ایران اور افغانستان:بحرانوں میں گھرا خطہ 

09:09 AM, 2 Mar, 2026

پاکستان کی طرف سے مسلسل کہا جا رہا تھا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔پاکستان نے افغانستان کو بار بار تنبیہ کی، اپنے خدشات اور ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ واضح کیا کہ کسی کو پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پچھلے کئی ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں پر جھڑپیں بھی ہو رہی تھیں۔ دو دن پہلے افغانستان کی جانب سے پاکستان پر حملے ہوئے تو پاکستان نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا اور پوری قوت سے ردعمل دیا۔ اس ردعمل نے پاکستان کے تمام دشمنوں کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور سالمیت کا تحفظ کرنا بخوبی جانتا ہے۔ دنیا پر ایک مرتبہ پھر واضح ہوا ہے کہ پاکستان جو اللہ کے فضل سے ایٹمی قوت ہے۔ اس کی افواج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر کمان اپنی سالمیت کا دفاع کرنا جانتی ہیں۔ 
زیادہ وقت نہیں گزرا جب گزشتہ برس مئی کے مہینے میں بھارت نے اپنی طاقت کے غرور میں پاکستان پر حملہ کرنے کی جرا¿ت کی تھی۔ اللہ کے فضل سے پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ ا س وقت بھی ساری دنیا کو یہ پیغام ملا تھاکہ پاکستان کسی کو بھی اپنی حدود میں دراندازی کی اجازت نہیں دے گا۔ اس وقت بھی بھارت کو دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس منہ توڑ کارروائی کے تناظر میں ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی تک ہر موقع پر وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفیں کرتا ہے۔ بھارت کے رافیل طیاروں کا جو حشر ہوا ہر جگہ اس کا چرچا کرتا ہے۔ اس ہزیمت کے بعد سے بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اس نے طالبان کے پیچھے چھپ کر پاکستان پر وار کیا، دہشت گردوں کی پشت پناہی کی اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔ جوابی ردعمل کے طور پر پاکستان نے افغانستان کو منہ توڑ جواب دیا۔ اس کے بعد سے افغانستان سر اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔ دوسری طرف بھارت میں بھی صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ ڈی۔ جی۔ آئی۔ ایس ۔ پی۔ آر نے افغانستان میں پاک فوج کی کارروائیوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان تفصیلات کے مطابق پاک فوج نے 53 مقامات پر افغان فورسز کے حملے پسپا کئے گئے۔ طالبان کی 89 پوسٹیں تباہ کی ہیں۔ پاکستان ائیر فورس نے بھی افغانستان کے مختلف شہروں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور ان کے 135 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کیں۔ 18 چوکیوں پر قبضہ کر کے ان پر پاکستان کے پرچم لہرائے گئے۔
 امریکی صدر ٹرمپ ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی تعریف میں مصروف ہے۔ ٹرمپ نے اس بات کی بھی حمایت کی ہے کہ افغانستان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ سے خطے کے امن کو جو خطرہ ہے ، اس تناظر میں پاکستان نے بالکل ٹھیک قدم اٹھایا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے افغانستان کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے سے روکے اور پاکستان اور دہشت گردوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرئے۔ اس ساری صورتحال میں افغانستان اب مذاکرات اور ثالثی کا خواہاں ہے۔ چین، روس، ترکی ، قطر اور کچھ دیگر دوستوں نے ثالثی کی کوشش کی ہے۔ پاکستان جنگ اور کشیدگی کے حق میں نہیں ہے۔یوں بھی جنگ یا کشیدگی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پاکستان خود معیشت کی کشتی کو کسی کنارے پر لگانے کیلئے کوشاں ہے۔ وہ کسی جنگ و جدل یا کشیدگی کی خواہش نہیں رکھتا۔ نا ہی اسے لڑائی جھگڑے میں دلچسپی ہے۔ یہ ہمیشہ اپنے ہمسایوں سے پرامن تعلقات کا خواہاں ہے۔پاکستا ن نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ بھائی چارے کا معاملہ کیا ہے۔ سفارتی سطح پر بھی اس کی مدد کی اور چالیس سال تک افغان مہاجرین کی اپنی سرزمین پر مہمان نوازی کی۔ بہرحال اب افغانستان کو واقعتاپاکستان کوچننا ہو گا یا پاکستان دشمنی کو۔ جب تک افغانستان بھارت کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتا رہے گا اور ہوش کے ناخن نہیں لے گا یہ صورتحال اسی طرح رہے گی۔ افغان حکومت کو اس امر کی تفہیم کرنی چاہیے کہ افغان عوام نہایت مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کی زندگی میں آسانی لانے کیلئے کردار ادا کرئے۔ اس ضمن میں عالمی برادری کو بھی بھارت کے اس رویے کی مذمت کرنا ہو گی جو ےہ چھپ کر پاکستان پر وار کر نے کا عادی ہو چلا ہے۔ 
دوسری طرف ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی نے خطے کی صورتحال کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات، انفراسٹرکچر اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ نہایت دکھ کی بات ہے کہ ان جنگی حالات میں ا یران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال میں ایران میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ ایران نے بھی بھرپور جوابی کاروائیاں کی ہیں۔ میزائل اور ڈرون حملوں سے امریکی اور خلیجی اتحادی ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔ اس جنگی صورتحال کی وجہ سے خطے کے مختلف ممالک میں خوف و ہراس اور بے یقینی کی ایک کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ان کاروائیوں کے نتیجے میں بے گناہ اور معصوم شہری ہلاک ہورہے ہیں۔
ایران میں داخلی حالات پہلے ہی خراب ہیں۔اقتصادی صورتحال ابتر ہے۔ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے اور سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اب ان فوجی کارروائیوں نے عوام کی زندگی کو مزید متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ یہ صورتحال جاری رہتی ہے تو دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک طوفان اٹھے۔ خلیجی ممالک میں فضائی حملے اور عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی کا خوف ہر جگہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور کیونکر تھمے گا۔ 
ایران ہو یا افغانستان دونوں ممالک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام موجود ہے۔ اس صورتحال میں ایک افسوسناک انسانی بحران نے جنم لیا ہے۔ شہری زندگی بری طرح متاثر ہے۔ خوراک، صحت، کی سہولیات متاثر ہوئی ہیں اور انسانی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اقوام عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر ان مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنا کردار اداکریں۔امن کی کوششیں ہونی چاہیں اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل ہونے چاہیں۔ 

مزیدخبریں