رسوائی بھارت کی منتظر

09:38 AM, 2 May, 2025

جنگ ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت لڑی جاتی ہے، جنگی ضرب المثل ہے، دوران جنگ گھوڑے نہیں بدلے جاتے، سرحدوں کے پار اگر گھوڑے بدلے جا رہے ہیں تو دشمن کی جنگی حکمت عملی اور صلاحیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جس میں پاکستان کے لئے راحت کا سامان ہے۔ 
ایک بھارتی لیفٹیننٹ جنرل اور کور کمانڈر نے پاکستان پر حملہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، ان کا استدلال ہے یوں بیٹھے بٹھائے حملہ نہیں کیا جا سکتا خصوصاً جب اس کا جواز کمزور ہو یا سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ ان حالات میں سپاہی کا مورال پست ترین سطح پر ہوتا ہے۔ بھارتی لیفٹیننٹ جنرل نے کلمہ حق کہا ہے جو ان کی حکومت کو پسند نہیں آیا لیکن اس حرف انکار سے ایک بڑا واقعہ ہے جس کی اہمیت کا ادراک کم نظر آیا۔ جنگی تیاریوں کے سلسلے میں بھارتی وزیراعظم اہم اداروں کے سربراہوں اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کر رہے تھے، ان کی سرکاری رہائش گاہ واقع دلی میں دو اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں ایک ملاقات انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ کے اعلیٰ حکام سے ہوئی جنہوں نے ملکی حالات، سرحدی معاملات اور ممکنہ شروع ہونے والی پاک بھارت جنگ کے حوالے سے بریف کیا۔ اس بریفنگ میں سب کچھ بھارتی وزیراعظم کی سوچ اور اداروں کے خلاف تھا جو انہیں ایک آنکھ نہ بھایا۔ گمان ہے اس بریفنگ میں بھی ویسی ہی تصویر پیش کی گئی جیسی جنگ سے انکار کرنے والے بھارتی لیفٹیننٹ جنرل سچندر کمار پیش کر چکے ہیں۔ اس میٹنگ کے ختم ہونے کے بعد بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزری بورڈ توڑ دیا گیا۔ سربراہ کو بدل دیا گیا اور دیگر ممبران بھی تبدیل کر دیئے گئے۔ ’’را‘‘ کے سابق چیف الوک جوشی نئے چیئرمین مقرر کئے گئے ہیں۔ دیگر ممبران میں حاضر سروس افسران کے ساتھ ریٹائرڈ فوجی افسران بعض پولیس افسران سفارت کار اور خفیہ ایجنسیوں میں کام کا تجربہ رکھنے والے افراد شامل کئے گئے ہیں۔ ان میں ایئر مارشل بی ایم سہنا، ریئر ایڈمرل مونتی کھنہ، لیفٹیننٹ جنرل رنجیت سنگھ، پولیس افسر راجیو رچن ورما، من موہن سنگھ اور سفارتکار کاتیش ورما شامل ہیں۔ کہا جا سکتا ہے نریندرا مودی اب اپنی ٹیم لے کر آئے ہیں جسے وہ اپنی سوچ سے ہم آہنگ سمجھتے ہیں۔ یہ تمام لوگ انتہا پسند ہیں۔ پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف انتہا درجے کی نفرت اپنے سینوں میں رکھتے ہیں، ان کے انتخاب کے پیچھے عقل و دانش کم اور منفی سوچ زیادہ ہے۔ مودی خود بھی ایسا ہے اور ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ ’’را‘‘ کی تشکیل نو کے بعد اسے ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ مودی کی پسند کی مہم کے حوالے سے اپنی سفارشات دو ماہ تک پیش کرے جس کا مطلب ہوگا کہ جون کے مہینے تک یہ سفارشات آئیں گی۔ آئندہ دو ماہ میں ان پر عملدرآمد کے لئے میدان تیار کیا جائے گا گویا ماہ ستمبر سر پر ہوگا۔ بھارت کو اس مہینے میں جنگ چھیڑنے پر ماضی میں پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے جرنیلوں کا لاہور جم خانہ میں شراب کے جام لنڈھانے کا خواب چکناچور ہوا۔ اس کے جرنیل اپنی جیپیں اور ضروری کاغذات چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ 
نریندرا مودی نے دوسری میٹنگ بھارتی مسلح افواد کے سربراہوں سے کی جس میں آرمی، ایئرفورس اور نیوی کے سربراہوں کے علاوہ جوائنٹ چیف آف کمیٹی کے سربراہ بھی شریک تھے۔ یاد رہے اس سطح کی ملاقاتوں میں موسم کے حال نہیں بتائے جاتے، نہ ہی بال بچوں کا حال پوچھا جاتا ہے۔ براہ راست پوچھا جاتا ہے جنگی تیاریاں کیسی ہیں، کامیابی اور ناکامی کے امکانات کیا ہیں، جارحیت کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی مسلح افواج کے سربراہوں نے بھی مودی کے جنگی جنون کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی کمزوریاں کھول کے سامنے رکھ دی ہیں۔ مودی کو اپنے جنگی جنون کے سبب ماضی میں زبردست ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس کی منظوری سے بہترین پائلٹوں اور بھارت میں موجود بہترین جہازوں کا انتخاب کرکے پاکستان پر فضائی حملہ کیا گیا جس میں دونوں جہاز اور دونوں پائلٹ پاکستان ایئرفورس کے شاہینوں نے مار گرائے۔ ایک پائلٹ اور جہاز بھارتی علاقے میں گرا دوسرا ہماری سرحد کے اندر گرا، ہم نے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا اور باجوہ حکمت عملی کے تحت تیسرے روز واپس بھجوا دیا۔ وہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے مختلف سوچ رکھتے تھے۔ اس وقت کی حکومت سے ان کے تعلقات میں خرابی کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ باجوہ ڈاکٹرائین کے مطابق ایک تھپر کھا کر دوسرا گال آگے کرنا تھا۔ ان کے  بعد حکمت عملی تبدیل ہو چکی ہے۔ پاکستان جیو اور جینے دو کی پالیسی پر واپس آ گیا ہے۔ امن چاہتا ہے لیکن جارحیت کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کی سوچ اور صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی اپنے سروسز چیفس کے ساتھ ملاقات میں جب جائزہ لیا گیا تو بھارتی وزیراعظم کو اندازہ ہو گیا کہ ایک اور ناکامی ان کے گلے پڑ سکتی ہے لہٰذا اس اہم میٹنگ کے اختتام پر ان کا بیان سامنے آیا کہ پاکستان پر کب اور کہاں حملہ کرنا ہے۔ اس کا فیصلہ اب ان کی افواج کریں گی۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی اب کسی بھی قسم کی ذمہ داری لینے سے گریزاں ہے۔ وہ چاہتا ہے آئندہ کوئی ناکامی اس کے گلے نہ پڑے لیکن اگر کوئی جزوی کامیابی یا فرضی کامیابی ملتی ہے تو وہ اسے اپنی حکمت عملی، اپنی بہادری کے طور پر بھارتی عوام کے سامنے پیش کرے اور اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سنبھالا دے۔ مودی کی سیاسی جماعت بھارت کے عام انتخابات میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی، اس کی حکومت کمزور بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔ اس کے خلاف عدم اعتماد آ سکتا ہے، اس کی انتہا پسندانہ سوچ 
کے سبب اسے قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ بھارتی فوج مودی کی ہمسائیوں کے ساتھ پالیسیوں کے حوالے سے خوش نہیں۔ وہ کسی بھی وقت اندرا گاندھی یا سنجے گاندھی جیسے انجام سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے ہم اسے کب تک گردن نہیں ہلانے دیتے یا کب اس کے سینے سے اتر کر جھارا پہلوان کی حماقت کی طرح اسے اٹھ کھڑے ہونے کا موقعہ دیتے ہیں۔ بھارتی عوام، بھارتی کاروباری طبقہ پاکستان کی طاقت اور جنگ کی تباہ کاریوں سے بچنا چاہتا ہے، اس کا انتہا پسند میڈیا اور انتہا پسند سیاسی جماعت بھارت کو درپیش مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کے لئے جنگی جنون میں اضافہ کر رہے ہیں لیکن بھارت کے اندر اب حکومت سے سوال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان پر اس الزام کے حوالے سے اس نے اب تک کوئی ثبوت دنیا کے سامنے کیوں نہیں پیش کئے۔ بھارت نے پہلگام تخریب کاری کے الزام میں چار بے گناہ افراد کو گرفتار کر رکھا ہے۔ ان سے اقبال جرم کی کوششیں جاری ہیں۔ وہ نہ مانے تو انہیں گولی مار کر ’’پولیس مقابلہ‘‘ ظاہر کر دیا جائے گا۔ یہ رسوائی بھارت کی منتظر ہے، جھڑپیں جاری رہیں گی۔

مزیدخبریں