2019 میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا جن میں سے ایک جموں و کشمیر اور دوسرا لداخ تھا۔ مگر اب لوگوں نے ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لداخ کے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ لداخ میں لوگوں نے آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے لیکن دیگر ضمانتوں کی طرح آئینی حقوق کو یقینی بنانے کی ’مودی کی گارنٹی‘ بھی جعلی اور ’چائنیز گارنٹی‘ ہے۔ کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ چینی فوج ابھی تک ہمارے علاقوں پر قابض ہے۔ دراصل مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں چھٹے شیڈول کے تحت ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظ کا مطالبہ کے تحت احتجاج ہو رہا ہے۔ آئین کے جس چھٹے شیڈول کے تحت سیکوریٹی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ قبائلی ثقافت کے تحفظ کے لیے ہے۔ کانگریسی صدرکا کہنا تھاکہ ”لداخ میں آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت قبائلیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جسے زبردست عوامی حمایت مل رہی ہے۔ لیکن دیگر تمام ضمانتوں کی طرح لداخ کے لوگوں کے آئینی حقوق کو یقینی بنانے کی ’مودی کی گارنٹی‘ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ یہ جعلی اور چائنیز ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔“
مودی حکومت لداخ کے ماحولیاتی طور پر حساس ہمالیائی گلیشیئرز اپنے قریبی دوستوں کو دینا چاہتی ہے۔ ”وادی گلوان میں ہمارے 20 بہادر جوانوں کی قربانی کے بعد پی ایم مودی نے چین کو کلین چیٹ دیا تھا، جس کی وجہ سے ہماری سٹرٹیجک سرحدوں پر چین کی توسیع پسندی کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔“ ایک طرف مودی حکومت نے ہماری
علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے تو دوسری طرف وہ لداخ کے ہمارے ہی شہریوں کے آئینی حقوق پر حملہ کر رہی ہے۔
2014 سے اب تک پی ایم مودی اور ان کے چینی ہم منصب کے درمیان آمنے سامنے بات چیت کے کم از کم 19 دور ہو چکے ہیں، اس کے باوجود مودی حکومت 2020 سے پہلے کی صورت حال کو لاگو کرنے میں ناکام رہی ہے۔ چین کا دیپسانگ، ہاٹ اسپرنگ اور گوگرا کے علاقوں میں ہندوستانی علاقوں پر قبضہ کرنا جاری ہے۔کانگریس لداخ کی حفاظت اور سرحدوں پر ہمارے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پابند عہد ہے۔ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کٹھ پتلی وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہاہے کہ بھارتی حکومت جموں وکشمیر اورلداخ کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کررہی ہے۔
عمر عبداللہ نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لداخ میں جاری بحران کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے لداخ خطے کے لوگوں کودیوارکے ساتھ لگادیا ہے۔ نئی دہلی میں مودی کی زیرقیادت حکومت نے لداخ کو چھٹے شیڈول کا درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اس وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی ،لداخ کے لوگوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ ان سے وعدے کیے گئے لیکن پورے نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہا بدقسمتی سے یہ ایک معمول بن چکا ہے، خاص طور پر جموں و کشمیر کے ساتھ وعدے کیے جاتے ہیں اور پھر توڑ دیے جاتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ بھی دھوکہ دہی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہم سے ریاست کا وعدہ کیاگیا تھا لیکن اسے پورا نہیں کیاجارہا۔ کیا جموں و کشمیر کو بھی دیوار سے لگانے کا ارادہ ہے؟ کیا یہ اس لیے ہے کہ ہمارے مطالبات پرامن اور جمہوری طریقے سے اٹھائے جا رہے ہیں؟۔
اگست 2019میں دفعہ370کی منسوخی کے بعد کشمیر اور لداخ دونوں کو آئینی ضمانتوں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن یہ یقین دہانیاں پوری نہیں ہوئیں۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان وعدوں کو پورا کیا جائے۔ لداخ میں بھارتی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت میں اضافہ ہوگیا ہے، لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے 23 جون 2026 کو لداخ بھر میں بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا۔20 جون 2026 کو لداخ کی سول سوسائٹی کے گروپوں لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے اعلان کیاکہ 23 جون کو مکمل ہڑتال کی جائے گی، جس پر عمل کیا گیا۔ یہ احتجاج بھارتی حکومت کی جانب سے 22 مئی کے فیصلوں سے انکار کرنے اور اجلاس کے طے شدہ منٹس جاری کرنے میں دانستہ تاخیر کے خلاف کیا گیا۔
لداخ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے بھارتی وزارت داخلہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ لداخ کے ساتھ طے شدہ فیصلوں اور تحریری ریکارڈ سے منحرف ہو رہی ہے، جس پر عوامی گروپوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔عوامی گروپوں کا کہنا ہے کہ انہیں مودی سرکار کی نیت پر شبہ ہے اور لداخ کے عوام کے ساتھ ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے کا دھوکہ کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت فیصلوں پر عملدرآمد روکنے کے لیے دلائی لاما کے دورے کو سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ مذہبی دورے کی آڑ میں مودی سرکار لداخ کا سودا کرنا چاہتی ہے، جبکہ دلائی لاما کا دورہ انہیں خاموش نہیں کرا سکتا۔ لداخ کی سول سوسائٹی کے مطابق منتخب وزیراعلیٰ اور بااختیار اسمبلی کا وعدہ کیا گیا تھا، جبکہ لداخ کو مقامی معاملات پر تمام انتظامی و مالیاتی حقوق دینا بھی طے پایا تھا۔
لداخی عوام کا آئینی حقوق کا مطالبہ
09:05 AM, 3 Jul, 2026