بیوروکریسی کے اچھے برے کاموں،ناموں ، سینئر اور جونیئر افسروں پر لکھتے اب تو زمانہ گزر گیا ، نئے نئے افسروں کے بارے ، میں کم جاننے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ اب وہ ماضی کی طرح اپنے سینئرز سے کام سکھاﺅ کی درخواست کرنے کی بجائے ، غربت مٹاﺅ پروگرام جوائن کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ، ہاں گریڈ انیس سے بائیس تک کے افسروں کو جاننے اور ان کے کام کرنے کے انداز کو سمجھنے کے لئے میرا باقاعدہ رابطہ رہتا ہے ، میری عادت ہے کہ ایشوز کو زیادہ ہائی لائٹ کیا جائے ، برے کام کی نشاندہی ہو مگر وہاں ملوث افسروں کا نام نہ لکھا جائے ، لوگ خود ہی سمجھ جاتے ہیں ،ہاں جو افسر اچھا کام کرے اس کے نام اور کام کی تحسین ضرور ہو نی چاہیے، تھوڑے دن پہلے بھی ایک محکمہ میں کرپشن بارے لکھا تھا ،اس پر ایکشن لینا یا نہ لینا حکومت کا کام ہے ، کسی صحافی کا نہیں۔چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز، کالم نگار ملک سلمان اکثر جذباتی ہو جاتا ہے ، میرے ہر کالم پر سب سے پہلا فون اس کا ایک ہی قسم کا آتا ہے”بھائی جان آپ نے پھر اس فراڈیے اور دو نمبر کا نام نہیں لکھا ، میں نے آپ کو بتایا بھی تھا کہ وہ آج کل فلاں جگہ پایا جاتا ہے اور یہ یہ کر رہا ہے“ اس نے اپنے طور پر ایسے افسروں کی ایک لسٹ بنا رکھی ہے اور عام لوگوں سے ملتے ملاتے ان کا کچا چٹھا کھولتا رہتا ہے، اس نے یہ لسٹیں اتنی دفعہ سنائی ہیں کہ مجھے از بر ہو چکی ہیں،ان لسٹوں میں وہ افسر سر فہرست ہیں جنہوں نے چھپ چھپا کر دوسری تیسری شادی کی ہوتی ہے یا پھر غربت مٹانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوتے ہیں،اس نے ایسے افسروں کے اچھے اچھے نام بھی رکھے ہوئے ہیںجن سے میں محظوظ ہوتا رہتا ہوں،کافی عرصہ پہلے میں نے بھی اچھے برے افسروں کو سامنے رکھ کر، ان کے گروپ بنائے تھے ،جو ان کی پہچان بن گئے تھے۔
ایک وقت تھا ، ہیٹ ، انگلش،کافی اور سگار ایک بیوروکریٹ کی پہچان ، اپ رائٹ ،ہارڈ ورکنگ اور اکارڈنگ ٹو بک چلنا اس کی شان ہوا کرتا تھا ، ہیٹ تو متروک ہو چکا مگر سگار ، کافی اور انگریزی ابھی تک چل رہی ہے، فیلڈ کا افسر جیپ اور سیکرٹیریٹ کا افسر کار استعمال کرتا تھا، رشوت لینا تو دور کی بات اس پر ایسا الزام بھی نہیں لگتا تھا ،خلاف ضابطہ کام اس سے کرانا ناممکن بات تھی مگر اب حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بیوروکریٹ اور افسر بھی بدل گئے ہیں،آج کا بیوروکریٹ کس کس سانچے میں ڈھل چکا ہے اس پر ایک مکمل کتاب بلکہ کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں ۔ہمارے ملک میں نظام حکومت آمرانہ رہا ہو یا جمہوری ، دونوں میں بیوروکریسی کا کردار بہت اہم ہوتا ہے بلکہ کسی بھی حکومت کی کامیابی کا دارومدار ہی بیوروکریسی پر ہے،جس حکمران نے بیوروکریسی میں سے چنیدہ افسر تلاش کر کے بہترین ٹیم تشکیل دی کامیابی نے ہمیشہ اس کے قدم چومے،ہماری خوش قسمتی کہ قیام پاکستان کے وقت ہمارے حصے میں آنے والی بیوروکریسی برطانوی حکومت کی تربیت یافتہ تھی،یہ وہ دور تھا جب بھرتی میرٹ پر ہوتی،خاص طور پر وہ افراد جن کی مدد سے انگریز کو اس خطہ میں مستحکم اور مضبوط حکومت کا قیام یقینی بنانا تھا،تعلیم یافتہ افراد کو تربیت کی بھٹی سے گزار کر انہیں کندن بنایا جاتا تھا،کوٹہ سسٹم بھی نہ تھا کہ نالائق ترین افراد کو کوٹہ کے تحت اعلیٰ پوسٹ پر بھرتی کر لیا جاتا ،تقسیم کے وقت خزانہ خالی تھا،وسائل نہ ہونے کے برابر تھے،مہاجرین کی آباد کاری ایک بڑا مسئلہ تھا،مگر نو آزاد ملک کی بیوروکریسی نے تمام انتظامی،مالی،سیاسی امور کو انتہائی مہارت سے سنبھالا اور مشکل ترین وقت میں اس کو ترقی خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا،ملکی دفاع اور سلامتی کو بھی یقینی بنایا،یہ اس وجہ سے ممکن ہواءکہ افسروں کی وہ کھیپ نہ صرف تعلیم یافتہ تھی بلکہ تربیت کے مراحل سے بھی گزری اور اپنے اپنے شعبے میں مہارت بھی ان کا خاصہ تھی،قواعد و ضوابط سے نا صرف آشنائی تھی بلکہ ان پر سختی سے عمل کرنا اس وقت کی بیوروکریسی کی عادت بن چکی تھی،آئین کا احترام کیا جاتا،قانون کی پاسداری کی جاتی،افسر اپنے محکمہ کے رولز اینڈ ریگولیشن اور بائی لاز سے کما حقہ آگاہ ہوتے تھے،ان افسروں نے اپنے جونیئر افسروں کی جو کھیپ تیار کی وہ بھی بہترین تھی،جب تک امور مملکت بیوروکریسی کی اس جیسی کھیپ کے ہاتھ رہے ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر تیزی سے گامزن رہا،مگر جیسے ہی بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت،سیاست دانوں کے اثرورسوخ اور حکمران طبقہ نے غلبہ حاصل کیا وہ فورس جس کو انتظامیہ کا نام دیا گیا تھا اور امور مملکت کو چلانا جس کی ذمہ داری تھی وہ گروپوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی۔
نتیجے میں بیوروکریسی اور انتظامیہ کو مختلف نام دئیے جانے لگے وہ بھی طنزیہ،توہین اور تضحیک آموز،کسی نے افسر شاہی کا نام دیا تو کسی نے نوکر شاہی،کسی نے گورنمنٹ سرونٹ کا لقب دیا کسی نے پبلک سرونٹ،بھٹو دور میں بیوروکریسی کو گھر کی لونڈی بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی،حکمران پارٹی کے رہنماو¿ں کے زبانی احکامات نہ ماننے والے درجنوں افسروں کو گھر بھیج دیا گیا اور باقی کو سبق دیا گیا کہ اب وہ ہو گا جو حکمران چاہتے ہیں،اس وقت پیپلز پارٹی کا المیہ یہ تھا کہ وہ عوام کے مینڈیٹ سے ایک منشور کے ساتھ اقتدار میں تو آگئی تھی مگر منشور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اس کے پاس ایکشن پلان نہ تھا، اقدامات بیوروکریسی کے ذریعے اٹھائے گئے،تب بیوروکریسی کو بھی سمجھ آئی کہ نوکری کرنے کیلئے ”باس از آل ویز رائٹ“ کا فامولا درست ہے اس لئے سیاسی باس جو کہے اس پر صرف ”یس سر“ کہنا ہے،نتیجے میں جی حضوری گروپ خوب پنپا،پلا بڑھا اور اب تو یہ گروپ جوان اور پختہ کار ہو چکا ہے۔
بیوروکریسی میں ایک بہت بڑا گروپ ایسا بھی ہے جسے اپنے سوا سب غلط کار دکھائی دیتے ہیں،یہ گروپ اپنی منفی سرگرمیوں کو بھی مثبت کا نام دیتا ہے اور اس پر فخر بھی کرتا ہے،خود تو اس نے تنکا بھی دہرا نہیں کرنا ہوتا البتہ دوسروں کے کام میں خامیاں تلاش کرنے میں ساری توانائی اور ذہانت استعمال کر ڈالتا ہے،ساتھی افسروں کے کام سے کیڑے نکالنا بھی اس گروپ کا ہی کام ہے،ان کی نیگٹیو اپروچ کے باعث ان کو یار لوگوں نے ”منفی دیانت دار گروپ“ کا ٹائٹل دے رکھا ہے،اس گروپ کی بڑی خوبی یہ کہ ان کو اپنی داڑھی میں شہتیر بھی دکھائی نہیں دیتا اور دوسروں کی داڑھی سے تنکے تلاش کرنے میں مگن رہتے ہیں۔
بیوروکریسی میں مثبت سوچ رکھنے اور کام کرنے والے اچھے افسروں کی آج بھی کمی نہیں،آج بھی بہت سے افسر اپنی اصول پسندی،دیانت کے حوالے سے ممتاز ہیں،یہ افسراپنے کام کے دھنی ہوتے ہیں،ہدف بنا کر کام کرتے ہیں کام کے معاملہ میں ماتحت عملہ سے سختی کرتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کام کا مثبت پہلو دیکھا جائے ، آج بھی ہمارا دفتری نظام انہی اچھے افسروں کی وجہ سے چل رہا ہے۔
کیسے کیسے افسر؟
09:09 AM, 2 Mar, 2026