راولپنڈی : پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر پولی گرافک ٹیسٹ کروانے سے انکار کر دیا، جس کے بعد لاہور پولیس اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم اڈیالہ جیل سے ٹیسٹ کیے بغیر واپس لاہور روانہ ہو گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ٹیم عدالتی حکم پر 9 مئی کے واقعات سے متعلق تفتیش کے لیے پیر کی دوپہر تقریباً 12:45 پر اڈیالہ جیل پہنچی۔ چار گھنٹے طویل انتظار کے باوجود نہ تو عمران خان نے تفتیشی ٹیم سے ملاقات کی اور نہ ہی کسی قسم کا تعاون فراہم کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے انکار کے باعث فوٹو گرامیٹک اور وائس میچنگ سمیت دیگر سائنسی ٹیسٹ بھی ممکن نہ ہو سکے۔ ٹیم کی قیادت ڈی ایس پی آصف جاوید کر رہے تھے جبکہ فرانزک ماہرین بھی ہمراہ تھے۔
یہ چوتھی بار ہے کہ عمران خان نے پولی گرافک ٹیسٹ کو مسترد کیا ہے، حالانکہ عدالت کی جانب سے واضح اجازت ملنے کے بعد یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ سائنسی شواہد کی بنیاد پر 9 مئی کے مقدمات کی تفتیش مکمل کی جا سکے۔
پولیس حکام کے مطابق اس رویے سے نہ صرف تفتیشی عمل متاثر ہو رہا ہے بلکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد بھی مشکل ہو گیا ہے۔ معاملے پر آئندہ کا لائحہ عمل قانونی مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔