کسی بھی قوم کی اصل دولت سونے، تیل، گیس یا معدنی ذخائر نہیں ہوتے بلکہ اس کے نفوس ہوتے ہیں۔ مگر انسان اسی وقت سرمایہ بنتا ہے جب ریاست اسے تعلیم، صحت، روزگار اور باوقار زندگی کے مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ بصورتِ دیگر یہی انسان، جسے قومی طاقت ہونا چاہیے، محدود وسائل پر ایسا بوجھ بن جاتا ہے جو معیشت کی کمر توڑ دیتا ہے۔ پاکستان آج اسی کربناک حقیقت کے دہانے پر کھڑا ہے۔
ہم ایک ایسے ملک میں سانس لے رہے ہیں جہاں آبادی کی رفتار ترقی کی رفتار کو مسلسل پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ ہر سال لاکھوں نئے افراد اس ملک کے وسائل میں شریک ہو رہے ہیں، مگر قومی معیشت ان کے لیے نہ اتنے روزگار پیدا کر پا رہی ہے، نہ اتنے تعلیمی ادارے، نہ صحت کی سہولتیں اور نہ ہی زندگی کی بنیادی ضروریات دے پا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ قومی آمدنی بڑھنے کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دیتے، کیونکہ دولت سے زیادہ تیزی سے ضرورت مندوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ معاشیات کا ایک سادہ سا اصول ہے کہ جب وسائل محدود ہوں اور صارفین کی تعداد مسلسل بڑھتی رہے تو ہر فرد کے حصے میں آنے والا وسائل کا حصہ سکڑ جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ فی کس آمدنی جمود کا شکار ہے، مہنگائی نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے، جبکہ غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی بھی ایک امتحان بنتی جا رہی ہے۔ حکومت کا بیشتر بجٹ ترقی پر نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہو رہا ہے، جس سے انفراسٹرکچر، صنعت، تحقیق، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری متاثر ہوتی نظر آ رہی ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبے بھی اسی بے ہنگم آبادی کے دباو¿ تلے سسک رہے ہیں۔ ایک طرف لاکھوں بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں تو دوسری طرف سرکاری ہسپتال مریضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر، ادویات، بستروں اور طبی سہولیات کی کمی ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو کیا ریاست ہر نئے پیدا ہونے والے بچے کو تعلیم، علاج اور روزگار فراہم کر سکے گی؟۔ صورتِ حال صرف یہیں تک محدود نہیں۔ زرعی زمینیں تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو رہی ہیں، زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک نیچے جا رہا ہے، صاف پانی نایاب ہوتا جا رہا ہے، جبکہ شہروں میں ٹریفک، فضائی آلودگی، کچی آبادیاں اور ماحولیاتی مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ قدرتی وسائل کی بے دریغ کھپت ایسے ہی ہے گویا ہم اپنے بچوں کے حصے کا مستقبل بھی آج ہی استعمال کر رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی قومی مالیات پر بھی ایک ایسا دباو¿ ہے جس کا اعتراف کیے بغیر حقیقت کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ جب ریاست کو ہر سال لاکھوں نئے شہریوں کے لیے تعلیم، صحت، خوراک، توانائی اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کرنا پڑیں اور معیشت اس رفتار سے نہ بڑھ ہو رہی ہو تو بجٹ خسارے میں جانا قدرتی امر ہے، پھر یہی خسارہ قرضوں میں بدلتا ہے اور قرض آنے والی نسلوں کے کندھوں پر منتقل ہو جاتا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے۔ یوں آج کی غیر زمرہ دارانہ منصوبہ آبادی کل کے بچوں کو مقروض پیدا ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اس مسئلے کا حل برسوں پہلے تلاش کر لیا تھا۔ سنگاپور، ناروے، سوئٹزرلینڈ اور فن لینڈ اس حقیقت کی روشن مثالیں ہیں کہ ترقی کا تعلق آبادی کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کے معیار سے ہوتا ہے۔ ان ممالک نے انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کی، تعلیم کو ترجیح دی، صحت کا مضبوط نظام قائم کیا، صنعت اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیا اور آبادی کو متوازن رکھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کم آبادی رکھنے کے باوجود وہ دنیا کی خوشحال ترین معیشتوں میں شامل ہو گئے۔ اس کے برعکس پاکستان میں اگر قومی معیشت چند فیصد کی رفتار سے آگے بڑھتی بھی ہے تو بڑھتی ہوئی آبادی اس ترقی کے ثمرات کو تقسیم کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی اقتصادی اشاریے بہتر ہونے کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی کا احساس پیدا نہیں ہوتا۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں وقتی نعروں کی نہیں بلکہ قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کو صحتِ عامہ اور معاشی استحکام کا حصہ بنایا جائے، نہ کہ اسے غیر ضروری تنازعات کی نذر کیا جائے۔ مذہبی رہنما، اساتذہ، ڈاکٹر، میڈیا اور سول سوسائٹی مل کر عوام میں یہ شعور بیدار کریں کہ ایک چھوٹا اور متوازن خاندان ہی خوشحال خاندان کی بنیاد ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری کو قومی ترجیح بنایا جائے، کیونکہ دنیا کے تجربات یہی ثابت کرتے ہیں کہ تعلیم یافتہ اور بااختیار خواتین معاشرے میں متوازن آبادی اور بہتر معیارِ زندگی کی ضمانت بنتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات ہر خاندان تک پہنچانا بھی ناگزیر ہے۔
مزید برآں، آبادی اور معیشت کو الگ الگ خانوں میں رکھنے کی بجائے ایک مشترکہ قومی پالیسی کے تحت دیکھا جائے۔ روزگار، صنعت، زراعت، شہری منصوبہ بندی، پانی، توانائی اور تعلیم کی ہر پالیسی مستقبل کی آبادی کو سامنے رکھ کر تشکیل دی جائے۔ نوجوانوں کو جدید ہنر، مصنوعی ذہانت، برآمدی صنعتوں اور ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے تاکہ وہ قومی خزانے پر بوجھ نہیں بلکہ معیشت کا انجن بن سکیں۔
اگر ہم نے آج آبادی اور معیشت کے درمیان توازن پیدا کر لیا تو یہی نوجوان ہماری ترقی کا سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہوں گے، اور اگر ایسا نہ کیا تو محدود وسائل، بڑھتے قرضے، بے روزگاری اور غربت آنے والی نسلوں کا مقدر بن جائیں گے۔ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو وقت پر فیصلے کرتی ہیں، اور ان قوموں کو بھی جو فیصلہ کرنے میں دیر کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کو اب یہ طے کرنا ہے کہ اسے تاریخ کے کس صفحے پر اپنا نام لکھوانا ہے۔
بڑھتی آبادی: چھوٹی معیشت، بڑا بوجھ
09:08 AM, 3 Jul, 2026