”ابو جی “....!

09:04 AM, 3 Jan, 2026

برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے حوالے سے یادوں اور باتوں کا سلسلہ چل رہا ہے جو ان شاءاللہ جاری رہے گاتاہم اس سلسلے میں ناغہ کرتے ہوئے ایک کتاب اور اُس کے مصنف کا ذکر کرنا ہے۔ یہ کتاب جس کا نام ”ابو جی“ ہے، میں نے حال ہی میں پڑھی ہے۔ اس کے مصنف خطہِ پوٹھوہار کے معروف مصنف، شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ڈاکٹر طلعت شبیر ہیں۔ محترم ڈاکٹر طلعت شبیر کی یہ تصنیف جسے اُن کے مرحوم والدِ گرامی کا ایک خاکہ بھی کہا جاسکتا ہے اور جسے ڈاکٹر طلعت شبیر کی آپ بیتی کا ایک بڑا حصہ بھی سمجھا جاسکتا ہے ، ایک ایسی تصنیف ہے جس کے بارے میں مصنف کا یہ کہنا بڑی حد تک درست ہے کہ ”ابو جی“ صرف میری کہانی نہیں ہے ، یہ کسی فرد کی کہانی نہیں بلکہ ہر اُس شخص کی کہانی ہے جو والد کی محبت اور شفقت کے سائے میں رہا۔ 
سچی بات ہے کتاب ”ابو جی“ جسے میں نے چند گھنٹوں کی ایک ہی نشست میں ختم کیا ، مجھے اتنی دلچسپ اور اتنی اپنی اپنی لگی کہ پڑھتے ہوئے مجھے ایسے لگ رہا تھا کے میرے والدِ گرامی حاجی ملک محمد خان مرحوم و مغفور جنہیں ہم لالہ جی کہا کرتے تھے کا سراپا میری نگاہوں کے سامنے گھوم رہا ہے اور میں اپنی گزری زندگی کے حالات و واقعات پڑھ رہا ہوں۔ گاﺅں کے مکان کا ذکر ، ایک بڑا کمرہ، دو چھوٹے کمرے، مویشیوں کا چھپر نما کمرہ جس پر لکڑی کے شہتیر اور بالے پڑے تھے اور صحن میں بیری کے درخت۔ اس کی میرے گاﺅں کے آبائی گھر (جس کو گِرا کر میرے چھوٹے بھائی کا نیا گھر بن چکا ہے) سے اتنی مماثلت بنتی ہے کہ لگتا ہے ڈاکٹر طلعت شبیر گاﺅں کے اپنے گھر کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ میرے آبائی گھر کا ذکر کر رہے ہیں۔ پھر بات اسی پر ختم نہیں ہوتی وہ اپنے ابو جی کی محنت، مشقت ، اولاد سے لگاﺅ ، محبت ، گھر گھرانے سے لگن اور اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اور اُن کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے مسلسل بھاگ دوڑ اور جان لیوا مشقت اور ربِ کریم کی ذات پر مکمل بھروسہ اور توکل کا جس اندازسے ذکر کرتے ہیں سچی بات ہے مجھے اس میں اپنے والدِ گرامی کی جھلک نظر آتی ہے کہ ہمارے لالہ جی مرحوم ومغفور نے ہمارے لئے اسی طرح محنت اور مشقت کی ، ایک اَن پڑھ اور سادہ لوح کسان کے طور پر رزقِ حلال کمایا، اللہ کریم کی ذات پر بے پناہ ایمان ، یقین اور توکل کے ساتھ زندگی کے ماہ و سال بسر کیے اور عسرت اور تنگ دستی کے باوجود اولاد کی تعلیم و تربیت اور پرورش میں کچھ کمی نہ آنے دی۔ 
ڈاکٹر طلعت شبیر کی 128 صفحات پر محیط 
تصنیف ”ابو جی“ جس کے بارے میں مصنف ”ساتواں پڑاﺅ“ کے عنوان سے اپنے تعارفی کلمات میں لکھتے ہیں کہ یہ عشق کی داستان ہے، بلا شبہ ایسا ہی ہے ۔ کتاب کے صبح ، دوپہر اور شام تینوں حصوں میں ہمیں اس کا اظہار ملتا ہے۔ کتاب کا پہلا حصہ جو تقریباً 40 صفحات پر پھیلا ہوا ہے اس میں مصنف نے اپنے والدِ گرامی، اپنے پیارے ابو جی کی فوج کی ملازمت، ریٹائرمنٹ اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی پُر مشقت اور سخت محنت اور بھاگ دوڑ سے عبارت مصروف زندگی کے شب و روز کا ذکر کیا ہے۔ مصنف اپنے گاﺅں کے گھر اور اس میں دو بیری کے درختوں اور اُن کے کاٹے جانے کا ذکر کرتے ہیں تو بہت جذباتی ہو جاتے ہیں، وہ لکھتے ہیں ، ”تین نسلیں بیریوں سے منسلک رہیں۔۔۔ کچھ نے بیریوں کا بچپن ، کچھ نے جوانی اور کچھ نے ان کا بڑھاپا دیکھا ۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان بیریوں کو نکلوانے یا کٹوانے کی بات چلی تو ان کے والدِ گرامی نے نہ اثبات میں سر ہلایا نہ نفی کی جیسے وہ ہاں نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔ لیکن پھر بیریوں کے نکلوانے کا فیصلہ ہو گیا“۔ مصنف اسی حصے میں ایک جگہ لکھتے ہیں ،”ابوجی گاﺅں میں مجھے صرف دو موسم یاد آتے ہیں کہ اس وقت تک ۔۔۔۔ زندگی کے باقی موسموں کے ساتھ ہماری شناسائی نہ ہوئی تھی۔۔۔۔ ہاڑ جب ہم سایہ تلاش کرتے تھے ۔۔۔۔ اور آپ سایہ تھے۔۔۔۔ پوہ جب ہمیں محبت کے سیک کی ضرورت ہوتی تھی۔۔۔۔ اور ہم آپ کی طرف دیکھتے ۔۔۔۔۔“ 
کتاب کے اسی حصے میں مصنف لکھتے ہیں کہ وہ لگ بھگ سات برس کے تھے کہ ان کے ابو جی فوج سے سبکدوش ہوئے اور زندگی کے ایک نئے دور میں داخل ہوئے جس میں انہوں نے اولاد کی پرورش اور تعلیم و تربیت جو آسان نہیں ہوتی اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کیے ہونگے۔ ایک سگریٹ فیکٹری میں کام کیا اور ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور ٹرک خریدا جو آنے والی تین دہائیوں تک اُن کی گزر بسر کا ذریعہ ثابت ہوا۔اس دوران بقول مصنف اُن کے گھر کو کسی نظر لگ گئی اور وہ گردشِ دوراں کی زد میں آگئے لیکن آزمائش در آزمائش سے گزرنے کے بعد وہ سُرخرو ہوئے اور زندگی پھر پُرانی ڈگر پر آگئی۔ ابو جی نے اپنے گھر کودوبارہ کرچی کرچی جوڑا۔ گاﺅں کا سادہ سا گھر جس کے بارے میں عائشہ اکثر پوچھتی ہے کہ بابا گاﺅں کے گھر میں ایسا کیا خاص ہے کہ آپ ہر وقت گاﺅں کے گھر کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ تو میں عائشہ کو بتاتا ہوں کہ گاﺅں کا گھر ہمارے لئے بہت اہم ہے کے اس گھر سے جُڑی تین دہائیوں کی پیار کہانی ہے ۔ 
کتاب کے اسی حصے میں مصنف اپنے فوج میں کمیشن لینے کا ذکر کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ ISSB میں کامیاب ہوگیا لیکن GHQ کی طرف سے خط ملا کہ آپ اس بار جونیئر کیڈٹ بٹالین کورس میں شامل نہیں ہوسکیں گے۔ میرے لئے یہ معاملہ پریشان کن تھا لیکن ابو جی بالکل مطمئن تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ ”تم اپنے حصے کی جنگ لڑ کر جیت چکے ہو۔۔۔۔ جو تمہارے بس میں نہیں ہے اُس کے لئے پریشانی مت کرو۔ ۔۔۔ اللہ مالک ہے ۔۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔“ مصنف لکھتے ہیں کہ پھر ایسے ہی ہوا مجھے جی ایچ کیو کی طرف سے جونئیر کیڈٹ بٹالین میں کورس کے لئے رپورٹ کرنے کی ہدایت مل گئی اور میں PMA میں اپنی ٹریننگ مکمل کر کے مارچ 1999 ءکی ایک روشن صبح پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پریڈ گراﺅنڈ سے بٹالین میس کو جاتی کامیابی کی علامتی سیڑھیاں طے کر گیا۔ 
کتاب کا دوسرا حصہ دوپہر کے عنوان سے صفحہ 59 سے صفحہ 92 تک تقریباً 34 صفحات پر پھیلا ہوا ہے اس میں مصنف نے اپنی فوجی ملازمت کے ماہ و سال کا ذکر کیا ہے تو اپنی شادی، اپنے بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت اور اپنے والدِ گرامی ابو جی کی اپنی اولاد اور گھرانے سے گہرے تعلق اور اس کی بہتری ، بھلائی اور ترقی کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہنے اور بھاگ دوڑ کرنے کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس ضمن میں وہ کہانی کی صورت میں بیتے واقعات کو پیش کرتے ہیں۔ کتاب کے اسی حصے میں سیا چن کے محاذ پر کانوائے سیڈل جو دُنیا کی بلند ترین پوسٹ ہے پر گزارے اپنے شب و روز کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے ابو جی کے ایک خط کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کئی ہفتوں کی برفباری اور خراب موسم کے بعد رابطہ بحال ہوا اور خطوط بھی آئے جن میں ایک خط ابو جی کا بھی تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا ، ”حوصلہ نہیں ہارنا ۔۔۔۔ ہمت بلند رکھنی ہے ۔۔۔ دیکھو! انفنٹری کے جوان صرف بہادر افسر کو افسر سمجھتے ہیں ۔۔۔۔ پلٹن میں صرف دلیر افسر کی عزت ہوتی ہے۔۔۔۔“ 
کتاب کا تیسرا حصہ شام بڑا ہی دلگداز ہے ۔ اس میں مصنف جہاں اپنے ابو جی کی زندگی کے آخری ایام ، اُن کی بیماری اور اُن کو خوش رکھنے کے لئے کئی طرح کی مصروفیات کا ذکر کرتے ہیں وہاں اپنے بھائی انجم کی نکاح کی رسم کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کے ابو جی کی خوشی کے لئے رسمِ نکاح میں ڈھولکی اور لُڈی کا بھی اہتمام کیا گیا۔ آخر میں وہ 6 جون کی تاریخ کا ذکر کرتے ہیں کہ جس دن اُن کے پیارے ابو جی ہمیشہ کے لئے اُن سے جُدا ہو گئے۔ کتاب کے مندرجات کا تذکرہ کچھ طویل ہو نے کی بنا پر اس کے شستہ اور خوبصورت اندازِ بیان اور پُرکشش گیٹ اَپ کے بارے میں کچھ ذکر نہیں ہو سکا تاہم میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اسے پڑھتے ہوئے ایسے لگتا ہے جیسے آدمی کسی دلگداز داستان کا مطالعہ کر رہا ہو۔

مزیدخبریں