مودی کے خواب 

09:32 AM, 3 May, 2025

خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی کیونکہ ایک تو یہ انسان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے اور پھر اس پر کسی قسم کا کوئی خرچہ نہیں آتا۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی چونکہ شروع سے ایک انتہاپسند ذہنیت کے مالک ہیں اور یہ کوئی ہماری ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ ان کا ماضی اس قدر گھناﺅنا ہے کہ وزیراعظم بننے سے پہلے امریکہ میں ان کے داخلے پر پابندی تھی اور یہ امریکہ میں داخل نہیں ہو سکتے تھے لیکن جب یہ ہندوستان کے وزیراعظم بنے تو پھر مجبوری کے تحت امریکہ کو یہ پابندی ہٹانا پڑی لیکن ظاہر ہے کہ وزیراعظم بننے سے نہ تو فطرت بدلتی ہے اور نہ ہی انسان کا مزاج بدلتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب کبھی مودی سرکار کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو وہ اس سے توجہ ہٹانے کے لیے ہندوستان میں کوئی دہشت گردی کی واردات کر کے اس کا الزام پاکستان پر لگا دیتے ہیں لیکن اس بار وہ ایک تیر سے کئی شکار کرنے نکلے تھے لیکن لگ ایسے رہا ہے کہ مودی نے اس بار جو خواب دیکھے ہیں وہ ضرب تقسیم ہو کر بیک فائر ہو کر مودی سرکار کے لیے درد سر بن سکتے ہیں اس میں تو کوئی شک نہیں اور پاکستان بین الاقوامی برادری کے سامنے اس بات کے ثبوت بھی رکھ چکا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہے ابھی حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے دنیا کے سامنے بھارتی دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت شواہد کے ساتھ رکھ دیئے ہیں لیکن بھارت اب تک پہلگام واقعے کا کوئی ایک ثبوت بھی دنیا کے سامنے نہیں رکھ سکا اور اب تو بی بی سی جیسے بین الاقوامی نشریاتی ادارے نے بھی پہلگام واقعہ پر ہندوستان کے جھوٹ کی قلعی کھول دی ہے۔ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے مودی سرکار نے پاکستان میں جس طرح دہشت گردی کی سرپرستی کی اور پھر اس کے بعد جس طرح خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں دہشت گردی شروع ہوئی اور جس طرح جعفر ایکسپریس کا واقعہ ہوا اور اس میں جس طرح دہشت گرد سیٹلائٹ فون سے اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے جو کہ سب کے سب را کے ایجنٹ تھے تو اس کے بعد مودی سرکار 71 ءکی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی مکتی باہنی پارٹ ٹو کی تلاش میں تھی اور کچھ بدبخت سوشل میڈیا پر ہندوستان کے حق میں بول بھی رہے ہیں لیکن ہوا یہ کہ پاکستان میں تو کسی مکتی باہنی کا امکان نہیں لیکن ہندوستان نے اگر اس طرح کا ایڈونچر کیا تو یہ اس کے لیے مس ایڈونچر بن جائے گا اور ہندوستان میں ایک سے زائد جگہ مکتی باہنی لڑنے کے لیے نکل آئیں گی۔
یہ کوئی ہماری ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت ہے خالصتان تحریک کے رہنما گر پتونت سنگھ نے اپنے ایک سے زائد بیانات میں انڈیا کو دو ٹوک انداز میں متنبہ کیا ہے کہ اگر بھارت پاکستان سے جنگ کرتا ہے تو اسے بھارتی پنجاب میں سکھوں سے لڑ کر پاکستان کے پنجاب پر حملہ کرنا پڑے گا اور پنجاب کے سکھ یہ کام نہیں کرنے دیں گے بلکہ انہوں نے ہندوستان کی فوج میں سکھ اہلکاروں کو کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کی صورت میں وہ لڑنے سے انکار کر دیں گر پتونت سنگھ خالصتان تحریک کے رہنما ہیں اور ان کا یہ بیان پوری خالصتان تحریک کا بیانیہ ہے ہندوستانی پنجاب میں سکھ برادری کے اندر خالصتان تحریک کی اچھی خاصی حمایت پائی جاتی ہے اور اگر پنجاب اور بھارتی فوج کے سارے نہیں لیکن 25فیصد سکھوں نے بھی لڑنے سے انکار کر دیا تو مودی سرکار جو خواب دیکھ رہی ہے ان کے چکنا چور ہونے کی آوازیں اس قدر تیز اور دیر پا ثابت ہوں گی کہ پوری دنیا میں ایک عرصے تک ان کی گونج سنائی دیتی رہے گی اس کے علاوہ جس فوج میں بددلی پھیل جائے تو وہ کیسے لڑ سکتی ہے ہندوستان نے اپنے نادرن کمان کے لیفٹیننٹ جنرل ایم ای سچندر کمار کو پاکستان سے جنگ کرنے سے انکار پر برطرف کرنے کے بعد اب حکم عدولی پر فضائیہ کے وائس چیف آف ایئر سٹاف ایئر مارشل ایس پی دھار کو بھی عہدہ سنبھالنے کے صرف سات ماہ بعد ہی ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے یہ سب باتیں ان لوگوں کے لیے یقینا عبرت کا سامان ہے کہ جو پاکستان میں رہ کر حالت جنگ میں افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے سے باز نہیں آ رہے لیکن خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ افواج پاکستان تو اپنے چیف کی قیادت میں متحد ہیں لیکن انڈین آرمی کی حالت پتلی نظر آ رہی ہے۔
بھارتی پنجاب کی یہ صورتحال ہے تو دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھی مجاہدین اور وہاں کے عوام ہندوستانی حکومت کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے ہیں اور اگر ہندوستان پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی گڑبڑ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان کی افواج بالکل وہی کردار ادا کر سکتی ہیں کہ جو 1971 ءمیں ہندوستان کی فوج نے مکتی باہنی کی مدد کے لئے کیا تھا لیکن اس بار ایک تو میدان بدل جائیں گے اور دوسرا یہ کام ایک جگہ نہیں بلکہ دو جگہ یہ کام ہو سکتے ہیں اور خدا نے چاہا تو اتنی سرعت کے ساتھ یہ کام ہوں گے کہ ہندوستان کو سوچنے کا موقع بھی نہیں ملے گا مودی سرکار کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو رہا ہے کہ اس نے انتہائی جلد بازی میں پہلگام واقعے کا سارا ملبہ پاکستان پر تو ڈال دیا ہے لیکن دنیا جب اس کے ثبوت مانگتی ہے تو ہندوستان اب تک کسی قسم کا کوئی ثبوت بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش نہیں کر سکا جبکہ دوسری حقیقت یہ ہے کہ 2019 ءکی نسبت اس بار دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی نظر ا رہی ہے۔

مزیدخبریں