جنرل دیویدی کا آشرم میں روحانی جھکاؤ یا پالیسی اشارہ؟ کشمیر پر ’دکشینا‘ کی پیشکش نئی سمت کی طرف اشارہ؟

11:15 AM, 2 Jun, 2025

نئی دہلی :  جب ایک فوجی وردی، جو آئینی غیر جانبداری کی علامت ہے، کسی مذہبی مقام پر جھکتی ہے، تو صرف ماتھا نہیں، نظریات بھی جھکتے ہیں۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپندر دیویدی کا ہندو پیشوا جگدگرو رام بھدرآچاریہ کے آشرم میں جانا، اور وہاں کشمیر جیسے حساس معاملے پر ایک مذہبی پیشکش پر آمادگی ظاہر کرنا، کئی ریاستی اصولوں پر سوالیہ نشان لگا گیا ہے۔

پیشوا کی طرف سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو “دکشینا” کے طور پر بھارت کو واپس دلانے کی اپیل، اور جنرل کی مبینہ منظوری، محض مذہبی جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ ایک نظریاتی رجحان کا اظہار بھی ہے — ایک ایسا رجحان جس میں سیکولر فوجی ڈھانچہ آہستہ آہستہ مذہبی قوم پرستی کے دباؤ میں ڈھلتا نظر آ رہا ہے۔

کیا یہ محض ایک عقیدتمند فوجی افسر کا ذاتی عمل تھا، یا کسی بڑی فکری تبدیلی کی علامت؟ اور سب سے اہم: کیا اب وردی ریاست کی نہیں، کسی عقیدے کی نمائندہ بننے لگی ہے؟

مزیدخبریں