جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب افغانستان کی طالبان رجیم کے مسلح دستوں کی طرف سے پاک افغان سرحد پر بلا اشتعال جارحیت کے ارتکاب کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ افغانستان کی طالبان رجیم کو بہت مہنگا پڑا ہے کہ پاکستان نے آپریشن غضب للحق کے تحت اُن کو وہ دندان شکن جواب د یا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کی طرف سے اتوار کی شام تک جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آپریشن ضرب للحق کے نتیجے میں میں 415 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک، 580 زخمی، 182 افغان چوکیاں تباہ، 31 پر پاکستان کا قبضہ اور 171 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل اور طالبان کے صدر مقام قندھار سمیت کنڑ، پکتیا اور خوست میں 96 مقامات کو پاکستانی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جن میں افغان طالبان رجیم کی مسلح افواج کے کور اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز، بٹالین اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر اور فوج کے تربیتی مراکز کے ساتھ تحریکِ طالبان پاکستان اور فتنہ الہندوستان کے خوارج اور دہشت گردوں کے ٹھکانے اور دہشت گردی کی تربیت کے مراکز بھی شامل ہیں۔ اتوار کو شمالی افغانستان میں بگرام کے ائیر بیس کو بھی پاک فضائیہ کی طرف سے بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے اور وہاں امریکہ کے چھوڑے ہوئے اسلحے کے ذخائر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ افغان طالبان رجیم کے ان نقصانات کے مقابلے میں پاکستان کی مسلح افواج کے نقصانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 12 پاکستانی فوجی شہید، 27 زخمی اور ایک سپاہی لا پتا ہے۔
پاکستان، افغان طالبان رجیم کے خلاف اتنا بھر پور اور سخت ایکشن لینے پر کیوں مجبور ہوا؟ اس کا مختصر ترین جواب یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کے لیے ایسا کرنا ضروری ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہو گیا تھا۔ پاکستان کب سے افغان طالبان رجیم سے یہ مطالبہ کیے چلا آ رہا تھا کہ وہ اپنی سر زمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے لیکن افغان طالبان رجیم کے ذمہ داران پاکستان کے اس جائز اور مبنی بر حقائق مطالبے پر کان دھرنے کی بجائے طرح طرح کی تاویلات اور پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ زبانی کلامی وعدے کرتے ہیں لیکن کوئی ٹھوس اقدامات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں، خارجیوں اور باغیوں نے افغان سر زمین پر اپنے ٹھکانے ہی نہیں بنا رکھے ہیں بلکہ وہاں ان کے دہشت گردی کی تربیت کے مراکز بھی قائم ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی تیاری اور ان پر عمل پیرا ہونے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ پاکستان جب افغان طالبان رجیم سے پورے شواہد اور انٹیلی جنس رپورٹس کے ساتھ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سر زمین پر دہشت گردی کے ان مراکز کو ختم
کرنے میں پاکستان کی معاونت کریں تو وہ آئیں بائیں شائیں شروع کر دیتے ہیں۔
یہ صورتِ حال ایسی ہے جس سے ماضی قریب میں پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین مذاکرات کرانے والے قطر، ترکی اور سعودی عرب جیسے برادر اسلامی ممالک ہی آگاہ نہیں ہیں بلکہ عالمی برادری بھی اس صورتِ حال سے بخوبی آگاہ ہے۔ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی رپورٹس موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم پاکستان جیسے ہمسایہ ملک میں ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے ممالک میں بھی دہشت گردی کو برآمد کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ملوث ہے۔ یہاں برسلز کے انٹر نیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کی رپورٹ کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان اعلانیہ طور پر تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق سے انکار کرتے ہیں لیکن پردے کے پیچھے وہ خود مانتے ہیں کہ نظریاتی اور قبائلی روابط کی وجہ سے وہ تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ انہیں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اگر ہم (طالبان رجیم) نے تحریکِ طالبان پاکستان پر سختی کی تو اس کے ارکان داعش خراسان میں شامل ہو جائیں گے جو (اُن کے لیے) کہیں زیادہ خطرناک تنظیم ہے۔ اسی طرح روس نے چند روز قبل افغانستان میں ہزاروں غیر ملکی جہادیوں کی موجودگی کی خبر دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں ہر وہ چیز موجود ہے جس سے اس پورے خطے کو غیر مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
عالمی اداروں کی افغانستان کے حوالے سے یہ رپورٹیں اور جائزے اور دہشت گردی کے حوالے سے خدشات اور تحفظات ایسے نہیں ہیں جنہیں نظر انداز کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ افغان طالبان رجیم کے بھارت کے ساتھ گہرے تعلقات اور دوستی کی پینگیں بڑھانا بھی پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا سبب بنا ہوا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی اور آشیر باد کے ساتھ تحریکِ طالبان پاکستان کے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے باغیوں اور دہشت گردوں کو بھارت کی ہر طرح کی امداد حاصل ہے اور یہ بھارت کی پراکسیز کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ غرضیکہ یہ صورتِ حال ایسی ہے جس کی بنا پر پاکستان کو تحریکِ طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں اور باغیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اس کے ساتھ افغان طالبان رجیم کے ان دہشت گردوں اور باغی تنطیموں کے ساتھ گہرے روابط کا بھی پتہ چلتا ہے۔
اس حقیقت کے باوجود کہ افغانستان کے حکمران ہمیشہ پاکستان کو الزام تراشیوں اور منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بناتے چلے آ رہے ہیں، یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان نے افغانیوں کے ساتھ ہمیشہ مروت، مہربانی، احسان مندی اور ان کی مشکلات میں ان کا ساتھ دینے کے برادرانہ رویوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر اسلامی بھائی چارے، ہمسائیگی، مہربانی اور مروت کا مظاہرہ ہو سکتا ہے کہ پچھلی صدی کی اَسّی کی دہائی میں افغانستان سوویت جارحیت کا براہ راست نشانہ بنا تو پاکستان کو پچاس لاکھ لُٹے پُٹے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ یہ سلسلہ آج تک کسی نہ کسی صورت میں چھوٹے یا بڑے پیمانے پر جاری ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان کو برداشت بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان کو جو نقصانات اٹھانا پڑے اور پاکستانی معاشرے پر جو منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ان سے کون انکار کر سکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت تباہی کا شکار ہوئی، افغان مہاجرین پورے ملک میں پھیل گئے اور انہوں نے کلاشنکوف کلچر کو جہاں رواج دیا وہاں سمگلنگ اور منشیات کے اڈے بھی قائم کیے۔ اس طرح ملک میں جرائم کو فروغ ہی نہ ملا بلکہ قتل و غارت گری اور دہشت گردی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ پاکستان کو افغان حمایت کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی ناراضی اور دُشمنی الگ مول لینا پڑی۔
افغانستان کے لیے پاکستان کی قربانیوں کی تفصیل بیان کرنے کا یہاں محل نہیں تاہم افغانستان کی طالبان رجیم کو یاد دلایا جا سکتا ہے کہ 1996ءمیں جب مُلا عمر کی سربراہی میں وہ بر سرِ اقتدار آئے تو ان کو کس کی حمایت اور تعاون حاصل تھا۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے سب سے پہلے ان کی حکومت کو تسلیم کیا۔ 2001ءمیں نائن الیون کے بعد امریکہ نے عالمی حمایت کے ساتھ نیٹو فورسز کے ہمراہ افغانستان پر فوج کشی کی تو پاکستان کو امریکی دھمکیوں اور عالمی دباو¿ کی وجہ سے اگرچہ امریکہ کا ساتھ دینا پڑا لیکن یہاں کے عوام کی اکثریت جہاں طالبان سے ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار کرتی رہی وہاں ہماری خفیہ ایجنسیوں کے طالبان کے ساتھ رابطے بھی قائم رہے جن کے نتیجے میں طالبان کی قندھار شوریٰ کے ارکان اور کئی دوسرے طالبان راہنماو¿ںکو پاکستان میں پناہ ملی رہی۔ اس دوران امریکی سر پرستی میں افغانستان میں پہلے حامد کرزئی اور بعد میں اشرف غنی کی کٹھ پُتلی حکومتیں قائم ہوئیں تو طالبان کی ان کے اور امریکی فوجوں کےخلاف مزاحمت جاری رہی۔ پاکستان کو امریکہ کی طرف سے اس الزام کا سامنا رہا کہ پاکستان در پردہ طالبان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے امریکی افواج اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہیں۔ قصہ مختصر کہ پاکستان کی حمایت اور کوششوں سے امریکہ اور طالبان کے درمیان 2020ءمیں دوحہ مذاکرات کامیابی سے ہم کنار ہوئے اور اگست 2021ءمیں افغانستان سے امریکی اورنیٹو فورسز کا انخلا مکمل ہوا اور اقتدار طالبان رجیم کو ملا تو اس میں سب سے زیادہ حصہ پاکستان کا تھا۔ اس سب کے باوجود طالبان رجیم اگر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ممد و معاون ہوتی ہے تو پھر اس کا یہی انجام ہو سکتا ہے جس کا اِس وقت طالبان رجیم کو پاکستان کے ہاتھوں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایسا کرنا ناگزیر تھا....!
08:59 AM, 3 Mar, 2026