بھارتی اعتراضات کے باوجود واٹس ایپ اپنے یوزر نیم فیچر پر قائم

06:11 PM, 2 Jul, 2026

کیلیفورنیا: واٹس ایپ نے اپنے آئندہ متعارف کرائے جانے والے یوزر نیم فیچر کے حوالے سے بھارتی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کے تحفظ اور جعلی شناختوں کی روک تھام کے لیے ضروری حفاظتی انتظامات پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں۔

بھارتی حکام نے میٹا کی ملکیت میں موجود میسجنگ پلیٹ فارم سے مطالبہ کیا تھا کہ یوزر نیم فیچر کو متعارف کرانے سے قبل یہ بتایا جائے کہ کمپنی جعل سازی، نقالی اور آن لائن فراڈ کو روکنے کے لیے کون سا نظام اختیار کرے گی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اگر صارفین فون نمبر ظاہر کیے بغیر رابطہ کر سکیں گے تو اس سے دھوکا دہی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اس پر واٹس ایپ کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی نے فیچر کی تیاری کے دوران ہی ایسے خدشات کا جائزہ لے کر ان کے حل کو یقینی بنایا تھا۔

ترجمان کے مطابق فی الحال صارفین کو صرف اپنی پسند کا یوزر نیم محفوظ کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے، جبکہ اس کے عملی استعمال کا آپشن ابھی دستیاب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیچر رواں برس مرحلہ وار صارفین تک پہنچایا جائے گا۔

واٹس ایپ نے یہ بھی واضح کیا کہ جعلی شناختوں کی روک تھام کے لیے معروف شخصیات، فنکاروں، تصدیق شدہ میٹا اکاؤنٹس، سرکاری اداروں اور دیگر اہم شخصیات کے نام عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے بلکہ صرف متعلقہ افراد یا اداروں کے لیے مخصوص رہیں گے۔

یاد رہے کہ واٹس ایپ نے 30 جون کو یوزر نیم فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی نے اس وقت بتایا تھا کہ اس سہولت کا مقصد صارفین کو فون نمبر شیئر کیے بغیر رابطے کی آسانی فراہم کرنا ہے، تاہم اس عمل میں سکیورٹی کو بھی اولین ترجیح دی گئی ہے۔

میٹا کے مطابق نئے فیچر کے نفاذ کے بعد کسی گروپ میں شامل ہونے یا پہلی بار کسی شخص یا ادارے سے گفتگو شروع کرنے پر صارف کا فون نمبر خودکار طور پر ظاہر نہیں ہوگا۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ یوزر نیم منتخب ہونے کے بعد کسی بھی شخص کے لیے رابطہ کرنا اسی صورت ممکن ہوگا جب اسے متعلقہ صارف کا درست یوزر نیم معلوم ہوگا۔

مزیدخبریں