”ایسے کیسے سے اچھا جی تک“

09:01 AM, 3 Mar, 2026

جہاں روایتی اور مروجہ جنگی اسلوب بدل چکے ، جہاں اب جنگ کے میدان جدید گیجٹس میں تبدیل ہو چکے ہیں وہیں بحیثیت صحافی میں سمجھتا ہوں کہ اب روایتی خبرنگاری ، شورو غوغا اور ماسز بھی بدل چکے ہیں ، صحافت اخبار سے ریڈیو اور ٹیلیویژن سے اب ایک ڈیوائس یعنی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے مزین ہو چکی ہے ۔ اب اگر آپ نے خبریت یا پیغام رسانی کا کام کرنا ہے تو آپ کو جدید گیجٹس کے ساتھ ساتھ اپنی شخصی تربیت بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگی ورنہ آپ کھیل کا حصہ نہیں رہیں گے اور بالخصوص اگر آپ کا مقابلہ بھارت جیسے مکار دشمن سے ہو جو ملکی سرحدوں سے نظریاتی سرحدوں تک آپ کو نیچا دکھانے کیلئے ہر حد تک جا سکتا ہے تو پھر یہ بہت ضروری ہے کہ پاکستان کا نوجوان حالات و واقعات کے تناظر میں خود کو بدلے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم جسے جدید جنگی میدان بھی کہا جا سکتا ہے اس میں مہارت حاصل کرے اور دشمن کو ناک آ¶ٹ کرے۔ بالخصوص یقینا اب دنیا جدید ٹیکنالوجی اور بالخصوص ڈیجیٹل میدان میں بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ اب ترقی اور تعلیم کا معیار بھی اسی سے منسوب ہے ۔ آئی ٹی سے اے آئی کا سفر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب آپ کو اس میدان میں ہی آگے بڑھنا ہوگا اگر کوئی ملک اس مقابلے میں پیچھے رہ گیا تو وہ دنیا کے ہم پلہ نہیں ہو سکتا۔ 
الحمدللہ پاکستان کا نوجوان جہاں دنیا کے ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہا ہے وہیں آئی ٹی اور اب اے آئی کے تقاضوں سے بھی ہم کنار ہوکر منفرد انداز میں دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہے۔اس کی روشن مثال ہم نے گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت ٹاکرے میں دیکھی جہاں پاکستان نے بقول ٹرمپ11 صفر کی برتری سے میدان مارا وہیں ہمارے آئی ٹی ایکسپرٹ نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن اور آئی ٹی ٹیکنالوجی میں دنیا پر راج کرنے والے بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیئے ۔ بھارت کا ریل ، بجلی ، بینکنگ سسٹم ہیک کر لیا اور یوں بھارت بے بسی کی تصویر بنا رہا ۔ 
سب سے اہم اور توجہ طلب موقع وہ تھا جب ہمارے نوجوانوں نے وزیر اطلاعات و نشریات جناب عطاءاللہ تارڑ اور بدر شہباز وڑائچ جیسے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار لیڈر کی سربراہی میں بھارت کے ٹیلیویژن چینلز پر پاکستان کا قومی ترانہ بجا دیا اور دشمن کی سکرینوں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگنے لگے ۔ یہ وہ قابل تحسین اور ناقابل فراموش لمحات تھے جنہیں صدیوں یاد رکھا جائے گا۔ دنیا میں جنگ کے بعد پاکستان کا مقام اور مرتبہ بلند ہوا وہیں ہمارے آئی ٹی ماہرین کی کارکردگی بھی زیر بحث ہے اور دنیا بھر میں ہمارے نوجوان اس معرکہ حق کے بعد سر اٹھا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔
یقینا پاک بھارت جنگ میں وہ ناقابل فراموش واقعات بہادری اور دلیری کا ایسا قصہ بن گئے جن کی بازگشت صدیوں تک سنائی دیتی رہے گی۔ ہمارے مسلح افواج کے بہادر سپوتوں نے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملائے اور دنیا میں جنگ کی نئی اصطلاحات متعارف کرا دیں۔ وہیں ایک میدان ایسا تھا اگر جس کا تذکرہ نہ کیا جائے تو فتح مکمل نہیں ہوتی وہ میدان نظریاتی سرحدوں کا میدان ہے۔ جہاں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے نوجوان ماہرین نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور سوشل میڈیا کی اعصابی جنگ میں بھی فتح حاصل کی ۔ یہ دور جدید کا وہ نفسیاتی حربہ ہے جو بڑی سے بڑی طاقت کو بھی نہ صرف پریشان کر دیتا ہے بلکہ تذبذب کا شکار کر دیتا ہے۔ہمارے سوشل میڈیا ایکسپرٹس اور بالخصوص وفاقی حکومت کی سوشل میڈیا ٹیم نے لمحہ بہ لمحہ اپنی نفسیاتی برتری ثابت کر کے بھارت کی اربوں کھربوں کی وسائل سے مالا مال سوشل میڈیا انڈسٹری کو نہ صرف کھوکھلا پروپیگنڈا کرنے والی جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنانے انڈسٹری ثابت کیا بلکہ فیکٹ چیک کے ذریعے ہر معاملے کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھی۔ یہ وہ ٹولز ہیں جو اسلحے سے بڑھ کر دشمن کو چوٹ پہنچاتے ہیں ۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ہمیں تو بیرونی دشمن کے ساتھ ساتھ اندرونی دشمن کو سیاست کا لبادہ اوڑھ کر ملک میں انتشار اور جھوٹ پھیلا رہا ہے اس کا بھی سامنا ہے ۔ میری مراد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سے ہے جو ہر حال میں ملک کو نقصان پہنچانے کے در پہ رہتا ہے۔ یہ انتشاری ٹولہ اور اس کے ہینڈلرز جھوٹ اور دھوکا دہی سے سادہ لوح پاکستانیوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ان انتشاریوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان میں سیاسی ، معاشی اور معاشرتی عدم استحکام پیدا ہو اور ان کا سودا بکتا رہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان انتشاریوں کی تربیت سرکاری وسائل اور سرپرستی میں ہوئی ہے اور اب بھی ایک صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت اس جھوٹ کی فیکٹری کی سرپرستی کر رہی ہے اور دن رات پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں معاون کردار ادا کر رہی ہے۔ اس جھوٹ کی فیکٹری یا کلٹ کو یہ ٹارگیٹ دیا گیا ہے کہ وہ ہر حال میں جھوٹ پھیلا کر پاکستان کو نقصان پہنچانے اور عوام کو گمراہ کرے تاکہ ان کے پاکستان مخالف مذموم مقاصد پورے ہو سکیں ۔ ایسے میں یہ بہت ضروری تھا کہ اس جھوٹ کو کا¶نٹر کیا جائے اور حقائق کو سامنے رکھ کر لوگوں تک صحیح اور مستند معلومات پہنچائی جائیں ۔ایسے میں چند نوجوان رضاکار اٹھے سچ کا تاج سر پر سجا کر اس جھوٹ اور مکار پر مبنی سوشل میڈیا دہشتگردوں کے خلاف میدان عمل میں آئے اور اپنی سچائی کی بنیاد پر دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ ٹرینڈ بن گئے ۔ یہ وہ نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں جنہوں نے اس میدان میں اندرونی و بیرونی دشمن کے دانت کھٹے کیے اور سادہ لوح عوام کو گمراہ ہونے سے بچایا ۔ ان رضاکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت ویڈیوز بنائیں سوشل میڈیا اکا¶نٹس سے جاری کیں اور پی ٹی آئی کے ملک دشمن ٹولے کو ایسا کرارا جواب دیا کہ اب ان کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی۔ یقینا سچ کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے وقت آن پہنچا ہے کہ ان دشمنوں کی حقیقت سامنے لائی جائے اور بغیر لگی لپٹی حقائق پر مبنی وائٹ پیپر جاری کیا جائے تاکہ ہماری نسلیں ان ضمیر فروش ، وطن فروش ، اغیار کے ٹکڑوں پر پلنے والے ملک دشمنوں کے عزائم کو سمجھ سکیں۔ 
اب آتے ہیں ایسے کیسے سے اچھا جی کی طرف تو قارئین ہمارے میڈیا سے وابستہ احباب بھی نظریاتی سرحدوں کے عظیم محافظ ہیں ۔ وہ آج کے جدید پیغام رسانی کے ذرائع کو استعمال کر کے دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے رہتے ہیں اور ان کا یہ کام یقینا قابل ستائش ہے۔ انہی باصلاحیت لوگوں میں ایک کارکن صحافی مدیحہ عابد علی ہیں جو ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کر چکی ہیں ۔ مدیحہ عابد ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستان کے بڑے ٹیلیویژن چینلز پر بحیثیت صحافی/ اینکر پرسن خود کو منوا چکی ہیں ۔ وہ شعبہ صحافت اور جدید ٹیکنالوجی کے عنوان سے امریکہ سے ڈگری حاصل کر چکی ہیں اور اس حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکی ہیں ۔ مدیحہ اس وقت پاکستان ٹیلیویژن نیوز سے وابستہ ہیں اور اپنے پروگرام میں پاکستان کا مقدمہ خوب لڑتی ہیں ۔ وہ اپنے کام کی بدولت پاکستان اور پاکستانیت کی سفیر ہیں۔ 
مدیحہ عابد کی چھپی صلاحیتیں گزشتہ سال پاک بھارت جنگ میں سامنے آئیں جہاں ان کی منطقی ویڈیوز اور ریلز نے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی اور ان کے کہے گئے الفاظ نشتر کی طرح دشمن کا سینہ چیر گئے ۔ مدیحہ عابد ایک بہترین کانٹینٹ کری ایٹر ہیں ۔ ان کی حالیہ ویڈیو”ایسے کیسے“ نے ملک گیر سطح پر مقبولیت حاصل کی اور گزشتہ رات افغانستان کی بزدلانہ کارروائیوں کے بعد ”اچھا جی“ کی پنچ لائن ویڈیو نے ایک مرتبہ پھر انہیں لائم لائٹ میں لا کھڑا کیا ہے۔ کچھ مودیے ، یہودیے اور یوتھییے ان پر اور ٹیم ”اچھا جی“ پر صرف اس لیے تنقید کر رہے ہیں کہ وہ اس وقت ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ یوتھیے سوشل میڈیا پر خود کو شہنشاہ سمجھتے ہیں اور ان سے یہ برداشت نہیں ہو رہا کہ ان کے ہوتے کوئی اور راج کیسے کرے اور وہ بھی پاکستان کا پیغام لے کر ٹاپ ٹرینڈ بن جائے ۔ مدیحہ عابد اور ٹیم بارے عاقبت نااندیش یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ وزارت اطلاعات و نشریات نے اس ویڈیو پر کروڑوں روپے لگائے ہیں ۔ میں ان ضمیر فروش ، وطن فروش اور اغیار کے ٹکڑوں پر پلنے والے یوتھیے سوشل میڈیا کیڑوں اور نام نہاد دانشوروں سے افسوس کرتا ہوں اور انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ چھ سات لوگ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار رضاکار ہیں یہ وہ مجاہد ہیں جو بغیر کسی لالچ کے ملک و قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں یہ نوجوان نہ تو تمہاری طرح وطن فروش ہیں اور نہ ضمیر فروش یہ محب وطن پاکستانیت اور بالخصوص محفوظ اور مضبوط پاکستان کا اثاثہ ہیں۔۔۔۔
ٹیم مدیحہ عابد علی جاری رکھیں آپ نے حوصلہ نہیں ہارنا آپ کے کام سے مودیے ، یہودیے اور یوتھیے بھونکتے رہیں گے کیونکہ آپ اور آپ کی ٹیم پاکستان کی بات کرتی ہے اور یہ عمل ان لوگوں کو قابل قبول نہیں ہے ۔ یہ یوتھیے ملک توڑنا چاہتے ہیں آپ ملک جوڑنا چاہتے ہیں۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد

مزیدخبریں