یار دوستوں کی محفل میں یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری کیوں ناکام ہوئی تو ان کے لئے میرا جواب ہوتا ہے کہ فلم انڈسٹری کے حوالے سے دو چار ایسی چیزیں ہیں جو ہماری فلم اس کی ناکامی کا سبب بنیں گو اسی فلم انڈسٹری نے کئی عشروں تک عروج بھی دیکھا اور بڑے نامور سپر سٹارز سامنے آئے۔ میرے نزدیک اس کی ناکامی میں تعلیم کا فقدان بڑا عنصر تھا۔ ایک وہ دور جب صرف اردو فلموں کا راج تھا۔ دو چار پڑھی لکھی اداکارائیں اور اداکار سامنے آئے مگر اکثریت دو چار جماعتیں پاس اور چند ایک نے میٹرک کیا ہوا تھا۔ دوسری ناکامی اس کے ساتھ جڑے وہ در و دیوار جسے ہم کبھی ’’ہیرامنڈی‘‘ تو کبھی ’’بازار حسن‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ یہاں سے آنے والی اداکارائیں یعنی اسی بازار حسن سے بہت سی اداکارائوں نے فلم انڈسٹری کا رخ کیا۔ البتہ اس زمانے کے اکلوتے پی ٹی وی پر ڈرامے کی اداکارائیں فلم انڈسٹری کی طرف اس لئے رخ نہیں کرتی تھیں کہ یہاں کے ماحول کے بارے سب کی ایک رائے تھی کہ فلم میں کام کرنے والیوں کا تعلق بازار حسن سے تھا اور ان کے والدین انہیں فلم انڈسٹری میں کام کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ بس یہی ایک چھاپ فلم نگری کو لے ڈوبی جبکہ تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ بہت سی نامور اداکارائوں نے فلم انڈسٹری کا رخ کیا جن پر چھاپ تھی۔ اگر موسیقی کے حوالے سے بات کروں تو بہت سی گلوکارائوں کا تعلق یہاں سے تھا۔ اس بارے میں بازار حسن اور اس کے کرداروں پر بے شمار فلمیں بنیں۔ ان پر کتابیں لکھی گئیں اور اس ہیرامنڈی کے منظر اور پس منظر کی کئی کہانیاں، کئی داستانیں بھی رقم ہوئیں۔ کل کے مقابلے میں آج اگر وہاں کا ماحول دیکھیں تو وہ بہت بدل چکا ہے۔ یاد رہے ایک وقت وہاں طوائفوں کے ڈانس دفاتر ہوا کرتے تھے جہاں اب کھسوں کی بڑی مارکیٹ بن گئی ہے۔ گو اس کا تھوڑا بہت وجود آج بھی موجود ہے۔ اگر پاکستان کے بڑے موسیقی کے گھرانوں کے علاوہ موسیقی کے حوالے سے بات کروں تو پاکستانی فلمی میوزک میں اگر کوئی چیز ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی تھی تو وہ بازار حسن تھا جس کا نام آتے ہی لوگوں کے ذہن میں اس سے منسوب باتیں یاد آتی، بہت سے قصے کہانیاں یاد آتی ہیں۔ یہاں میں یہ بات کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ایک زمانے میں ہیرامنڈی ہماری موسیقی کی دنیا کی بہت بڑی نرسری تھی کیونکہ پاکستان میں موسیقی سیکھنے اور سکھانے کا کوئی اور ادارہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا اور نہ کوئی میوزک اکیڈمی، یہ تو ہیرامنڈی ہی تھی جہاں سے موسیقی سے جڑے نامور گائیک یہاں سے اٹھے تھے اور کئی زمانوں سے بازار حسن میں نسل در نسل مجرے کی روایات بھی چلی آ رہی تھیں اور انہی مجروں کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور اسی بازار حسن سے جڑی موسیقی کی بڑی روایت جو کئی دہائیوں تک موسیقی کی دنیا کے لیے نامور گلوکارائیں پیدا کرتی رہی۔ اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کہ خرابیاں خامیاں ہر جگہ پر موجود ہوتی ہیں مگر یہاں ایک دور ایسا بھی گزرا جب بازار حسن بنیادی طور پر امراء کے ذوقِ جمالیات کی تسکین کا بڑا مرکز ہوا کرتا تھا جہاں شام ڈھلے طبلے کی تھاپ اور گھنگرو کی جھنکار سے بیٹھکیں گونجتی تھیں اور موسیقی کی دھنیں ماحول کو آسمان پر لے جایا کرتیں۔ جن لوگوں نے اس کا ذاتی طور پر مشاہدہ نہیں کیا وہ کبھی اس ماحول اور موسیقی کی لطافت کو تصور میں بھی نہیںسمجھ سکتے۔ بطور صحافی میں برسوں ان گلیوں اور محلوں میں گھوما پھرا ہوں۔ 1978ئسے جب میں نے بطور شوبز رپورٹر باقاعدہ شوبز کی دنیا میں قدم رکھا تو اس زمانے میں یہی تو ایک ذریعہ تھا اخبارات اور رسائل کے فلمی ایڈیشن کے ٹائٹل کے لئے انہی گلیوں اور چوباروں سے فنکارہ کے نام سے ماڈلز کے نام پر ماڈلنگ اور انٹرویوز ہوتے تھے آپ کو یاد ہوگا کہ اس زمانے میں پاکستان بھر میں بڑے پروگرامز کے لئے بازار حسن سے ڈانسرز اور میوزیشن، گلوکار اور گلوکارائیں بک کئے جاتے تھے۔ ان دنوں آج کی طرح بیک گرائونڈ میں میوزک سسٹم چلا کے گانا نہیں ہوتا تھا بلکہ ہر پروگرام لائیو میوزک کے ساتھ ہارمونیم اور طبلہ اور ان کے ساتھ واحد انسٹرومنٹ ڈانس کرنے والی لڑکی کے پاؤں میں گھنگرو ہوتے تھے۔ جن کا چلتے میوزک کے ساتھ تال میل کیا ہی خوبصورت ماحول بناتا۔ آج وہ لوگ جو حیات ہیں، میری ان باتوں سے اتفاق کریں گے کہ پاکستان کی بڑی گلوکارائوں، اداکارائوں کے سفر کا آغاز اسی بازار سے ہوا اور وقت کے ساتھ فنکار یا گانے والے جو بعد میں پاکستانی فن کی معراج پر پہنچے اور دنیا میں ان کے نام کا سکہ بھی چلا اسی مٹی سے پاکستان کی فلم انڈسٹری میں بڑی بڑی اداکاراؤں نے جنم لیا اور وہ نامور ٹھہریں۔
اور آخری بات…!
ہمارے ہاں موسیقی کے حوالے سے جب کوئی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے ایک ہی سوال کیا جاتا ہے کہ پنجاب سے اٹھنے والے گلوکار، گلوکارائیں بڑے میوزیشن، بڑے طبلہ نواز، گٹار نواز، بڑی آوازیں جن میں کلاسک موسیقی کے بڑے گھرانے کے بڑے خانوں کو بازار حسن ہی سے کیوں جوڑا جاتا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ زمانوں سے دنیا بھر میں اداکاری اور میوزک کے حوالے سے اس آرٹ کی بے پناہ نرسریاں ہیں جہاں باقاعدہ کورسز اور تربیت دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اس بات کا رواج ہی نہیں پڑا اور بڑی بدقسمتی کہ ہماری موسیقی کا زیادہ کلچر بازار حسن سے شروع اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا پھر جیسے ہی بازار حسن ختم ہوا سو اس کے ساتھ ہی واحد میوزک کی نرسری بھی بند ہو گئی۔ یہاں ایک مثال دوں گا کہ پاکستان کے نامور طبلہ نواز طافو گھرانے اور استاد فتح علی خان سے لے کر بڑے موسیقی کے بڑوں خانوں تک اسی بازار حسن سے نامور کہلائے۔ آج بھی ان کی تاریخ ان کے کارنامے ان کی یادیں اسی بازار حسن سے وابستہ ہیں۔ یہاں تو ایک ایسا دور بھی گزرا جب تمام گلوکارائوں، اداکارائوں اور ڈانسرز کے بغیر لاہور کی کوئی بڑی تقریب نہیں ہوتی تھی۔ یہیں سے پوری دنیا میں جو پاکستانی شوز ہوتے تو ان میں جو بڑے گروپ شرکت کرتے ان کا تعلق بھی اسی بازار حسن سے تھا اور یہاں یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ جب سے اس بازار حسن کے دروازے بند ہوئے آپ کی نہ تو وہ موسیقی رہی اور نہ وہ آوازیں اور نہ وہ بڑے موسیقار اور نہ بڑے میوزیشن… جدید میوزک کے نام سے اب بڑے گروپس جو جدید آبادیوں میں اپنا روزگار چلا رہے ہیں وہ نامور نہیں کہلاتے کہ اب نہ اساتذہ، نہ اکیڈمی، نہ سیکھنے اور نہ سکھانے والے لہٰذا فرق صرف یہ پڑا کہ ہم بڑی آوازوں سے محروم ہیں۔ یہاں نصرت فتح علی خان سے لے کر ابرار الحق کو اس موسیقی سے نہ جوڑا جائے۔ یہ انفرادی قوت بھری آوازیں ہیں۔
بازار حسن اور میوزک نرسری
09:53 AM, 2 Jun, 2025