ایٹم بم چلانے کا وقت 

09:05 AM, 2 Mar, 2026

کسی بھی قوم اور اس کے لیڈروں کا کردار دیکھنا ہو تو میلوں ٹھیلوں میں نہیں میدان جنگ میں دیکھنا چاہئے، کون موت سے دور بھاگتا ہے اور کون اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے آخر وقت تک کھڑا رہتا ہے۔ ایرانی رہبر معظم اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں جام شہادت نوش کرنے کے بعد اپنے خدا کے حضور پیش ہو گئے ہیں، انہیں آج سے چند روز قبل روس یا چین میں کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی پیش کش کی گئی تھی لیکن انہوں نے سابق شامی صدر بشارالاسد کے طریقے پر چلنے سے انکار کرتے ہوئے کہا وہ مشکل وقت میں اپنی فوج اور عوام کے ساتھ رہتے ہوئے اپنی جان قربان کرنے کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے جو کہا وہ کر دکھایا۔ ایران کے ساتھ مسلم امہ میں غم کی پرچھائیں نظر آتی ہے لیکن ا یرانی لیڈر ان کی شہادت سے ایرانی سپاہ کے حوصلے پسپا نہیں ہوئے بلکہ ان کے جذبہ شوق شہادت کو جلا ملی ہے، جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے کے بعد دو مختلف ممالک میں مختلف مناظر تھے۔ ایران پر بمباری کے بعد ایرانی مرد و زن ، بچے، بوڑھے گھروں سے نکل آئے۔ انہوں نے ایرانی حکومت کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیل کی جارحیت کا سخت ترین جواب دینے کا عہد دہرایا، دوسری طرف ابھی ایران نے جوابی حملہ نہیں کیا تھا کہ اسرائیل کے تمام بڑے شہروں میں بھگدڑ مچ گئی، لوگ جانیں بچانے کے لئے محفوظ پناہ گاہوں کی طرف دوڑے جبکہ ایرانی جوابی حملے شروع ہونے سے کئی روز قبل اسرائیلی اہم شخصیات غیر ممالک سدھار گئیں۔ گزشتہ برس ایران پر حملوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم جنگ کے پہلے روز ہی یونان فرار ہو گئے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے آخری ملاقات کے بعد وہ فقط تین روز اسرائیل ٹھہرے وہ اور ان کا خاندان ایرانی میزائلوں کے تل ابیب پہنچنے سے قبل ملک چھوڑ گئے، اب تمام بیان بازی وہیں سے ہو رہی ہے۔
ایران نے دنیا کے سامنے اپنا اصولی موقف رکھا اور اس پر قائم رہا کہ وہ اسرائیل یا امریکی اڈوں پر پہلے حملہ نہیں کرے گا لیکن ایران پر حملے کے بعد کسی سے کوئی رعایت نہیں کرے گا۔ ایران نے دو سو لڑاکا اور بمبار طیاروں کا پہلا حملہ برداشت کرنے کے بعد ان کا موثر جواب دیا ہے جس سے ان کی استقامت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی ڈرون اور میزائلوں کی برسات کے پہلے مرحلے میں تل ابیب، حیفہ اور یروشلم پر سو سے زیادہ میزائل گرے ہیں، جنہوں نے ان شہروں کے درودیوار ہلا کے رکھ دیئے ہیں جبکہ اسرائیلی شہر اشکلون میں تباہی کی داستان سنانے والا ڈھونڈنے سے نہیں مل رہا۔ ایرانی میزائلوں نے امریکی اڈوں کو جس کامیابی سے نشانہ بنایا ہے وہ امریکی صدر کی حیرانی میں اضافہ کر دے گی۔ وہ پریشان تھے کہ ایران اپنے گھیراﺅ کے باوجود امریکی دھمکیوں کو کیوں نظرانداز کر رہا ہے۔ اب وہ حیران ہوں گے کہ خلیج میں امریکی اڈوں پر لگایا گیا دفاعی نظام کیسے ناکارہ ہو گیا، جن اڈوں کو ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا ہے وہ فقط ایک دکان نہ تھی جس کا شٹر گرا کر اسے بند کر دیا گیا بلکہ وہ جہازوں، میزائلوں اور ہزاروں فوجیوں سے بھرے تھے جہاں میزائلوں نے تباہی مچا دی۔ انفراسٹرکچر تنصیبات کی تباہی کے ساتھ مختلف اڈوں پر سیکڑوں امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں، جن کی لاشیں امریکی حکمت عملی کے تحت اب عرصہ دراز تک فریزروں میں بند رکھ کر مناسب وقت پر تدفین کے لئے نکالی جائیں گی، جس طرح افغان جنگ میں مارے جانے والے ہزاروں امریکیوں کی لاشیں سرد خانوں میں پڑی رہیں اور کئی سال بعد جب انہیں ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بنا تو دنیا کو ”کرونا“ کا جھانسہ دیا گیا پھر ان امریکیوں کی لاشوں کو کرونا کے بہانے ٹھکانے لگا دیا گیا۔ یہ لاشیں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین میں رکھی گئی تھیں۔ انہیں ممالک میں کرونا کا زور دکھایا گیا تھا۔ یہ سب ڈرامہ اس لئے رچایا گیا تھا کہ امریکہ اور یورپ لاشیں اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے، یہ حوصلہ صرف مسلمانوں کا ہے۔ وہ اپنے جگر گوشوں کی لاشیں بھی اٹھاتے ہیں اور دشمن کو سبق بھی سکھاتے ہیں۔ اس فلسفے کی بہترین مثال ایران نے گزشتہ برس پیش کی تھی۔ جاری جنگ میں دنیا اس کا نقش ثانی دیکھے گی۔
میڈیا پر امریکیوں اور یہودیوں کا قبضہ ہے لہٰذا خبریں وہی بھیجی جا رہی ہیں جو ان کے مطلب کی ہیں۔ اسرائیل کی تباہی کے مناظر چندروز بعد سامنے آئیں گے جب روس اور چین کے سیٹلائٹ یا مقامی افراد اس تباہی کے مناظر دنیا کے سامنے رکھیں گے۔
ایرانی میزائلوں نے پہلے راﺅنڈ میں اسرائیلی شہروں کا جو حشر کیا ہے اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حملے کے فوراً بعد امریکہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اٹلی کے ذریعے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے۔ ایران کی حیرت انگیز کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے دفاعی منصوبے کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں دنیا کے پچاس ملکوں کو تیل کی سپلائی میں تعطل آنے کے بعد آٹے دال کا بھاﺅ معلوم ہو گا۔ اگلے مرحلے میں حوثی اپنا کردار ادا کریں گے جس کے بعد ایران کو تنہا چھوڑنے والے سر پکڑ کر بیٹھے نظر آئیں گے۔ جنیوا کے بند کمروں میں عالمی خواجہ سراﺅں کے اجلاس جاری رہیں گے جبکہ جنگ کا فیصلہ میدان جنگ میں ہو گا۔ افغانستان کی جنگ میں بیس برس کے دوران جتنے امریکی مارے گئے، ایران پر حملے کے بعد اگر یہ جنگ ایک ماہ تک بھی جاری رہی تو اس میں مارے جانے والے امریکیوں اور اسرائیلیوں کی تعداد ان سے زیادہ ہو گی۔ ماہرین معاشیات اقتصادی نقصان کے اندازہ لگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں کی پروازیں رک جانے اور آبنائے ہر مز کی بندش سے روزانہ پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہو گا جبکہ میدان جنگ میں جہازوں، بحری جہازوں، میزائلوں چھوٹے بڑے سستے اور قیمتی ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کی تباہی سے ہونے والا نقصان اس کے علاوہ ہے۔ آنے والا ہر دن اور ہر رات بہت اہم ہے۔ اسرائیل امریکہ مشترکہ حملے کے پردے میں کچھ جہاز پاکستان کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کر سکتے ہیں۔ یہ نکتہ نیتن یاہو ٹرمپ ملاقاتوں میں اور چند روز قبل نریندرا مودی نیتن یاہو ملاقات میں زیر بحث آیا ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں الجھانا اور ایران پر حملہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ایک ہی وقت میں ایک ہی علاقے میں دو جنگیں شروع ہونا محض اتفاق نہیں ہے۔ ہمیں سندور ٹو کی طرف سے بھی غافل نہیں رہنا چاہئے۔ ایٹم بم چلنے کا وقت زیادہ دور نہیں جو پہلے چلائے گا وہی فائدے میں رہے گا ورنہ منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا۔

مزیدخبریں