نامور لوگ زندگی تک نامور رہتے ہیں جیسے ہی آنکھ بند ہوئی دنیا نے بھلانا شروع کر دیا۔ گزشتہ دنوں ٹی وی کے نامور کمپیئر، اداکار، صداکار اور سیاست دان طارق عزیز کی برسی بڑی خاموشی سے گزر گئی… اور کسی کو خبر ہونے کے باوجود خبر نہ ہو سکی۔ زمانے کی دھول انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ کوئی اس دھول میں رُل جاتا تو کوئی اس سے نکل کر اپنی اہمیت جتا جاتا ہے۔ آپ کوئی بھی شعبہ لے لیں، وہاں بڑی قد آور شخصیات جنہوں نے زمانے بنائے، جن کے نام سے زمانے منسوب ہوئے اور انہی سے زمانے کامیاب ٹھہرائے گئے۔ بات اگر آرٹ، کلچر اور ڈرامے کی جائے تو پھر ایک ایسا نام جس نے ایک نہیں کئی محاذوں پر خود کو آزمایا اور پھر وہ ہر آزمائش میں پورا اترا۔ شاید قدرت بھی اس پر مہربان اور وقت بھی اس کا ساتھ دے رہا تھا۔ حالات اس کے اپنے کنٹرول میں تھے، خوبصورت نین نقش، آواز میں کھنک، لفظوں میں رعب، جس مٹی میں ہاتھ ڈالے سونا بن جائے۔ وہ فتوحات کا عادی تھا، وہ جہاں سے گزرا لوگوں کے دلوں میں اپنا گھر بناتے بناتے نیلام گھر بنا گیا۔ پی ٹی وی کا جب 1964ء میں آغاز ہوا تو سکرین پر نمودار ہونے والا پہلا چہرہ، پہلی آواز اور پہلا پروگرام کرتے کرتے اس نے طارق عزیز کو اس کے مرنے تک بلندیوں پر رکھا… طارق عزیز گو اس کی وجہ شہرت پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین شو نیلام گھر تھا مگر اس نے نیلام گھر سجانے تک خود کو کئی میدانوں میں آزمائش کے طور پر ڈالا یعنی سیاست، اداکاری، صداکاری، فلم، ڈرامہ، ریڈیو سے ٹی وی سے فلم کی بڑی سکرین کو طارق عزیز دیا… میری زندگی میں جتنے یار دوست آئے ان میں یہ واحد شخصیت تھی جسے میں بار بار ملا اور ہر ملاقات کے بعد دل نے پھر ملاقات کی سفارش کر دی۔ ان سے کی کئی ملاقاتوں میں کئی واقعات رونما ہوتے گئے مگر ایک واقعہ آج اپنے قارئین کو ضرور سنائوں گا۔ 1993ء کی بات ہے میر شکیل الرحمن جنگ کے ایڈیٹر انچیف ہیں نے مجھے اپنے آفس میں بلا کر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ طارق عزیز سے بات کریں۔ ہم ’’جنگ بچوں کا نیلام گھر‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔ ان دنوں میگزین پروڈکشنز کے علاوہ بچوں کا ایڈیشن بھی میرے ذمہ تھا۔ شکیل صاحب کا آئیڈیا یہ تھا کہ اس میں بڑے سکولوں کے بچوں کے ساتھ بڑے پروگرامز کئے جائیں جن میں بچوں کے کھیل اس زمانے کے… مثلاً کوکلا چھپاکی، گلی ڈنڈا، لکن میٹی، بٹنوں کا کھیل، بندر تماشا چاروں صوبوں کے فینسی ڈریس شوز پر مشتمل پروگرامز رکھیں۔ میں نے شکیل الرحمن کا یہ آئیڈیا طارق عزیز کے سامنے رکھا تو انہوں نے چند دنوں کے بعد پی ٹی وی کے حکام بالا سے بات کرنے کے بعد بتانا تھا پھر چند دنوں کے بعد طارق عزیز نے پی ٹی وی بلایا، پروگرام بارے مزید معلومات لیں اور پھر ان کی میر شکیل الرحمن کے ساتھ ایک طویل ملاقات جس میں آصف علی پوتا مرحوم، حسن رضوی مرحوم، واصف ناگی اور عابد تہامی تھے۔ پروگرام کے بارے ڈسکشن ہوئی پھر ایک کمیٹی بنی۔ جن افراد کا نام میں نے اوپر لکھا بہرحال پی ٹی وی کی طرف سے چند کڑی شرائط کی وجہ سے یہ پروگرام تو نہ ہو سکا مگر اس سے میں اور طارق عزیز بہت قریب ہو گئے۔ یاد رہے طارق عزیز کے گھر ایک بہت بڑا علمی خزانہ یعنی بڑی دیواروں پر لگی بڑی بڑی الماریوں میں سجی بڑی کتابیں اور ہر کتاب خود میں ایک بڑی تاریخ لئے۔ ان دنوں میں جب بھی گارڈن ٹائون طارق عزیز کے گھر گیا تو انہیں گھر کی لائبریری میں ہی پایا۔ اس انسان کو کتابوں سے بہت عشق تھا۔ طارق عزیز کے گھر جانے کے مجھے دو فائدے ملتے۔ ایک ان کے ساتھ ملاقات، دوسرا ان کے گھر سے جڑے اداکار قوی (مرحوم) کا گھر یعنی ایک ہی ماحول میں دونوں سے ملاقاتیں ہوتیں۔ طارق عزیز کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ تھی کہ اس نے آرٹ کا صرف لبادہ اوڑھ رکھا تھا جبکہ اندر سے وہ کٹر پاکستانی ہونے کے ناطے جس ماحول میں ہوتا وہ عوام اور پاکستان کی بات کرتا۔ پاکستان کو ہمیشہ اس نے اپنی زندگی سے بھی زیادہ اہمیت دی۔ آپ نیلام گھر سے طارق عزیز شو تک کے تمام تر پروگرام دیکھ لیں اس کی ہر طرح کی گفتگو میں پاکستان کے عظیم رہنمائوں کے پیغامات ہوتے۔ پی ٹی وی کے مشہور زمانہ شو نیلام گھر پہلی بار 1974ء میں نشر ہوا، بعد میں اسے طارق عزیز شو کا نام بھی دیا اور اس کے بعد بزم طارق عزیز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ طارق عزیز 28اپریل 1936ء کو ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ جب پاکستان نے 1964ء میں لاہور سے ٹیلی ویژن کا آغاز کیا تو طارق عزیز پی ٹی وی کے پہلے مرد اناؤنسر کا اعزاز حاصل کیا۔ ٹی وی فلموں میں اداکاری کے علاوہ سیاست میں بھی اپنے جوہر دکھائے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن کی حیثیت سے لاہور سے قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔ ان کی مشہور فلموں میں سے فلم سالگرہ جو ایک انتہائی کامیاب میوزیکل فلم تھی اور اس نے اس سال 2نگار ایوارڈز جیتے تھے۔ وہ پہلے ٹی وی اینکرز میں سے ایک تھے جنہوں نے کوئز شو نیلام گھر ’’طارق عزیز شو‘‘ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے تجارتی کامیابی حاصل کی۔ 1970ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ 1996ء میں وہ ان سیاسی کارکنوں میں سے ایک تھے جن پر 1997ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ان کا کیریئر 1960ئ، 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکا۔ انہیں ان کی خدمات پر صدر پاکستان کی طرف سے 1992ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ طارق عزیز نے جن فلموں میں کام کیا ان میں خاموش رہو، انسانیت، حکومت، دل دیوانہ، ہمراز، میلہ، روٹی، زندگی، کٹاری (بطور ہیرو)، سونے کی چڑیا، پرستان، سالگرہ، قسم اس وقت کی (بطور ہیرو)، کردار (بطور ہیرو)، پیا ملن کی آس، پرائی بیٹی، سوغات، افشاں، چراغ کہاں روشنی کہاں، بازار، سوداگر، بے ایمان، زخمی، کبڑا عاشق، بہاروں کی منزل جیسی کئی فلمیں شامل ہیں۔
اور آخری بات…
وہ وکھری ٹائپ کا بندہ تھا۔ آرٹ کی دنیا میں وہ اپنی ذات میں بہت بڑا ادارہ تھا جو اس کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو گیا۔
دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام
09:18 AM, 2 Jul, 2025