ہماری بزرگ قومی قیادت

09:14 AM, 2 Jul, 2025

سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ درست ہے یا غلط، اس بارے میں بہت بحث ہو چکی ہے۔ کیس بڑا سیدھا سادہ ہے۔ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے ضوابط کے مطابق اپنے انتخابات نہیں کرا سکی جس کے باعث انہیں انتخابی نشان نہیں مل سکا۔ الیکشن 2024ء کے دوران پی ٹی آئی نے اپنے امیدواران آزاد حیثیت میں میدان میں اتارے، انہیں ووٹ ملے۔ پی ٹی آئی کے بقول اس کے امیدواران کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ ووٹ حاصل کرنے کے اعتبار سے پی ٹی آئی سب سے بڑی پارٹی ہے پھر الیکشن کمیشن کے ضوابط کے مطابق آزاد امیدواران کو تین دن کے اندر اندر کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونا ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی نے پہلے ایک اقلیتی فرقے کی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ کچھ لوگوں نے انہیں خبردار کیا تو پھر پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے آزاد امیدواران/ ممبران کو سنی تحریک میں شامل کر دیا۔ سنی تحریک کی حالت یہ ہے کہ اس جماعت کا سربراہ خود بھی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا کر اسمبلی میں پہنچا ہے۔ اس جماعت کی اسمبلی میں موجودگی ہی نہیں تھی بہرحال پی ٹی آئی کے ممبران اس جماعت میں شامل ہو گئے۔ ضوابط کے مطابق مخصوص نشستیں اس جماعت کے ممبران کو نہیں مل سکتی تھیں کیونکہ انہوں نے انتخابی عمل کے دوران، انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں کے لئے اپنے امیدواران کے نام الیکشن کمیشن میں جمع ہی نہیں کرائے۔ نتیجتاً سنی تحریک کو مخصوص نشستیں نہیں مل سکیں۔ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے نتیجے میں مخصوص نشستیں باقی سیاسی جماعتوں بشمول ن لیگ، پیپلزپارٹی، جے یو آئی، ایم کیو ایم، اے این پی وغیرہم کو مل جائیں گی۔ اس طرح ن لیگ کا حکمران اتحاد دو تہائی اکثریت کے ساتھ اور بھی زیادہ مستحکم اور طاقت ور ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی گلی گلی، نگر نگر احتجاج کرتی رہے گی۔ اپنے قائد سے ملاقاتوں کی جنگ لڑتی رہے گی، واویلا مچاتی رہے گی۔ عمران خان جیل میں ہی پڑا سڑتا رہے گا۔ پی ٹی آئی کمزور سے کمزور تر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی کی قیادت کا بچگانہ بلکہ احمقانہ کردار ہے۔ پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام رائج ہے جس میں سیاسی جماعتیں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ہماری تین بڑی قومی سیاسی جماعتیں ہیں۔ مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف۔ مسلم لیگ ن پنجاب، پیپلزپارٹی سندھ اور پی ٹی آئی کے پی پر طویل عرصے سے براجمان ہیں۔ مرکز میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ تین تین اور چار چار دفعہ حکمران رہ چکی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کو مرکز میں ایک دفعہ ہی حکومت ملی اور وہ بری طرح فیل ہو گئی۔ پی ٹی آئی کی پنجاب میں حکمرانی کا تجربہ بھی بری طرح ناکام ہوا۔ اپنے قیام اور طوالت کے اعتبار سے پی ٹی آئی جوان جماعت ہے یہ الگ بات ہے کہ اس کا سربراہ پیپلزپارٹی اور ن لیگی قائدین کے مطابق، انہی کی طرح ایک سن رسیدہ شخص ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان خشک میوہ جات، گوشت، انڈے، شہد اور دیگر مقویات کھا کر جوان بننے کی کاوشیں کرتے رہتے ہیں۔ ویسے وہ کھلاڑی رہے ہیں، کسرت کرنے کے عادی ہیں، کچھ ایسا ویسا بھی کھاتے ہیں جس سے وہ بے تکان بولتے اور بولتے ہی چلے جاتے ہیں لیکن انہیں بولنا کیا ہے کے بارے میں کچھ زیادہ تو کیا تھوڑا بھی پتہ نہیں ہے۔ اپنی ایسی ہی حرکات، بے قابو زبان کے باعث جیل میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ بات کہیں اور نکل گئی۔ بات ہو رہی تھی قومی سیاسی جماعتوں کی۔ ہماری موجودہ سیاسی جماعتیں اور سیاسی قائدین ستر اور اس سے متعلق دھائی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیپلزپارٹی ایوبی دور کے اختتام کی پیداوار اور یادگار ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے یہ جماعت 30نومبر 1967ء میں قائم کی اور تھوڑے ہی عرصے میں سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد اقتدار میں آ گئی۔ 20دسمبر 1971ء میں انہوں نے باقی ماندہ پاکستان کا اقتدار سنبھالا، بھٹو نے لوگوں کو ایک بیانیہ دیا۔ سرمایہ دارانہ طرز حکمرانی اور معیشت کے خلاف ابھارا۔ نفرت کی سیاست کو بڑے زور و شور سے پروان چڑھایا۔ اپوزیشن کو بھی خوب لتاڑا۔ 20دسمبر 1917ء کو انہوں نے مارشل لاء کے سائے میں بطور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر اقتدار سنبھالا۔ قوم کو امید دلائی شملہ معاہدے کے تحت جنگی قیدی واپس لائے، ملک کو 1973ء کا آئین دیا۔ تیسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کی۔ امت مسلمہ کا تصور ابھارا۔ پاکستان کا وہ ایٹمی پروگرام شروع کیا جو بالآخر 1998ء میں چاغی کے ایٹمی دھماکوں پر منتج ہوا۔ قادیانی مسئلہ آئینی طور پر حل کیا۔ 
بھٹو ایک بالغ نظر سیاست دان تھے لیکن ذہنی طور پر فیوڈل لارڈ تھے، اپوزیشن کو برداشت نہیں کر سکے، ہوس اقتدار کے باعث 1977ء میں ان کی حکومت کیخلاف تحریک چلی جو مارشل لاء پر منتج ہوئی۔ پیپلزپارٹی بھٹو کی شخصیت کے سحر اور بیانیے کا نتیجہ تھی ۔ تنظیم سازی نہ ہونے کے باعث وہ تاریخ کا حصہ بن گئی لیکن قومی سیاست میں اس طرح چمک نہیں سکی۔ پھر بے نظیر بھٹو نے اسے سنبھالا دیا۔ بے نظیر کی طاقتور شخصیت کے سحر میں بھٹو عوام میں زندہ رہا۔ آصف علی زرداری نے اپنی سیاسی چالوں سے پارٹی کو چلایا لیکن پارٹی عروج کی بجائے زوال کا شکار نظر آتی ہے نہ اس کی تنظیم ہے اور نہ ہی فکر۔ مسلم لیگ ن نوازشریف کی شخصیت سے وابستہ ہے۔ جنرل ضیاء الحق انہیں سیاست اور اقتدار میں لے کر آئے۔ ان کی سیاسی ساخت و پرداخت میں حصہ لیا، انہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا پھر نوازشریف نے اپنی سیاست شروع کی۔ ان کی ابتدا پیپلزپارٹی دشمنی سے ہوئی۔ پیپلزپارٹی یا بھٹو مخالف ووٹر کو متاثر کرکے آگے بڑھتے مقتدرہ کے سہارے آگے بڑھے پھر مقتدرہ کو للکارا۔ سول و ملٹری شخصیات سے لڑائی لڑی۔ حکومتیں گنوائیں، جلاوطنی اختیار کی۔ بے نظیر بھٹو کے ساتھ تاریخی میثاق جمہوریت کرکے بالغ النظری کا ثبوت دیا۔ چوتھی مرتبہ وزارت عظمیٰ حاصل کی لیکن اب کرسی پر ان کا بھائی براجمان ہے۔ پنجاب نوازشریف، شہبازشریف کے بعد مریم نواز کے پاس ہے۔ ن لیگ ایک فاتح جماعت کے طور پر اقتدار میں ہے گو نوازشریف سیاسی منظر سے غائب ہیں لیکن انہی کی پارٹی، ان کا بھائی اور بیٹی حکمران ہیں۔ 
تینوں قومی پارٹیوں کی قیادت بوڑھی اور عمر رسیدہ ہے۔ شخصی پاپولیرٹی کے سہارے ووٹ لیتی ہیں پھر جوڑ توڑ کے ذریعے حکومت حاصل کر لیتی ہیں لیکن صاف نظر آ رہا ہے کہ پارٹیاں تنظیمی طور پر کمزور ہیں۔ ان پر شخصیات اور خاندانوں کا غلبہ ہے۔ فکری اعتبار سے بانجھ ہو چکی ہیں۔ دنیا میں جس طرح حالات تبدیل ہو رہے ہیں، خطے میں جس طرح نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں ان سے نبرد آزما ہونے اور پاکستان کے لئے سودمند بنانے کے لئے طاقتور، کرشماتی اور دوربین سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو ابھی کہیں نظر نہیں آ رہی ہے۔ بلاول زرداری بھی بھٹو بننے میں مصروف ہیں۔

مزیدخبریں