اسے اگر خود نمائی پر محمول نہ کیا جائے تو میں کہنا چاہوں گا کہ مجھے شخصیات کے تذکرے، ان کے شخصی خاکے، ان کی آپ بیتیاں، ان کی زندگی سے جڑے واقعات، ان کے دور کے حالات اور ملکی و قومی منظر نامے یا ان سے متعلقہ شعبوں میں ان کی خدمات یا دائرہ اثر کے بارے میں پڑھنا، جاننا اور معلومات حاصل کرنا ہمیشہ سے پسند رہا ہے۔ اس طرح آپ بیتیاں یا شخصیات کے تذکرے اور شخصی خاکے جہاں میرے ذہن کے نہاں خانے میں پہلے سے موجودہ معلومات میں اضافے، مماثلت اور ان کو نکھارنے کا باعث بنتے ہیں وہاں قابلِ قدر شخصیات اور اکابرین کے لیے میرے دل میں پہلے سے موجود قدر افزائی کی تسکین کا ذریعہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں لیکن اگر میں یہ کہوں کہ ماضی میں، مَیں نے قدرت اللہ شہاب مرحوم، الطاف گوہر مرحوم اور مختار مسعود مرحوم جیسے نامور بیوروکریٹس کی تصانیف جو ایک لحاظ سے آپ بیتیاںہی شمار ہوتی ہیں ذوق و شوق سے پڑھی ہیں تو اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔ قدرت اللہ شہاب کا ”شہاب نامہ“، الطاف گوہر کی ”ایوب خان فوجی راج کے دس سال“ اور مختار مسعود کی ”آواز دوست“، ”سفر نصیب“، ”لوحِ ایام“ اور ”حرفِ شوق“ میری پسندیدہ کتب رہی ہیں اور اِن سے میں نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ حالیہ برسوں بلکہ پچھلے دو تین سال میں، مَیں نے بریگیڈئیر ریٹائرڈ صولت رضا کی آپ بیتی ”پیچ و تاب زندگی“ کا سبقاً سبقاً مطالعہ ہی نہیں کیا بلکہ اپنے کم از کم دو کالموں میں اس کا تذکرہ بھی کیا ہے تو اس کے ساتھ ایک اور محترم قلمکار جن کی تصانیف میری خصوصی دلچسپی اور پسند کا محور رہی ہیں وہ ڈاکٹر فاروق عادل ہیں جن کی ”ہم نے جو بھلا دیا“ اور ”جب مو¿رخ کے ہاتھ بندھے تھے“ ایسی تصانیف ہیں جنہیں میں نے ذوق و شوق سے پڑھ کر اپنے کالموں میں بھی ان کا ذکر کیا۔
”دیکھا جنہیں پلٹ کے“ محترم ڈاکٹر فاروق عادل کی ایک اور مایہ ناز تصنیف ہے۔ یہ ان کے شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں شامل مضامین یا شخصی خاکوں میں آدھے یا اس سے کچھ زیادہ میں نے چند ماہ قبل پڑھ رکھے تھے۔ عید کی چھٹیوں میں کچھ فراغت ملی تو میں نے پہلے کے پڑھے ہوئے خاکوں یا مضامین سمیت باقی ماندہ مضامین یا خاکے بھی پڑھے ہیں۔ شخصی خاکوں یا شخصیات کے بارے میں لکھے ان مضامین کی کل تعداد 67 ہے جو سات عنوانات کے تحت تقسیم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے پہلے عنوان ”سابقون الاولون“ کے تحت 3، دوسرے عنوان ”جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھی“ کے تحت 25، تیسرے عنوان ”اہلِ نظر“ کے تحت 5، چوتھے عنوان ”اہلِ جنون“ کے تحت 13، پانچویں عنوان ”غم خوار“ کے تحت 3، چھٹے عنوان ”میں جاگتا ہوں تیرا خواب دیکھنے کے لیے“ کے تحت 16 اور ساتویں اور آخری عنوان ”دفترِ ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات“ کے تحت 2 خاکے شامل ہیں۔
اِن سبھی خاکوں یا مضامین پر بات کرنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دیکھا جائے کہ مصنف خود اپنے اِن مضامین یا خاکوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ”جواز“ کے تحت اپنی تحریر (پیش لفظ) میں وہ لکھتے ہیں کہ ”انسان چاہتا تو یہی ہے کہ اس کی شناخت بنے لیکن یہ حساب کا سوال نہیں اور میرا ریاضی کا خانہ ہمیشہ خالی رہا ہے البتہ ریاض کے معاملے میں ، میں نے خود کو خوش قسمت پایا۔ ان خاکوں میں اس کی کوئی جھلک دکھائی دے تو یہ سرا سر اللہ کا فضل ہے ورنہ میں جانتا ہوں کہ کچھ خاکے جو قلم سے نکلے، کمزور بھی ہیں۔ اصولاً انہیں اس مجموعے میں نہیں ہونا چاہیے۔“ اپنے تحریر کردہ خاکوں کے بارے میں مصنف کی تحریر کا یہ مختصر سا اقتباس یقینا چشم کُشا سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ کتاب کے بیک ٹائٹل پر بطورِ فلیپ بزرگ استاد، معروف قلمکار اور تجزیہ نگار پروفیسر متین الرحمان مرتضیٰ مرحوم کی جو تحریر چھپی ہے، اسے مزید چشم کُشا کہا جا سکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ”ڈاکٹر فاروق عادل کے خاکوں کو اگر کوئی صحافتی سرگرمی کہنا چاہے تو شوق سے کہہ لے لیکن اِس شخص کے لکھے ہوئے خاکوں میں جو رنگا رنگی، معنویت، تنوع اور جمال ہے کیا یہ محض صحافت ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ صحافت سے ادب کو دیس نکالا مِلے زمانہ بِیت چکا لیکن ڈاکٹر فارق عادل نے یہ خاکے لکھ کر ہماری صحافتی زبان میں وہ رعنائی پیدا کر دی ہے جسے تا دیر یاد رکھا جائے گا۔“
کتاب میں شامل شخصی خاکے جن کی کل تعداد 67 کے بارے میں لکھنا کچھ آسان نہیںکہ یہاں اس کی گنجائش نہیں البتہ کچھ قابلِ قدر اور قابلِ تعظیم ناموں کا ذکر کیا جا سکتا ہے جن کے شخصی خاکے اس کتاب میں شامل ہیں۔ ”سابقون الاولون“ کے تحت حصے میں تین شخصیات سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ، نوابزادہ لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کے بارے میں تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ بلا شبہ یہ تینوں ہماری قومی تاریخ کی مایہ ناز شخصیات ہیں۔ ان کا تذکرہ ایک سعادت بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ ”راست باز“ کے عنوان کے تحت پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کے بارے میں ان کے دیرینہ خاندانی تعلق دار مرزا جواد بیگ کا حوالہ دے کر مصنف ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔ ”کراچی میں ملیر کے علاقے کھوکھرا پار میں جلسہ تھا، وقت مقررہ پر وزیرِ اعظم (لیاقت علی خان) پہنچے اور جوتے اتار کر سٹیج پر بچھی دری پر بیٹھ گئے۔ میں چونکہ ان کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا، اس لیے میری نگاہ ان کے پاو¿ں پر پڑی تو میرے اوسان خطا ہو گئے۔ ان کے موزے پھٹے ہوئے اور ان سوراخوں میں سے ان کے پاو¿ں کی رنگت
جھلک رہی تھی۔ موقع پا کر میں نے ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تو پاو¿ں سمیٹتے ہوئے کہا کہ نئے موزے کہاں سے لاو¿ں؟ پھر مسکرائے اور کہا کہ تم تو میرے حالات سے واقف ہی ہو۔“ اسی حصے میں ”قطب صاحب کی لاٹھ“ کے عنوان سے سردار عبدالرب نشتر کے بارے میں مصنف کی تحریر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مصنف ایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”1949ءمیں ان دنوں جب قرار دادِ مقاصد زیرِ غور تھی۔ اسمبلی کے اندر اور باہر تند و تیز مباحث کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ زیرِ بحث مسائل میں ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ آیا پاکستان کے صدر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ضروری ہے یا نہیں؟ یہ ایک اہم مشکل مرحلہ تھا۔ دونوں طرف سے بھاری بھر کم شخصیات تھیں جو اپنی اپنی رائے کے حق میںمضبوط دلائل رکھتی تھیں۔ الطاف قریشی (مرحوم) نے لکھا ہے کہ اس موقع پر نشتر نے جو تقریر کی اس نے ایوان کا رنگ بد ل ڈالا۔ اس طرح صدرِ پاکستان کے لیے مسلمان ہونا ضروری قرار پایا۔“
”جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھی“ کے کتاب کے حصے کے تحت جیسے پہلے لکھا گیا ہے 25 شخصی خاکے یا مضامین شامل ہیں۔ ان میں میاں محمد نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، مرحوم صدر ممنون حسین، عمران خان، سید منور حسن مرحوم، جنرل پرویز مشرف مرحوم، ڈاکٹر طاہر القادری اور جاوید ہاشمی وغیرہ کے بارے میں لکھے گئے خاکے خصوصی دلچسپی کے باعث سمجھ جا سکتے ہیں۔
دیکھا جنہیں پلٹ کے....!
09:06 AM, 2 Jun, 2026