, 2025