اے خاصہ¿ خاصان ِ رُسُل وقتِ دعا ہے
امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
مولانا الطاف حسین حالی نے اس شعر میں جو التجا کی ہے، یہ اس وقت شاید کرہ¿ ارض کے سب مسلمانوں کے دل کی آواز ہے۔ اسلامی ممالک عجیب قسم کے انتشار و افتراق کا شکار ہیں۔ دنیا میںظلم کا جو بازار گرم ہے، سب کو نظر آ رہا ہے لیکن کسی میں ہمت نہیں کہ اسے روک سکے۔ اسلام دشمن قوتیں ان کا بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
گزشتہ سال اکتوبر میں ختم ہونے والی اسرائیل غزہ جنگ اس سلسلے کی سب سے نمایاں مثال تھی جسے جنگ کہنا بھی لفظ جنگ کی توہین ہے کہ اس میں ایک فریق بالکل نہتا اور کمزور جبکہ دوسرا اندھی طاقت کے نشے میں چُور تھا۔ اس جنگ میں پوری مسلم دنیا خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ امریکا 7 اکتوبر 2023ءکو جنگ شروع ہونے کے اگلے روز ہی اسرائیل کی حمایت میں کود پڑا تھا اور دھمکی لگا دی تھی کہ خبردار کسی نے اسرائیل کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش بھی کی تو اس کی آنکھیں نکال دی جائیں گی اور پھر اسرائیل مسلسل دو سال غزہ کے معصوم شہریوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑتا رہا، فلسطینیوں کی نسل کشی کی، ہسپتالوں، سکولوں، مساجد اور شہری آبادیوں کو ملبے کے ڈھیر بنایا لیکن کسی میں اس کا ہاتھ روکنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس دوران اس نے لبنان پر بھی حملہ کیا، شہریوں کے ہاتھوں میں پیجر پھاڑ دیئے۔ حماس اور حزب اللہ کی قیادت کو شہید کیا۔ ایران پر حملہ کیا اور اس کے اعلیٰ ترین فوجی افسروں کو مار ڈالا۔ غرض جو ہدف متعین کیا، اسے امریکہ کی مدد سے حاصل بھی کیا مگر مسلمان سوائے کف ِافسوس ملنے کے کچھ نہ کر سکے۔
اس افسوس ناک صورت حال کا تازہ ترین منظر نامہ یہ ہے کہ دو روز قبل امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اپنے مشترکہ حملوں کا آغاز کیا جن میں ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ پہلے ہی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد جام شہادت نوش کر گئے۔ ان کے علاوہ کئی اعلیٰ فوجی حکام بھی شہید ہوئے اور تادم تحریر سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے شہید ہونے کی اطلاعات بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ان حملوں میں ایران کے درجنوں شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ ایران نے بھی جواب میں اسرائیل پر میزائل حملے کیے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین جیسی خلیجی ریاستوں میں قائم دو درجن سے زائد امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں اسرائیل اور امریکہ کا جانی نقصان بھی ہوا ہے جبکہ ان ریاستوں کے اپنے شہری بھی لقمہ¿ اجل بنے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ بھی اس جنگ میں باقاعدہ شریک ہو گیا ہے۔ برطانوی طیارے ایران کے خلاف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
دوسری طرف اسلامی دنیا ہے جس کا کوئی ملک ایران کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا۔ آگے تو کیا بڑھنا کہ یہ ملک خود اس کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ ان ملکوں میں قائم امریکی اڈے ایران کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں اور ایران کی طرف سے بھی خلیجی ملکوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ یہ حملے خلیجی ملکوں کے خلاف نہیں بلکہ امریکی اڈوں پر ہیں لیکن اس سے یہ ملک بھی متاثر تو بہر حال ہو رہے ہیں۔ ادھر افغانستان ہے جو بھارت کی ایما پر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے اور مجبوراً پاکستان کو بھی جوابی کارروائیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔ دنیا کے دیگر اسلامی ممالک بھی اسی طرح ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہیں یا اپنے اپنے مسائل کا شکار ہیں۔
عالم اسلام میں اس اتحاد کی دور دور تک کوئی جھلک نظر نہیں آ تی جو اسلام دشمن قوتوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ یہی دیکھ لیجیے کہ ایران پر حملے کی دھمکیاں امریکہ لگا رہا تھا اور حملہ اسرائیل نے کر دیا۔ ان دونوں ملکوں کی غنڈہ گردی کیا کم تھی کہ تیسرا بدمعاش برطانیہ بھی رضاکارانہ طور پر ان کی مدد کو پہنچ گیا۔ یہی نہیں جب امریکہ نے افغانستان کا تورا بورا بنایا، عراق کی اینٹ سے اینٹ بجائی، شام کو تاخت و تاراج کیا تو پورا عالم مغرب اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا۔ انہوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نیٹو، جی سیون اور یورپی یونین سمیت نہ جانے کیسے کیسے شیطانی اتحاد بنا رکھے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں لیکن مسلمان ملکوں میں او آئی سی اور عرب لیگ جیسے اتحاد بھی نہ ہونے کے برابر ہیں جو ضرورت کے وقت کسی کام نہیں آتے۔ یہی حالت رہی تو مغرب ایک ایک کر کے سب کو قربانی کا بکرا بنائے گا۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے یقینا سب کے لیے بہت تکلیف دہ ہے لیکن دیکھا جائے تو اس میں ایران کی ماضی کی خارجہ پالیسی کا بھی بہت حد تک عمل دخل ہے۔ عراق پر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران نے اس وقت امریکہ کا ساتھ دیا۔ سعودی عرب کے ساتھ ایک طویل عرصہ ایران کے شدید اختلافات رہے۔ بھلا ہو چین کا کہ اس نے کچھ عرصہ قبل دونوں میں صلح کرا دی۔ پاکستان کے ساتھ ایران کے تعلقات بھی گزشتہ سال ہونے والے معرکہ¿ حق کے بعد بہتری کی طرف آئے ہیں، ورنہ ایک عرصہ ایران کے تعلقات پاکستان کی بجائے بھارت کے ساتھ زیادہ اچھے رہے۔
مسلمان ملکوں میں ایک اور بڑا مسئلہ حکمران طبقات اور عوام کے درمیان بے اعتمادی کا ہے جو کہ مغربی ملکوں میں نام کو بھی نہیں۔ ان ملکوں کے عوام اپنی حکومتوں سے بہت حد تک مطمئن ہیں لیکن شاید ہی کوئی اسلامی ملک ایسا ہو جہاں کے لوگ اپنی حکومت سے خوش ہوں۔ ایران میں تو کچھ عرصہ قبل مہنگائی کے خلاف باقاعدہ مظاہرے جاری تھے۔ ایسے حالات میں دشمنوں کو غداربھی بہت آسانی سے مل جاتے ہیں۔ آج اگر ایران کو ایک طرف اپنی سابق خارجہ پالیسی کے ہاتھوں نقصان ہوا ہے تو دوسری طرف غداروں نے بھی اسے اس حال تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
موجودہ حالات کے پیش نظر آج ہمیشہ سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالم اسلام متحد ہو۔ سب ملک اپنے اپنے اختلافات ختم کر کے ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کے لیے بھی زندگی گزارنے کے اسباب کو اتنا مثالی بنائیں کہ کسی کو اپنے ملکی مفاد کے خلاف سوچنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ مسلمانوں کے درمیان حکومتوں اور عوام کی سطح پر ایسے مثالی اتحاد کی ضرورت ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک ِ کاشغر
زمانہ منتظر ہے اب نئی شیرازہ بندی کا
08:58 AM, 3 Mar, 2026