بھارت میں فکری تقسیم اور اسرائیل میں آگ

09:36 AM, 3 May, 2025

اے بکھری ہوئی بھٹکی ہوئی امت خوش ہو جا۔ جس غیبی مدد کا تجھے انتظار تھا وہ آ پہنچی۔ لیکن رب کائنات کے اپنے ہی انداز، اپنے ہی طریقے ہیں۔ جو انسانی عقل سے ماورا ہیں۔ جس میں بصیرت والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اس وقت کرہِ ارض پر دو مقام اہل باطل کے خاص نشانہ ستم پر ہیں۔ بھارتی و کشمیری مسلمان اور غزہ کے مسلمان۔ جب بھارتی و کشمیری مسلمانوں کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد پاکستان ہی ہے۔ اسی طرح پاکستان سے مراد بھارتی و کشمیری مسلمان ہی ہیں۔ یہ بیانیہ غزوہ ہند کے سربستہ رازوں کی ایسی کھلی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن ہی نہیں۔ اسرائیل میں لگنے والی آگ بے قابو ہو چکی ہے۔ اسرائیلی اور بین الاقوامی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے اسرائیل بھر سے فائر فائٹنگ طیارے، ہیلی کاپٹرز، گاڑیاں دن رات کام کر رہی ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ فوجی یونٹوں کو بھی ہنگامی حالت میں تیار رہنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ آگ یروشلم کی مرکزی شاہراہ کے ساتھ ساتھ اس کے قریب کی بستیوں تک پہنچ چکی ہے۔ 9 یہودی بستیوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ دس ہزار سے زائد افراد کو نکال لیا گیا ہے۔ تمام تر دستیاب وسائل جھونکنے کے باوجود آگ رکنے کی بجائے پھیلتی جا رہی ہے۔
 آگ نے 20 مربع کلومیٹر علاقے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ نسل پرست ریاست اسرائیل، آگ (اللہ کا عذاب) کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہو چکی ہے اور قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فائر فائٹنگ فورس کے کمانڈر نے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی ہولناک آگ قرار دیا ہے۔ یہودی آگ کی شدت کو برداشت نہیں کر پا رہے۔ سیکڑوں ہسپتال میں داخل ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ اسرائیل کو اپنے یوم آزادی کی تمام تقریبات کو منسوخ کرنا پڑا۔ آگ کی لپٹیں اس قدر اونچی اٹھ رہی ہیں گویا کہ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ زمین یا پھر آسمان سے ہزاروں ٹن وزنی آگ کے بموں کی برسات ہو رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے آگ سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین سے مدد کی اپیل کر دی ہے۔ فرانس، یونان، اٹلی، کروشیا، سپین اور رومانیہ کی جانب سے مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
اس ہولناک منظر نامے میں دو پہلو بصیرت والوں کے لیے غور و فکر کے متقاضی ہیں۔ یہ آگ اس وقت لگی جب غزہ میں جہنم واصل ہونے والے یہودی فوجیوں کی یاد میں تقریبات منائی جا رہی تھیں۔ مقبوضہ بیت المقدس اور تل ابیب کے درمیان لگنے والی آگ نے ہزاروں (غرقد) کے درختوںکو جلا کر راکھ کر دیا۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ” قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور انہیں قتل کر دیں یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپے ہوں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے عبداللہ یہ یہودی میرے پیچھے ہے آﺅ اور اسے قتل کر دو سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے“ (صیحح مسلم جلد دوم 28238)۔
دوسری جانب بھارت میں 78 سال کے دوران پہلی مرتبہ تین حیرت انگیز تبدیلیاں آئی ہیں۔ 1۔ بھارتی عوام نے پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ 2۔ بھارتی فوج پر حملوں سمیت اس کی افواج میں تقسیم کی دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ 3۔ 78 سال سے جبر و استبداد، خوف و ہراس کی چکی میں پستے ہوئے اور وحشیانہ نسل کشی کا سامنا کرتے ہوئے مسلمانوں کا اچانک اٹھ کھڑا ہونا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانا۔ اتنی حیران کن فکری تبدیلی جس کا دو ہفتے قبل کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ جس نے ”اکھنڈ بھارت فاشسٹ نظریے“ کے سرغنوںمیں کھلبلی بجا دی ہے، راتوں کی نیند اُڑ چکی ہے۔ ”فاشسٹ نظریہ“ زمین بوس ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ راقم کئی سال سے انہی صفحات پر ببانگ دہل کہتا چلا آ رہا ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی اسٹریٹجک کمزوری وہاں کے کروڑوں کی تعدا میں بسنے والے مسلمان ہیں ۔ صرف ان کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے۔ سچائی اور عدل جس کا اوڑھنا بچھونا ہو۔
اسرائیل میں لگنے والی آگ اور بھارت میں حیران کن فکری تبدیلیاں، بیک وقت ان دونوں واقعات کا رونما ہونا۔ مایوسی و ذلت خواری کا شکار امت کو سمجھانے کے لیے بیان کی گئی حدیث مبارکہ کے تناظر میں مستقبل میں ملنے والی فتوحات کا کہیں پیشگی اشارہ تو نہیں؟۔ سیدنا ثوبانؓ نے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ” میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم سے دور کر دیا ہے، ایک گروہ وہ جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور دوسرا وہ جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہو گا“۔
جو رب کائنات دشمنوں کو سزا دے کر غیبی مدد کرنے پر قادر ہے۔ کیا وہ ہماری بد اعمالیوں پر جھنجوڑ نہیں سکتا؟۔ یہ دونوں واقعات واضح اشارہ ہیں کہ مسلمانوں سنبھل جاﺅ، ایک دوسرے کا خون بہانا بند کرو۔ دلوں، سوچوں، فکروں و نظریات کو سیاسی، لسانی صوبائی و مسلکی تعصب، بغض، حسد اور کینہ جیسے افعال قبیح سے مکمل پاک کرو اور اپنے اصل کی طرف (اطیعو اللہ واطیعو الرسول، لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة ، ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین ”قرآن وسنت“) کی طرف لوٹ آﺅ۔ فتوحات تمہاری منتظر ہیں۔ اسرائیل میں لگنے والی آگ کے اس پہلو کو ہرگز نظرانداز مت کرنا اے امت: کہ بیت المقدس کے قریب لگنے والی آگ کہیں بیت المقدس کو منہد م کرنے کی دجالی سازش تو نہیں؟۔

مزیدخبریں