جنگی جنون اور بھارت کی حالت زار

09:33 AM, 3 May, 2025

بھارت ایک ایسا ملک ہے جو دنیا کے سب سے بڑے جمہوری نظام کا دعویدار ہے، لیکن اس کی اندرونی حالت، عدالتی نظام، علیحدگی پسند تحریکیں، معاشرتی تضادات، اور ہمسایہ ممالک کے خلاف جنگی بیانیہ اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ یہ سب عوامل بھارت کو اندرونی طور پر کھوکھلا کر رہے ہیں، جب کہ بھارتی حکومت اپنے اندرونی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتی ہے اور سرحدوں پر کشیدگی بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔
بھارت میں درجنوں علیحدگی پسند تحریکیں مختلف ریاستوں اور علاقوں میں سرگرم ہیں۔ جموں و کشمیر کی تحریک آزادی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتی رہی ہے، لیکن شمال مشرقی ریاستیں جیسے ناگالینڈ، آسام، منی پور اور میزورام میں بھی مسلح گروہ دہائیوں سے علیحدگی یا خودمختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پنجاب میں خالصتان تحریک اگرچہ نسبتاً کمزور ہو چکی ہے، لیکن اس کے نظریاتی حامی اب بھی ملک کے اندر اور باہر سرگرم ہیں۔ جنوبی بھارت میں تامل قوم پرستی اور دراوڑی تحریکیں وفاقی نظام کے خلاف ناراضی کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ یہ سب تحریکیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بھارت کا ریاستی ڈھانچہ مختلف قومیتوں، زبانوں اور ثقافتوں کو یکجا رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ جہاں ایک طرف ثقافتی جبر، سیاسی استحصال اور معاشی ناانصافی ہے، وہیں دوسری طرف سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی بھی ان تحریکوں کو تقویت دیتی ہے۔
اگست 2024تک بھارت میں تقریباً 5.84 کروڑ مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ سپریم کورٹ میں 80,000 ہائی کورٹس میں 6.2 ملین اور ضلعی و ماتحت عدالتوں میں 44 ملین سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف عدالتی نظام کی ناکامی کا ثبوت ہیں بلکہ عام آدمی کو انصاف کی عدم دستیابی کا بھی آئینہ ہیں۔ ہزاروں لوگ دہائیوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ حکومت کی جانب سے بے تحاشا مقدمات کا اندراج، ججوں کی کمی اور فرسودہ قانونی ڈھانچے نے اس بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
بھارتی حکومت نے کئی بار پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے، جن میں اوڑی حملہ، پلوامہ حملہ اور ممبئی حملے نمایاں ہیں۔ یہ الزامات اکثر ایسے وقت پر سامنے آتے ہیں جب بھارت کو اندرونی طور پر کسی بحران کا سامنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، پلوامہ حملے کے بعد بھارتی حکومت نے انتخابی ماحول میں جنگی فضا پیدا کی اور "سرجیکل سٹرائیک" کے دعوے کیے۔ بعد میں ان دعوﺅں پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے گئے، لیکن بھارت میں ان بیانیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے خوب استعمال کیا گیا۔ پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ثبوت پیش کیے جائیں۔
2024 ءاور 2025ءکے دوران پاک بھارت تعلقات سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ سفارتی سطح پر بات چیت معطل ہے، تجارت تقریباً بند ہو چکی ہے اور لائن آف کنٹرول پر وقفے وقفے سے کشیدگی دیکھنے میں آتی ہے۔بھارت میں بی جے پی حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ہندو قوم پرستی کا رجحان مزید بڑھا ہے، جس کے اثرات اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں پر واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بھی یہی نظریاتی شدت آڑے آتی ہے۔ دوسری جانب، پاکستان نے بارہا مذاکرات کی پیشکش کی ہے تاکہ تمام تنازعات، بشمول مسئلہ کشمیر، کو پرامن طور پر حل کیا جا سکے لیکن بھارت کی جانب سے مسلسل سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا نے جنگی بیانیے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت سے ٹی وی چینلز عوام کو اشتعال دلاتے ہیں اور پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مواد نشر کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عوامی رائے متاثر ہوتی ہے بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ بعض میڈیا ادارے ریاستی بیانیے کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں غدار قرار دیا جاتا ہے یا حکومتی دباﺅ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بھارت میں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ لاکھوں گھرانے بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ بے گھر افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے، جو فٹ پاتھوں، ریلوے سٹیشنوں یا جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ غربت، بے روزگاری اور تعلیم کی کمی نے بھارت کو ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جسے صرف میڈیا کی جنگی مہم جوئی یا پاکستان مخالف بیانات سے نہیں چھپایا جا سکتا۔
المختصر بھارت آج جس راہ پر گامزن ہے، وہ اسے اندرونی استحکام سے مزید دور لے جا رہی ہے۔ علیحدگی پسند تحریکیں، عدالتی بحران، غربت اور فرقہ وارانہ تقسیم ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز کرنا بھارت کےلئے خطرناک ہو گا۔ پاکستان پر الزامات لگا کر یا جنگی بیانیہ تشکیل دے کر ان مسائل کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بھارت واقعی ایک عظیم جمہوریت بننا چاہتا ہے تو اسے پہلے اپنے داخلی مسائل کا سامنا کرنا ہو گا، اور ہمسایوں کے ساتھ امن اور احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔

مزیدخبریں