دشمن جب آپ کو میدانِ جنگ میں شکست نہیں دے سکتا تو پھر وہ آپ کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کیلئے سازشیں کرنے لگتا ہے۔ یہی حال اس وقت بھارت کا ہے جو میدانِ جنگ میں ہونیوالی اپنی خفت مٹانے کیلئے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہے ۔ ویسے تو بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیالیکن حالیہ شکست کے بعد اس نے پراکسی وار کا تیز کر دیا ہے اور اس کا ہدف قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان ہے۔ بلوچستان کی سرحد افغانستان اور ایران سے ملتی ہے۔ یہ صوبہ تیل ،گیس ،تانبے سمیت قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ اپنے قارئین کی معلومات میں اضافہ کیلئے بتاتا چلوں کہ صوبہ بلوچستان قیام پاکستان کے وقت پانچ حصوں پر مشتمل تھاجس میں چار شاہی ریاستیں مکران، خاران، لسبیلہ ،قلات جبکہ ایک برٹش انڈیا کا علاقہ برٹش بلوچستان تھا۔ مکران، خاران ، لسبیلہ، قلات کے علاقے کم و بیش وہی ہیں جو آج اسی نام کے ڈویژن سے موجود ہیں جبکہ برٹش بلوچستان میں موجودہ بلوچستان کے پشین ،ژوب ،چمن،قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ کے علاوہ چاغی اور کوئٹہ کے علاقے شامل تھے۔ اس وقت گوادر کا علاقہ عمان کا حصہ ہوا کرتا تھا جو کہ خان آف قلات نے عمان کو دیا تھا۔ تحریک پاکستان میں بلوچستان کے عوام اور سرداروں نے بھرپور حصہ لیا ۔ 3جون 1947ء کو مائونٹ بیٹن نے ہندوستان اور پاکستان کو آزادی دینے کا اصول تسلیم کرلیا‘ تو مسلم لیگ کے حوصلے مزید بلند ہوگئے اور وہ ہر سازش کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہوگئی۔ بلوچستان میں ریفرنڈم کی تاریخ 29جون مقرر ہوئی تھی لیکن اس سے قبل ہی بعض ایسی مشکلات پیدا ہو چکی تھیں جن کی وجہ سے پاکستان کے حق میں فیصلہ ہونا آسان نظر نہیں آتا تھا۔ مسلم لیگی زعمائ‘ قبائلی سردار اور عوام حالات کا رخ موڑنے کے لیے سر دھڑ کی باڑی لگائے ہوئے تھے۔ دوسری جانب کانگرس بھی سازشوں میں مصروف تھی جبکہ انگریز بھی مسلمانوں کی یکجہتی کو ختم کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ تاہم حق کی فتح ہوئی اور بلوچستان کے سردار وں اور عوام نے پاکستان کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ اس فیصلے کو منوانے میں نواب محمد خان جوگیزئی‘ میر جعفر خاں جمالی‘ سردار غلام محمد خاں ترین‘ عبدالغفور درانی‘ حاجی جہانگیر خاں اور سردار محمد خان جوگیزئی نے اہم کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ‘ قاضی محمد عیسیٰ‘ بلوچستان مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن‘ مسلم نیشنل گارڈز‘ ممبران شاہی جرگہ اور دوسرے متعدد کارکنوں کی خدمات کی وجہ سے آج بلوچستان دولتِ خداداد پاکستان کا جزولاینفک ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو لاتعداد قدرتی وسائل سے نواز رکھا ہے۔ بلوچستان کی سرزمین بھی معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے اور اس خطۂ ارض میں موجود معدنیا ت کو استعمال میں لا کر نہ صرف اس صوبہ بلکہ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ماضی میں ہمارے چند حکمرانوں نے اس صوبہ کی تعمیر وترقی پر کچھ خاص توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے وہاں احساس محرومی نے جنم لینا شروع کیا ۔ تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کے سردار اور عوام محب وطن اور وطن عزیز کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔موجودہ حکومت بلوچستان کے مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہی ہیں اور یہ کوششیں ثمر آور بھی ثابت ہوئی ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے رقبہ پر محیط صوبائی اکائی کے طور پر اس کے عوام دیگر صوبوں کے برابر ترقی کی امید رکھے ہوئے ہیں اور حکومت کو انکی توقعات پر پورا اترنا چاہئے۔
بھارت کو پاکستان کی ترقی و خوشحالی ایک آنکھ نہیں بھاتی اورحکومت پاکستان کے پاس اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ بھارت بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار کررہا ہے۔ حکومت نے یہ شواہد کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پبلک بھی کیے اور دنیا کو باور کرایا کہ بھارت بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال خراب کر رہا ہے۔ بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب قریب جو قونصلیٹ کھول رکھے ہیں ان کا مقصد ویزوں کا اجرا نہیںبلکہ پاکستان کے خلاف تحریکوں کی امداد کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ بھارت کی کارروائیاں عالمی طاقتوں سے مخفی نہیں ہو سکتیں لہٰذا ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی بھارتی کارروائیوں میں چند عالمی طاقتوں کی آشیر باد اسے حاصل رہی ہے۔ تاہم اب دنیا پر ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان کوئی ترنوالہ نہیں بلکہ ایک مضبوط ایٹمی ملک ہے جس سے ٹکرانا آسان نہیں اور ویسے بھی پاک فوج نے بھارت کی جارحیت کا جس منہ توڑ انداز میں جواب دیا اس سے پاکستان کی دفاعی قوت کی دھاک بیٹھ چکی ہے۔ ماضی میں امریکہ اس خطہ میں بھارت کو اہمیت دیتا رہا اور اس کی وجہ پاکستان اور چین کی مضبوط دوستی تھی جو امریکہ کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی ۔ تاہم اب حالات پلٹا کھا رہے ہیں اور امریکہ نے اس خطہ میں پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئے روز پاکستان اور اسکی قیادت کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے ہیں۔ تاہم ہمیں محتاط رہنا چاہئے اور دشمنوں کی سازشوں کو سمجھنا اور اس کے سدباب کیلئے کاوشیں جاری رکھنا ہیں ۔ ایک نیوکلیائی پاکستان چند عالمی طاقتوں کو کھٹکتا ہے لیکن پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع کچھ اس طرح کا ہے کہ پاکستان کی اہمیت سے کوئی انکار بھی نہیں کر سکتا ۔ یوں کہہ لیں جس جغرافیائی خطے میں پاکستان آبادہے وہاں امریکہ کو پاکستان کی ضرورت بھی ہے۔پاکستان کو ہر حال میں اپنے مفادات کو مقدم رکھنا ہے اور یہی ہر ملک کی اولین ترجیح بھی ہے۔
بلوچستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر کے ہی اس صوبہ میں موجود افراد کا احساس محرومی ختم کیا جا سکتا ہے اور مٹھی بھر عناصر کو وطن دشمن قوتوں کا آلہ کار بننے سے روک سکتے ہیں جو بلوچستان کے وسائل کے نام پر صوبہ میں بدامنی اور ترقی و خوشحالی کے راستے مسدود کرنے کی لاحاصل مزاحمتی جدوجہد میں اپنی تعمیر وطن کی صلاحیتوں کو ضائع اور عوام کے روشن مستقبل کی راہ میںبارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں۔اب دنیا بدل چکی ہے، پہاڑوں پر جانے کی سیاست سے زیادہ اہم کام بلوچستان میں تعلیم، صحت،انفرااسٹرکچر، روزگار اور سیاسی و سماجی ترقی و استحکام کا ہے۔ دہشتگردی اور فرقہ واریت کے عفریت کا خاتمہ کرنے کے لیے موجودہ حکومت کے مثبت ترقیاتی پروگرام کو کامیاب بنانے کی ضرورت ہے ۔
بھارت کا ٹارگٹ بلوچستان‘ مگر کیوں؟
09:14 AM, 2 Jul, 2025