ٹرمپ کا ایران پر ’بڑی لہر‘ کے حملے کا انتباہ: 49 ایرانی رہنما ہلاک، زمینی فوج بھیجنے کا آپشن بھی میز پر

10:06 PM, 2 Mar, 2026

واشنگٹن ڈی سی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو محض ایک "ابتدائی کارروائی" قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ بہت جلد ایران پر ایک بڑی اور فیصلہ کن لہر  کے ساتھ حملہ کرنے جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اب تک کے حملوں میں ایران کے 49 اہم رہنما نشانہ بن چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا تھا، جسے روکنا ناگزیر تھا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا   ہم ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے دور تک مار کرنے والے میزائلوں کا خطرہ ختم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔
امریکی صدر نے جنگ کی طوالت اور طریقہ کار کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔ صدر کا کہنا تھا کہ "میرا خیال تھا کہ ایران پر حملے میں چار ہفتے لگیں گے، لیکن ہماری فورسز شیڈول سے آگے ہیں اور ہم نے ابھی انہیں پوری شدت سے ہٹ (Hit) نہیں کیا۔سابقہ صدور کے برعکس، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو رد کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ممکن ہے اس کی ضرورت نہ پڑے، لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم زمینی فوج نہیں بھیجیں گے۔ یہ ضرورت بن سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، امریکہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "بڑی لہر" ابھی آنا باقی ہے، جس کا مقصد ایرانی رجیم کے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔

مزیدخبریں