3مئی ۔آزادی صحافت کا عالمی دن 

09:32 AM, 3 May, 2025

آزادی صحافت کا عالمی دن 3مئی کو اقوام متحدہ کے حکم پر ہرسال دنےا کے بےشتر ممالک مےں دھوم دھام سے مناےا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ مےں پاس ہونے والی قراردادوں کو حکم نہےں کہا جاتا لےکن اِس کالم مےں مندرجہ بالا جملے مےں اقوام متحدہ کی قرارداد کی بجائے اقوام متحدہ کے حکم کا لفظ استعمال کےا گےا ہے۔ ےہ لکھنا اس لیے ضروری تھا کہ مغربی ممالک جن قراردادوں پر عمل کرانا چاہتے ہےں ےا اُن کے بارے مےں شعور اجاگر کرنا چاہتے ہےں اُس پر کچھ نہ کچھ عمل ضرور ہوتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی وہ قراردادےں جو مغربی ممالک کے مفاد مےں نہےں ہوتےں، اقوام متحدہ کی المارےوں مےں پڑی دےمک کی نذر ہونے کی منتظر رہتی ہےں۔ انہی مےں اقوام متحدہ کی اےک تارےخی قرارداد بھارتی مقبوضہ کشمےر مےں استصوابِ رائے کے حوالے سے بھی ہے۔ صحافت کی داستان بھی بڑی عجےب ہے۔ دنےا مےں صحافت مذہبی پےغامات ےا سپاہ سالار کے احکامات پہنچانے کے لیے اےجاد ہوئی لےکن ےہ اےجاد فرعون کے گھر موسیٰؑ کی پرورش کی طرح ثابت ہوئی۔ رفتہ رفتہ ڈکٹیٹروں اور انتہاپسندوں کو آزادی صحافت پھن پھےلاےا ناگ محسوس ہونے لگی۔ صحافت کا عالمی دن منانے کا مقصد ”آزادی صحافت کے لیے شعور اجاگر کرنا اور حکومتوں کو آزادی اظہار کے حق کا احترام کرنے اور اسے ےقےنی بنانے کا فرض ےاد کرانا ہے“۔ پاکستان مےں بھی آزادی صحافت کا دن پوری صحافتی طاقت کے ساتھ مناےا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں آزادی صحافت غضب ناک ہے لےکن حےرت ناک نہےں کےونکہ تارےخ عالم مےں سچ بولنے اور سچ لکھنے کی سزا ہمےشہ اےک سی ہی رہی ہے۔ صحافت شعور کا نام ہے۔ شعور چےز ہی اےسی ہے جس کو آجاتی ہے اُسے چےن سے بےٹھنے نہےں دےتی اور جس کے خلاف آتی ہے وہ بھی چےن سے زندگی نہےں گزارتا جس کی پاکستان میں بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان کی صحافت مےں آزادی صحافت کے شعور کا سب سے پہلا اظہار پاکستان کے قےام سے تےن دن پہلے ہوا جب بانی پاکستان قائداعظمؒ محمد علی جناح نے پاکستان کے لیے آئےن ساز اسمبلی مےں 11 اگست 1947ءکو اپنی تارےخی تقرےر کی۔ اُسی شام روزنامہ ڈان کے اےڈےٹر الطاف حسےن کو قائداعظمؒ کی تقرےر کے بعض حصے شائع نہ کرنے کا خفیہ آرڈر آےا۔ اس آرڈر کے خلاف ایڈیٹر کا انکاری ردعمل پاکستان مےں آزادی صحافت کی ابتدا ٹھہرا۔ نےل آرمسٹرانگ جب چاند پر اترا تو اُس نے کہا ”اےک انسان کا ےہ چھوٹا سا قدم انسانےت کے لیے اےک بڑی چھلانگ ہے“۔ پاکستان مےں آزادی صحافت کے چاند پر روزنامہ ڈان کے اےڈےٹر الطاف حسےن کا وہ پہلا قدم ملک مےں آزادی صحافت کا پکا پتا دے گےا۔ ےہ علےحدہ بات کہ پاکستانی صحافت کو اس پتے تک پہنچنے کے لیے لمبا، کٹھن اور جان لیوا سفر طے کرنا پڑرہا ہے۔ صحافت اور صحافےوں پر چھوٹے بڑے شب خون کے واقعات مےں اےوب خان کے دور کی وہ فوجی چڑھائی ناقابل فراموش ہے جس مےں اخبارات کے دفاتر پر قبضہ کےا گےا تھا۔ ےہ کارروائی دشمن کی چھاﺅنی پر قبضے کی کارروائی جےسی تھی جس میں اخباری دفتروں پر شب خون کے لیے آدھی رات کا وقت مقرر کےا گےا اور باوردی سپاہےوں نے اخباری عمارت کے ہرکونے مےں اندھیرے میں خاموشی سے اپنی پوزےشنےں جمالےں۔ اےوب خان اخبارات کے خلاف فوجی کاروائی مےں جےت گئے لےکن صحافت نہےں ہاری۔ پاکستان مےں مارشل لاءہو ےا جمہورےت، صحافی اور صحافت پوری طرح کسی کو راس نہےں آتی۔ صحافےوں کو رام کرنے کے لیے سخت طرےقوں کے ساتھ نرم طرےقوں کا بھی استعمال شروع کردےا گےا۔ اس مےں بعض صحافےوں کو پلاٹ اور رقم کے ذرےعے اپنی طرف متوجہ کےا گےا۔ اس کے علاوہ قوم پرست اور مذہبی جماعتوں نے بھی صحافت مےں اپنے نمائندے پےدا کرلیے۔ بعض صحافی گوےا صحافی کی بجائے سےاسی کارکن بن گئے۔ پاکستان مےں صحافت نے سنہ 2002ءکے بعد ناقابل کنٹرول طاقت حاصل 
کر لی جب ہرطرف الےکٹرانک مےڈےا چمکنے لگا۔ الےکٹرانک مےڈےا مےں خواتےن کو بھی بہت مواقع ملے جنہوں نے صحافت مےں اعلیٰ مقام حاصل کےا۔ پاکستان کے کم از کم بڑے شہروں مےں مےڈےا اب اتنا طاقتور ہوچکا ہے کہ اُسے آسانی سے چےلنج نہےں کےا جاسکتا۔ اس کی وجہ صحافتی تنظےموں اور پرےس کلبوں کا پرواےکٹو ہونا ہے۔ مےڈےا کی مضبوطی کے ساتھ کچھ مےڈےا پرسنز کے اطوار بھی بدل گئے ہےں۔ اگر اُن کا کوئی تجزےہ درست ثابت نہ ہوتو وہ اپنا تجزےہ بدلنے کی بجائے حالات کو بدلنے کے درپے ہو جاتے ہےں۔ کچھ مےڈےا پرسنز کا روےہ اےسا ہوگےا ہے جےسا کہ کمےونسٹ فلسفے مےں استحصال کے خلاف اکٹھے ہونے والے غرےب مزدوروں کے لےڈر کچھ عرصے بعد خود استحصال کرنے والے بن جاتے ہےں۔ کچھ صحافےوں کی باڈی لےنگوئج سے پتا چلتا ہے کہ جن غےرجمہوری طاقتوں کے خلاف وہ آواز بلند کررہے ہےں اُن غےرجمہوری طاقتوں کے مزاج اور اِن صحافےوں کے مزاج مےں کوئی فرق نہےں رہا۔ ےعنی اِن دونوں طاقتوں کے درمےان لڑائی محض اناپرستی کی ہے۔ ٹاک شوز مےں اکثر ےکسانےت آچکی ہے مگر کئی اےنکر پرسنز کے ٹی وی سکرےن پر حاضر رہنے کے رےکارڈ پر رےکارڈ قائم ہو رہے ہےں۔ ہمارے ہاں عام آدمی الےکٹرانک مےڈےا کے اےسے پروگراموں سے بور ہوکر کےا سوچ رہا ہے؟ اُسے ےوں بےان کےا جا سکتا ہے۔ ”اےک ٹی وی صحافی اےک کسان کا انٹروےو لے رہا تھا۔ صحافی: آپ بکرے کو کےا کھلاتے ہےں؟ کسان: سےاہ ےا سفےد کو؟ صحافی: سفےد کو۔ کسان: گھاس۔ صحافی: اور سےاہ کو؟ کسان: اسے بھی گھاس۔ صحافی: آپ ان بکروں کو باندھتے کہاں ہیں؟ کسان: سےاہ ےا سفےد کو؟ صحافی: سفےد کو۔ کسان: باہر کے کمرے مےں۔ صحافی: اور سےاہ کو؟ کسان: اسے بھی باہر کے کمرے مےں۔ صحافی: انہےں نہلاتے کس طرح ہیں؟ کسان: کسے سےاہ ےا سفےد کو؟ صحافی: سےاہ کو۔ کسان: جی پانی سے۔ صحافی: اور سفےد کو؟ کسان: جی اسے بھی پانی سے۔ صحافی کا غصہ ساتوےں آسمان پر پہنچ گیا۔ صحافی بولا: جب دونوں کے ساتھ سب کچھ اےک جےسا کرتے ہوتو مجھے باربار کےوں پوچھتے ہوکہ سےاہ ےا سفےد؟ کسان: کےونکہ سےاہ بکرا مےرا ہے۔ صحافی: اور سفےد بکرا؟ کسان: وہ بھی مےرا ہے۔ صحافی بے ہوش ہوگےا۔ ہوش آنے پہ کسان بولا ”اب پتا چلا جب تم اےک ہی نےوز کو سارا دن گھما پھرا کے دکھاتے ہوتو ہمارا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ 

مزیدخبریں