واشنگٹن: یوکرین اور امریکہ نے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکہ کو یوکرین میں معدنی منصوبوں میں ترجیحی شراکت دی جائے گی، اور جنگ کے بعد کی تعمیر نو کے لیے ایک مشترکہ فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ کئی ماہ کی تفصیلی بات چیت کے بعد واشنگٹن میں طے پایا، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھرپور حمایت فراہم کی۔ ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے یوکرین کو دی جانے والی امداد کے بدلے ٹھوس فوائد حاصل کرنے پر زور دیتی رہی ہے۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور روس کے خلاف جاری جنگ میں امریکی مدد کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور یوکرین کی پہلی نائب وزیراعظم یولیا سویریڈینکو نے شرکت کی۔
امریکی محکمہ خزانہ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا:
"یہ معاہدہ ایک آزاد، خودمختار اور خوشحال یوکرین کے لیے امریکی عزم کی علامت ہے۔"
نائب وزیراعظم سویریڈینکو نے کہا کہ امریکہ فنڈ میں مالی معاونت فراہم کرے گا، اور ممکنہ طور پر یوکرین کو مزید دفاعی امداد بھی دے سکتا ہے، اگرچہ امریکہ نے اس حوالے سے تفصیل نہیں دی۔
واضح رہے کہ امریکہ 2022 میں روس کے حملے کے بعد سے اب تک یوکرین کو 72 ارب ڈالر سے زائد کی امداد دے چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے معاہدے سے قبل ایک بار پھر زور دیا کہ یوکرین کی مدد کے بدلے امریکہ کو فوائد حاصل ہونے چاہئیں، خاص طور پر یوکرین میں موجود نایاب معدنیات کو امریکہ کے لیے اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیا۔
امریکی وزارت خزانہ نے کہا:
"یہ معاہدہ اس تعاون کا اعتراف ہے جو امریکی عوام نے یوکرین کی سلامتی کے لیے فراہم کیا۔"