پاکستان اس وقت جن داخلی و خارجی چیلنجز سے نبردآزما ہے، ان میں سیاسی استحکام بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے نازک مرحلے پر ذمہ دار قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ اور طرزِ عمل میں تدبر، تحمل اور قومی مفاد کو مقدم رکھے۔ بدقسمتی سے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کا 23 فروری کا حالیہ بیان اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ یہ بیان نہ صرف غیر ضروری تھا بلکہ اس کا وقت بھی نامناسب تھا، جس نے سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کے بجائے دوبارہ بڑھا دیا ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ وزیرِاعلیٰ کے سخت اور جارحانہ بیانات نے صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان خلیج کو وسیع کیا ہو۔ ماضی میں بھی ان کے لب و لہجے نے پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے مابین تلخیوں کو ہوا دی۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر جب اختلاف دشمنی کی صورت اختیار کر لے تو اس کا نقصان صرف حکومتوں کو نہیں بلکہ ریاست کو ہوتا ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ عرصہ قبل وزیرِاعلیٰ کے رویے میں نمایاں لچک دیکھنے میں آئی تھی۔ بیانات میں نرمی، رابطوں میں بہتری اور مفاہمانہ طرزِ فکر نے ماحول کو کشیدگی سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وفاقی سطح پر بھی مثبت اشارے ملے۔ متعدد رہنماو¿ں نے اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیا، جن میں رانا ثنائاللہ بھی شامل تھے۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ تعلقات میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے، جو ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سیاسی بلوغت کا مظاہرہ دونوں جانب سے نظر آ رہا تھا۔ اختلافات کے باوجود مکالمے کا دروازہ کھلا تھا، اور ایک مشترکہ قومی ایجنڈے پر پیش رفت کی امید بندھی تھی۔ مگر حالیہ بیان نے اس پیش رفت کو دھچکا پہنچایا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقتی سیاسی فائدے کے لیے ایک بار پھر محاذ آرائی کی راہ اختیار کی جا رہی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس جارحانہ لب و لہجے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ سیاسی مبصرین کے نزدیک اس کے پسِ منظر میں اندرونی دباو¿، جماعتی صفوں میں بے چینی، اور قیادت سے متعلق سوالات کارفرما ہو سکتے ہیں۔ جب کسی جماعت کو حکمتِ عملی کی ناکامیوں، غیر مو¿ثر احتجاجی سیاست اور عوامی حمایت میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہو تو بعض اوقات قیادت جذباتی بیانات کے ذریعے اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر ایسی حکمتِ عملی دیرپا نہیں ہوتی۔ وقتی تالیوں کے عوض طویل المدتی نقصان مول لینا دانشمندی نہیں بلکہ بے وقوفی ہے۔
پاکستان اس وقت معاشی بحالی کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ سرمایہ کار اعتماد کی بحالی، سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور عالمی سطح پر مثبت تاثر قائم کرنے کے لیے داخلی استحکام ناگزیر ہے۔ ایسے میں اگر صوبائی اور وفاقی حکومتیں لفظی جنگ میں مصروف ہو جائیں تو اس کا براہِ راست اثر ریاستی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ بیوروکریسی غیر یقینی کا شکار ہوتی ہے، پالیسی تسلسل متاثر ہوتا ہے اور عوام میں مایوسی بڑھتی ہے۔مزید برآں، خیبر پختونخوا ایک ایسا صوبہ ہے جو سکیورٹی کے اعتبار سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ وہاں کی قیادت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ وفاق کے ساتھ ہم آہنگی کو ترجیح دے تاکہ دہشت گردی اور سرحدی چیلنجز کا مو¿ثر مقابلہ کیا جا سکے۔ اگر بیانات ہی محاذ آرائی پر مبنی ہوں تو عملی تعاون کیسے ممکن ہوگا؟
اس ضمن میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان محاذ آرائی کا راستہ کبھی بھی کسی جماعت کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوا۔ ماضی میں بھی سخت بیانات اور اسٹیبلشمنٹ مخالف جذباتی نعروں نے مطلوبہ سیاسی نتائج نہیں دیے۔ اس کے برعکس، جب مفاہمت اور تدبر کو اپنایا گیا تو سیاسی درجہ حرارت میں کمی آئی اور نظام آگے بڑھا۔وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کا منصب محض جماعتی نمائندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ ایک صوبے کے سربراہ بھی ہیں اس لئے ان کے ہر لفظ کا وزن ہے اور ہر بیان کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔ قیادت کا امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب حالات نازک ہوں۔ آسان وقت میں سخت بات کرنا بہادری نہیں، بلکہ مشکل وقت میں نرمی اور تدبر اختیار کرنا اصل سیاسی مہارت ہے۔حالیہ بیان نے ایک بار پھر نفرت کی چنگاری کو ہوا دی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف سیاسی ماحول مزید آلودہ ہوگا بلکہ معاشی اور سکیورٹی اہداف بھی متاثر ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیرِاعلیٰ اپنی حکمتِ عملی پر نظرِثانی کریں، ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور مفاہمت کی اسی راہ پر واپس آئیں جس نے کچھ عرصہ قبل مثبت نتائج دیے تھے۔
سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر نفرت انگیزی جمہوریت کی نفی ہے۔ آج پاکستان کو نعروں سے زیادہ پالیسی کی ضرورت ہے، محاذ آرائی سے زیادہ مکالمے کی ضرورت ہے، اور ذاتی یا جماعتی مفاد سے زیادہ قومی مفاد کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ اگر قیادت اس بنیادی اصول کو فراموش کر دے تو نقصان پورے ملک کو بھگتنا پڑتا ہے۔چنانچہ وقت کا تقاضا ہے کہ جذباتی سیاست کے بجائے بالغ نظری کا مظاہرہ کیا جائے۔ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا کو چاہیے کہ وہ اپنے منصب کی نزاکت کو سمجھیں، غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہی رویہ نہ صرف ان کی اپنی سیاسی ساکھ کےلئے مفید ہوگا بلکہ پاکستان کے استحکام کےلئے بھی ناگزیر ہے۔
سیاسی بلوغت یا وقتی مفاد؟
09:06 AM, 2 Mar, 2026