مرے کو مارے شاہ مدار

09:15 AM, 2 Jul, 2025

مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق حکومت نے پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب کچھ ہی دنوں قبل حکومت نے وفاقی بجٹ پیش کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ بجٹ عوام کے لیے بہترین بجٹ ثابت ہوگا اور حکومت کوئی نیا منی بجٹ نہیں لائے گی۔ 
پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے حکومت کو اربوں روپے حاصل ہوں گے جو عوام کی جیبوں سے نکل کر حکومت کے خزانے میں پہنچ جائیں گے کہنے کو تو یہ خزانہ عوامی ہے لیکن درحقیقت یہ ملک کی دو فیصد حکمران اشرافیہ کے استعمال میں آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک طرف نظام کی بے حسی اور سفاکیت اپنے عروج پر ہے تو دوسری جانب عوام کا معاشی قتل اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ سوختہ بال عوام کے لیے سانسیں برقرار رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے۔ایک عام پاکستانی کی زندگی گویا چکی کے دوپاٹوں میں پس کرریزہ ریزہ ہو گئی ہے۔ آئے روز اسے اشیائے خورونوش، پٹرول وگیس اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی نوید سنائی جاتی ہے جو اس کے ستم رسیدہ وجود پر لگاتار تازیانے برسنے کی مانند ہے۔
یہ امر قابل غور ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ معاشی شب خون اس وقت مارا گیا جب بین الاقوامی سطح پر ایران اسرائیل تنازع کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ پٹرول و گیس کی قیمتوں میں اضافے کا یہ بم نئے مالی سال کے آغاز پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے تک اضافہ کر کے گرایا گیا ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق حکومت نے یکم جولائی سے 15 جولائی تک کیلئے ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر اور پٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کے فیصلے کا فوری اطلاق کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 266 روپے 79 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
 حکومت کی جانب سے کاربن لیوی عائد کر کے اور پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ قبل ازیں حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا اس اضافے سے جہاں عام اور کمرشل صارفین متاثر ہوں گے وہاں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں گیس سے بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس کی بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپیہ اضافہ ہو گا۔
 دریں اثناء آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری جاری ہے۔ اس امر کا اندازہ  یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 1026 ٹیکس دہندگان نے سْپر ٹیکس ادا نہیں کیا جس سے قومی خزانے کو 167.9 ارب روپے کا نقصان ہوا، ایف بی آر کے پاس ادائیگی نافذ کرنے کا قانونی اختیار اور طریقہ کار موجود ہونے کے باوجود بروقت کارروائی نہیں کی گئی، صرف 4 کروڑ 80 لاکھ روپے وصول ہوپائے جو مجموعی رقم کا محض 0.02 فیصد بنتا ہے، اسی طرح 1084 ٹیکس دہندگان نے ناقابل قبول کاروباری اخراجات جیسے لیز فنانس چارجز اور ایسے اخراجات شامل کیے جن پر ودہولڈنگ ٹیکس منہا نہیں ہوا، جو انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 21 کی خلاف ورزی ہے، اس سے 149.5 ارب روپے کم جمع کیے جا سکے۔ جہاں تک ملک میں انصاف کی فراہمی کا تعلق ہے تو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس شہزادہ سلطان کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں ایک بڑی رکاوٹ عوام کی جانب سے درج کی جانے والی جھوٹی ایف آئی آرز بھی ہیں جن کا مجموعی تناسب 90 فیصد سے بھی زائد ہے۔ اس وجہ سے نہ صرف پولیس انویسٹی گیشن کے عمل پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ آگے چل کر ملزمان عدالتوں سے بھی بری ہو جاتے ہیں۔ شہزادہ سلطان نے ان خیالات کا اظہار چند روز قبل نیشنل ویژن تھنک ٹینک کی ایک خصوصی نشست میں کیا جس میں انہوں نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس کے تفتیشی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا اور جتنی جلدی ممکن ہو سکے اسے شخصی شہادت سے فارنزک شہادتوں کی طرف لے جانا ہو گا۔ ایسے میں ایک خوش آئند خبر یہ بھی ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔ پاکستان کا یہ سلامتی کونسل میں آٹھواں دور ہے جب کہ صدارت کا اعزاز اسے 2013ء کے بعد پہلی بار حاصل ہوا ہے، پاکستان نے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اپنا موجودہ دو سالہ دور جنوری 2025ء میں شروع کیا تھا جو دسمبر 2026ء تک جاری رہے گا اگرچہ سلامتی کونسل کی صدارت ماہانہ بنیاد پر بدلتی ہے اور اسے براہِ راست انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہوتے، تاہم صدارت کا حامل ملک کونسل کے ایجنڈے، مباحثوں کے انداز اور ترجیحات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے پاک بھارت تنازع کے بعد پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر اہمیت اور وقت میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام دنیا اس وقت پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کر رہا ہے جب کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو کر تیزی سے تنہائی کا شکار ہو رہا ہے یقینا اس سے حکمت عملی اور کامیابی پر پاکستان کی عسکری وقت سیاسی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔

مزیدخبریں