”تسبیح پھری پر دل نہ پھریا۔۔۔“

09:07 AM, 2 Mar, 2026

چاچا رشید چوپال میں د اخل ہوئے توایک ہی بات بار بار کہہ رہے تھے کہ اللہ ہدایت دے اور اللہ توفیق دے۔۔ وہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ نتھو اور پھتو نے پوچھا چاچا جی معاملہ کیاہے؟ اس پر چاچا رشیدنے کہا کہ بچوں چپ سائیں کو آنے دو اس بارے میں پھر بات کروںگا۔ تھوڑی دیر کے بعد چپ سائیں بھی چوپال میں آئے۔ وہ بھی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔۔ روزے کی وجہ سے وہ بھی کچھ نحیف دکھائی دے رہے تھے۔تاہم کچھ دیر بعد سانس بحال کی اور سب کی خیریت دریافت کی۔ اس پر چاچا رشید نے کہاکہ سائیں جی رمضان، ہدایت اور توفیق کے بارے میں کچھ بتائیں۔۔ میں دراصل اس بارے میںاس وجہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کیونکہ۔۔۔ میں نے ابھی ایک صاحب حیثیت وصاحب ثروت کو رمضان میں خیرات کرتے دیکھا لیکن اس کے ساتھ ہی ۔۔۔ باقاعدہ فوٹو سیشن بھی دیکھا۔۔۔ اس پر ایک بزرگ جو حلیہ سے ضرورت مند دکھتے تھے۔۔ ان کو یہ کہتے سنا کہ۔۔ بھائی۔۔ خیرات نہیں دینی تو نہ دیں پر یہ فوٹو سیشن تو نہ کریں۔۔ آپ کوتوفیق تو ہوئی لیکن۔۔ وہ کہتے کہتے چپ کرگئے۔۔۔ چپ سائیں بولے۔۔حق ہو۔۔۔ یہ کہہ کر دوبارہ چپ کرگئے۔۔۔ اب سب ان کے بولنے کے منتظر تھے۔
چپ سائیں بولے۔۔ دوستو!یہ سب ریاکاری کے زمرے میں آتا ہے۔۔ ہم خیرات تو کررہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ فوٹو سیشن کا دکھاوا بھی کررہے ہیں۔۔۔مجھے اس بات پر ایک واقعہ یا دآگیا دو روز قبل میں قبرستان فاتحہ خوانی کے لیے گیا۔۔ وہاں پر ایک درویش۔۔صدا دے رہا تھا ۔۔۔ بھائیو اٹھو۔۔ بولو توسہی۔۔۔ یہ وہ مہینہ آگیا ہے جب ہم گرانفروشی کریں گے۔۔۔اٹھو۔۔ بھائیو۔۔ہم سب سے زیادہ منافع کمائیں گے۔۔ اور ساتھ ساتھ کہیں گے۔۔ الحمداللہ۔۔۔ ہم خیرا ت بھی کریں گے اور کہیں گے۔۔۔ یہ ذرا تصویر توبناﺅ۔۔۔ بھائیو جاگو ۔۔ میری بات کا جواب تو دو۔۔۔ وہ کہتے کہتے چپ کرگیا۔۔۔
 چوپال کے دوستو!۔۔ اس درویش کی بات انتہائی غور طلب ہے۔۔پاکستانی معاشرے میں ریاکاری محض ایک انفرادی برائی نہیں رہی، بلکہ یہ ایک سماجی وبا بن چکی ہے۔ریاکاری دراصل احساسِ کمتری کا ایک دفاعی نظام ہے۔ جب ایک شخص جانتا ہے کہ اس کے پاس وہ علم، دولت یا تقویٰ نہیں ہے جس کا معاشرہ تقاضہ کرتا ہے، تو وہ اسے حاصل کرنے کی محنت کرنے کے بجائے اس کا ''لبادہ'' اوڑھ لیتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں عبادات کا مقصد اللہ کی رضا سے زیادہ سماجی رتبہ بن گیا ہے۔
”تسبیح پھری پر دل نہ پھریا، کیہ تسبیح پھیر کے لینا ہو“!۔۔۔۔ حضرت سلطان باہوؒ کی بات سو فی صد درست ہے۔۔۔ بڑی بڑی تسبیحات ہاتھ میں رکھنا، ماتھے پر محراب لانے کی مصنوعی کوشش، اور حج و عمرہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا اس کی بدترین مثالیں ہیں۔صاحبو! ریاکار شخص دو زندگیاں بسر کر رہا ہوتا ہے۔ تاہم یہ تضاد اسے ذہنی طور پر کبھی پرسکون نہیں رہنے دیتا۔پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، لیکن یہاں کی شادیاں اور پارٹیاں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ شاید ہم دنیا کی امیر ترین قوم ہیں۔ قرض لے کر شان و شوکت دکھانا، برانڈڈ کپڑوں کی نمائش کرنا اور اپنی اصل آمدن چھپا کر بلند معیار زندگی کا ڈھونگ رچانا ''شہتیروں کو جپھے'' ڈالنے کے ہی مترادف ہے۔دوستو!ہم اندر سے کھوکھلے ہو رہے ہیں لیکن باہر سے مضبوط دکھائی دینے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔ہم حقیقت کے راستے سے فرار چاہتے ہیںاور اس وجہ سے ہی ہم وہ کربیٹھتے ہیں کہ جو ہمیں اصل سے دور نہیں بلکہ انتہائی دور کردیتا ہے۔
سیاست کے میدان میں ریاکاری عروج پر ہے۔ لیڈر عوام کے سامنے ''غریب پروری'' کے نعرے لگاتے ہیں لیکن ان کے اپنے بچے اور جائیدادیں بیرونِ ملک محفوظ ہیں۔ بھائیو !یہ ریاکاری ملک کے نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے کیونکہ فیصلے ''عوامی مفاد'' کے بجائے ''ذاتی و گروہی مفاد'' کے لیے کیے جاتے ہیں۔ریاکاری صرف نیکیوں کو ہی برباد نہیں کرتی بلکہ پورے معاشرے کا تانا بانا بکھیر دیتی ہے۔ ہم رمضان میں دل کھول کرخیرات کررہے ہیں لیکن ساتھ ہی ۔۔فوٹو سیشن۔۔۔ اللہ کی پناہ!۔۔۔جب ہر شخص دکھاوا کرے گا، تو سچی ہمدردی اور بے غرض محبت ختم ہو جائے گی۔ ریاکار لوگ اپنی چرب زبانی اور دکھاوے سے بڑے بڑے عہدے حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ حق دار اور مخلص لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ صاحبو! جب جھوٹ اور منافقت کو ''ہوشیاری'' کا نام دے دیا جائے، تو وہ قوم اخلاقی طور پر مر جاتی ہے۔اس دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ حقیقت پسندی ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم کھوکھلے ہیں اور حقیقت میں کمزور ہیں اسی وجہ سے دکھاوا اور ریاکاری کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دوستو شہتیروں کو زبردستی جپھے ڈالنے کے بجائے، ہمیں اپنی بساط کے مطابق محنت کرنی چاہیے۔ خاموشی میں ہی خیر یت ہے، اپنے نیک عمل کو چھپانا سیکھیں اور دل کھول کرخیرات کریں چاہے کسی کو ایک چپاتی ہی دے دیں، نیت کو صاف کریں کہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، وہ صرف خالق کے لیے ہے، مخلوق کی واہ واہ کے لیے نہیں۔
بھائیو!ریاکاری ایک سنہرا جال ہے جس میں پھنس کر انسان اپنی آخرت اور دنیا دونوں برباد کر لیتا ہے۔ اگر پاکستان کو ایک عظیم قوم بننا ہے تو ہمیں ''نمائش'' کے کلچر کو دفن کر کے ''خلوص'' کے بیج بونے ہوں گے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کے ہاں آپ کا ''پروٹوکول'' نہیں چلتا، بلکہ آپ کا ''تقویٰ'' اور ''سچائی'' دیکھی جائے گی۔۔۔
صاحبو!اخلاقی طور پر مضبوط انسان وہ ہے جو اپنی چادر دیکھ کر پا¶ں پھیلاتا ہے۔ قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ترقی نہ کرے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے ادھار کی زندگی نہ جیے۔ اگر ہمارے حکمران اور عوام سادگی اختیار کر لیں، تو ہمیں قرض کے ان شہتیروں کی ضرورت ہی نہ رہے جن کے بوجھ تلے ہم دبے ہوئے ہیں۔ریاکاری کی سب سے بدترین شکل یہ ہے کہ انسان کہے کچھ اور کرے کچھ۔ ایک باکردار قوم وہ ہوتی ہے جس کے قول و فعل میں ہم آہنگی ہو۔ ہمیں ''بغل میں چھری، منہ میں رام رام'' والے رویے کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ اخلاقی بلندی یہ ہے کہ آپ تنہائی میں بھی وہی ہوں جو محفل میں ہیں۔۔لہذا۔۔۔تسبیح کے دانے پھیریں اور ساتھ اپنا دل بھی پھیریں۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں