دنیا میں جہاں ٹرمپ کا یہ دعوی ہے کہ وہ امریکہ نہیں پوری دنیا کانظام چلا رہا ہے وہاں پاکستان کے دفاع کو صرف پاک و ہند تعلقات کے تناظرمیں دیکھنا میرے نزدیک کوئی معتبر نقطہ نظر نہیں ہے ۔گو کہ ٹرمپ کے اس دعویٰ کو حالیہ ٹیرف وار میں ہی چین نے نیست و نابود کردیا ہے لیکن یہ کہانی کی ابتداء ہے اختتام نہیں ۔بھارت کا پہلگام دہشتگردی کا ٹوپی ڈرامہ دنیا پر آشکار ہو چکا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جن ممالک نے کل اس دہشتگردی کی مذمت کی تھی اب اُن کے نزدیک بھی بھارتی موقف معتبر نہیں رہا ۔ پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی ماضی میں ’’ازلی دشمنی ‘‘ کے حوالے سے تھی لیکن ’’ آبی جنگ ‘‘ تو ہر حال میں ہونی ہے اگر ہم اِس سے نظریں چرائیں گے تو ہماری آنے والی نسلوں کو یہ جنگ لڑنا پڑے گی ۔ ہمیں دنیا کو چیخ چیخ کر بتانا چاہیے کہ بھارت کے ساتھ پانی کا تنازعہ کسی وقت بھی ایک خوفناک جنگ کی وجہ بن سکتا ہے اوراُس جنگ کے اثرات سے ایشیا ہی نہیں دنیا بھر کے انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔ بھارت اپنے ڈراموں سے پاکستان کی توجہ اُس حقیقی مسئلے سے ہٹانا چاہتا ہے جو پاکستان کو بنجرکرنے کی سازش ہے۔ میں جمہوریت پسند انسان ہوں لیکن مضبوظ جمہوریت بھی مضبوط فوج کے بغیر ممکن نہیں ٗ کیا دنیا کی ایک کمزور فوج کے ملک کی جمہوریت مضبوط ہے ؟۔
ہم نے صرف جمہوریت پسندو ں کو حقیقی جمہوریت پسند بناناہے نہ کہ ایسے جمہوریت پسند جو اقتدار کیلئے طاقتور ریاستی ملازمین کو اپنے اقتدار کا رستا ہموار کرنے کیلئے استعمال کر لیتے ہیں ۔پاکستانی عوام نے کبھی پاکستان کی فوجی جنتا کو ووٹ نہیں دیا لیکن جب سیاستدان خود اُن کے دروازے پر اقتدارکی بھیک لینے کیلئے بیٹھ جاتے ہیں اور میزکے نیچے سے انہیں اقتدار کے چور رستے دکھا دیتے ہیں تو پھر کیسی جمہوریت اور کیسی آمریت دونوں ایک جیسی ہو جاتی ہیں ۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں صرف غذائی اشیاء یا میڈیسن ہی جعلی
نہیں ٗ ہماری جمہوریت اورآمریت بھی جعل سازوں کی ٹکسال میں ڈھل کر آتی ہے۔ ہمارے جمہوریت پسنداقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر آمر وںکا روپ دھارن کر لیتے ہیں اور ہمارے آمروں کو چند سالوں بعد ہی یہ احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ اُن سے بڑا جمہوریت پسند تو کسی ماں نے پیدا ہی نہیں کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ایوب خان نے مادر ِ ملت کو بدترین شکست دی اور غیرت مند مسلم لیگی پاکستان کے پہلے آمر کا منہ دیکھتے رہ گئے اور مسٹر ایوب خان یونیفارم میں صدر پاکستان بن گئے ۔ یحیی خان نے 1970ء کے انتخابات کے نتائج ہی تسلیم کرنے سے انکار کردیا کیونکہ اُسے صدر قبول کرنے کیلئے کوئی بھی تیار نہ تھا۔ ضیاء الحق نے 19دسمبر 1984ء کے ریفرنڈم میں جو تاریخی کامیابی حاصل کی اُس کے سامنے عارف علوی کی عمران نیازی کے بارے میں بتائی ہوئی91 فیصد مقبولیت جو کچھ انبیاء سے بھی بہتر ہے ماند پڑتی دکھائی دیتی ہے اور یہی صورت حال مشرف کے ریفرنڈم کی تھی لیکن دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایوب کو مسلم لیگی ٗ ضیاء الحق کو اسلامی جمہوری اتحاد بمعہ جماعت اسلامی اور مشرف کوعمران نیازی ٗ ق لیگ ٗ پبپلز پارٹی پارلیمنٹرین اور ایم کیو ایم جیسی جماعتیں میسر آ گئی تھیں۔یعنی یہ تو طے شدہ ہے کہ کامیاب ڈکٹیٹر بھی سیاستدانوں کی حمایت کے بغیراقتدار میں اپنے ماہ و سال نہیں گزار سکے ۔
9 مئی کو افواج ِ پاکستان نے سیاہ دن قرار دیا تھا اور آج تک اپنے اس بیان پر قائم ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ملکی دفاع کے اداروں پر حملے کرنے والوں کوجہاں عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے لیکن 9 مئی کے دہشتگردوں نے ریاست کے بنیادی نظریے کو جو نقصان پہنچایااُس کا ازالہ ابھی تک کرنے کا سوچا بھی نہیں گیا ۔ اُس کے متبادل کوئی ایسی پالیسی منظر ِ عام پر نہیں آئی جو ملک دشمنوں کو اُن کی زبان میں جوا ب دے سکے ۔ عبد العلیم خان فائونڈیشن فلاح کے بہت سے کام کررہی ہے جن سے کوئی باشعور غیرت مند انسان کسی صورت انکار نہیں کرسکتا ۔ دہشتگردوں نے ہمارے شہداء کے مجسمے گرائے تھے تو ہمیں پاکستان کے ہر ضلع اور تحصیل میں مقامی شہداء کے مجسمے بنوانے چاہیں ۔ میں ذاتی حیثیت میں عبد العلیم خان سے درخواست کروں گا کہ آپ نے پینے کے صاف پانی کے حوالے سے بہت کام کیا ہے سینکڑوں واٹر فلٹر پلانٹ اب تک پاکستان کے طول و عر ض میں لگوائے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ عبد العلیم خان فائونڈیشن اب جہاں بھی پینے کے صاف پانی کا پلانٹ لگوائے اُسے کسی مقامی شہید سے منسوب کردیا جائے کیونکہ یہ سیاسی کام نہیں ہے ۔ شہید کا اقتدار قیامت کی صبح تک رہنا ہے ۔ اس سے ایک تو اس عظیم کارِ خیر میں عبد العلیم خان فائونڈیشن کا حصہ پڑ جائے گا دوسرا علاقائی سطع پر بھی عام آدمی کی شہداء سے جڑ ت ہو جائے گی ۔ عبد العلیم خان اس وقت مواصلات کے وفاقی وزیر ہیں اگر وہ چاہیں تو ہزاروں ٗ لاکھوں میل کی سڑکوں کا نیٹ ورک بھی اُن کے دائرئہ قدرت میں ہے اگر ان دور دراز کے علاقوں اور موٹر ویز پر قیام و طعام کے مقام پربھی شہداء کے نام پر پینے کے صاف پانی کے فلٹر پلانٹ لگوا کر شہید کی قربانی کی داستان بھی لکھ دی جائے تو صاف پانی تو پینے کو ملتا ہی ر ہے گا لیکن اُس پانی سے مستفید ہونے والو ں کی اپنے شہدا ء سے بھی جڑت ہوتی جائے گی ۔ نیشنل ہائی وے اٹھارٹی کیلئے یہ معمولی کام ہے لیکن اِس کے اثرات بہت دور رس ہوں گے ۔ پاکستان کے تمام صوبے اپنے سرکاری سکولو ں میں شہدا ء کے نام اور تصویر کے ساتھ پینے کے صاف پانی کا پلانٹ لگائیں کسی پرائیویٹ سکول کو ڈرنکنگ واٹر فلٹر پلانٹ اوراُسے شہدا ء کے ساتھ منسوب کئے بغیر سکول کھولنے کی اجازت نہ دے۔ اس سے بچوں کے پینے کے صاف پانی کا مسئلہ تو حل ہو ہی جائے گا بچوں کی اپنے ملک کا دفاع کرنے والوں سے ایک رشتہ بچپن میں ہی بن جائے گا او رشہداء کے مجسمے گرانے والے دہشتگردوں کے سامنے جب ہزاروں نہیں لاکھوں شہداء کی تصاویر اور مجسمے پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوں گے تو انہیں اپنے جرم کا احساس بھی ہو گا اورندامت بھی کہ انہوں نے چند مجسمے گرائے تو پاکستانی قوم نے اپنی فوج سے محبت میں ہزاروں مجسمے کھڑے کردیئے کہ یہ پاکستان کو کھڑا کرنے کیلئے بھی ضروری ہے اورعبد العلیم خان یہ کام سب سے بہتر طریقے سے کرسکتے ہیں ۔
عوام : شہداء اورغازیوں کے ساتھ کھڑی ہے
09:41 AM, 2 May, 2025