ایران........

08:58 AM, 3 Mar, 2026

کوئی مسلم ملک تو قطعہ ارض پر ایسا ہے جو فلسطین کی آزادی کی دعاو¿ں سے آگے بڑھ سکا۔ کوئی سرزمین تو ایسی ہے جس نے اپنی سالمیت پر بیرونی مداخلت کو اعلانیہ رد کیا۔ کوئی ریاست تو ایسی ہے جس کے حکمران اور ان کے بچے مشکل وقت میں بھی ملک میں موجود رہے۔ کوئی دھرتی تو ایسے سپوت پیدا کر سکی ہے جنہوں نے عصری طاقت کے اکٹھ کو للکارا۔ کوئی قوت ایمانی تو ہے جو غیرت کی موت کو بے غیرت زندگی پر ترجیح دے رہی ہے اور جس کے اطراف میں پھیلی کمیں گاہیں دراصل دشمن کے اڈے ہیں۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد اور دو ہفتے قبل ملتان میں جن کالعدم تنظیموں کے مقررین نے ایران کو گالیاں دی تھیں ان کی امریکی نمک حلالی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ وہ جلسے اور ان کے انعقاد کی اجازت اس جنگ کا دیباچہ تھا جو اب یہاں مسلط کی گئی یعنی مردود دشمن اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے انہی منافقین کو ہمیشہ استعمال کرتا ہے اور کرتا آیا ہے۔
عقل مند لوگ اگر تعصب کی بجائے دفاعی اور جغرافیائی لحاظ سے دیکھیں تو ایران ہی وہ واحد ملک ہے جو پاکستان کی ڈھال ہے۔۔ اللہ کریم سکول میں شہید ہونے والی 109 بچیوں کے والدین کو صبر عطا فرمائے اور خامنائی اور ان کے بہو بیٹے اور عہدے داروں کی قربانی قبول فرمائے کیونکہ۔۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا
وہ شان سلامت رہتی ہے
رہبر اعظم خامنائی کی شہادت پر پوری مسلم دنیا کے باشعور حلقے دکھ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ اس شہید رہنما خامنائی کا اعزاز ہے کہ اسے امریکی صدر بھی تاریخ کا بڑا انسان قرار دے رہا ہے مگر فرقہ پرستی کے موجد چند عناصر اس وقت بھی خامنائی کی موت پر خوشی منا رہے ہیں اور سوشل میڈیا ان کو بے نقاب کرتا جا رہا ہے۔ یہ اس وقت اسرائیل و امریکا کے پروردہ اور پالتو ثابت ہو چکے ہیں ان کی وہ دعائیں جو بیت المقدس کی آزادی کے لیے تھیں سب منافقانہ تھیں کہ یہ جو اسلام کی سربلندی کے لیے ہاتھ بلند کرتے تھے وہ دراصل یہی ہاتھ تھے جو اب ایران مخالفت کے فروغ کے لیے کھڑے ہو رہے ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ تمام بظاہر مسلم ملک امریکی اڈوں میں بدل چکے ہیں اور دبئی تو اسرائیل کا بزنس اڈہ بن چکا ہے۔ جب کوئی ملک اسرائیل کو سرخ کر رہا ہے اور کمزور ہو کر بھی امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال رہا ہے تو تم اس کے خلاف اپنے اندر کی غلاظت ظاہر کر رہے ہو۔ کوئی تورا بورا کی پہاڑیوں میں چھپا ہے اور نا ہی کسی نے مصلحت کی چادر اوڑھی ہے وہ چھیاسی سال کی عمر میں بھی میدان عمل میں رہا اور اپنے موقف پر قائم رہا۔
یاد رکھو، خدا نہ کرے اگر کبھی یہ میلی اور خونی آنکھیں پاکستان کی طرف اٹھیں تو یہی اسلامی ریاستیں امریکی اڈوں میں بدلتے دیر نہیں لگائیں گی کیونکہ یہی ان کی تاریخ ہے اور یہی ماضی۔ اب ہم پاکستان کی آستین میں پلتے رہے سانپ پر حیران ہیں کہ بقول شاعر:
جن پتھروں کو عطا کی تھیں ہم نے دھڑکنیں
جب ان کو زباں ملی تو ہم ہی پر برس پڑے
افغانی قوم ہمیشہ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچاتی رہی اور بھارت سے گہرا تعلق ان کو سکون سے بیٹھنے ہی نہیں دیتا تھا۔ سمگلنگ، چور بازاری اور مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر خود کش حملے ایسی ایجادات ہیں جن پر ہمیشہ افغانستان کو فخر رہا۔ آج پاک فوج نے اس ازلی دشمن کو اپنے نشانے پر اس وقت لیا ہے جب بھارت میں پڑھنے والے افغانی سٹوڈنٹس کے اعداد و شمار خوف ناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور بھارت اپنے ناپاک عزائم کے لیے ان بے وقوفوں اور نمک حراموں کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ بلوچستان کے چند علاقے وہی زبان بول رہے ہیں جو دہلی میں بولی جا رہی ہے۔
پاکستان کی فوج نے کچھ تاخیر سے سہی، آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور ہماری قوم کے جوان یوٹیوبروں کے نرغے میں ڈاکٹر نبیحہ اور حارث کھوکھر کے درمیان پڑی دراڑ کو پُر کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور قومی ٹی وی پر جاری رمضان ٹرانسمیشن میں مفتی صاحبان شلوار کی جیب میں پیسے رکھنے کے حرام یا حلال ہونے پر مصروف گفتگو ہیں۔

مزیدخبریں