پاکستان کی ایک اور جیت.... !

09:04 AM, 3 Jan, 2026

بھارت نے کسی بھی فورم میں پاکستان کےخلاف پراپیگنڈہ ترک نہیں کیا۔ بھارتی چالیں اب کھل کر سامنے آ چکی ہیں۔ دہشت گردی اور ان دہشت گردوں کی سہولت کاری ہو یا پراکسی وار، بھارت نے ہر جگہ ہی پاکستان کے خلاف سازش کی ہے۔ اس سازش کو تقویت دینے کے لئے کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو بھارتی حربوں کو سمجھتے ہیں اور ان کی کسی نہ کسی طرح مدد کرتے ہیں۔ کچھ حلقے ایسے بھی ہیں جو ہر اس کام کی حمایت کرتے ہیں جو ملک کے خلاف جارہا ہو۔ مثال کے طور پر وطن عزیز میں ہی ایک لابی ایسی موجود ہے جو قوم کو اندھیروں میں رکھنا چاہتی ہے۔ یہ خاص مائنڈ سیٹ چاہتا ہے کہ پاکستان ترقی کی اجالوں کی طرف نہ بڑھ پائے۔ پاکستان کمزور سے کمزور تر ہو اور پھر انہیں یہ کہنے کا جواز مل جائے کہ ایک شخص ہی مسیحا ہو سکتا ہے۔ یہ خام خیالی یقینی طور پر ماضی کے ا وراق میں دفن ہورہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام باشعور ہو چکے ہیں۔ چلیں ایک مثال سمجھ لیتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے لاہور میں انٹری ڈالی۔ ان لوگوں کی طرف سے سوچا اور سمجھا یہی جارہا تھا کہ اہلیان لاہور کی بڑی تعداد ان کے ساتھ آجائےگی اور لاہور میں اچھا خاصا بڑا شو لگ جائے گامگر ایسا نہیں ہوا۔ مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ نیو ایئر نائٹ پر پنجاب حکومت کی طرف سے آتش بازی کی گئی ، اس جشن کو دیکھنے کے لئے اہلیان لاہور کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ یہ وہی لبرٹی سکوائر تھا جہاں عوام نے جشن منایا۔ آتش بازی دیکھی ، ہر چہرہ کھلا دکھائی دیا، ہر کسی کے چہرے پر خوشی واضح تھی۔ کیا یہ واضح پیغام نہیں تھا کہ اہلیان لاہور انتشار کی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں ؟ اور یہی اہلیان لاہور حکومت پر اعتماد کر چکے ہیں ؟ 2026 کے آغاز نے پاکستان کے اجتماعی مزاج میں ایک غیر معمولی تبدیلی کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایک ایسا وقت جب دنیا کے بڑے حصے بداعتمادی، معاشی دباو¿ اور جغرافیائی کشیدگی کی زد میں ہیں، وہاں پاکستانی عوام کے دل و دماغ میں امید کی شمع روشن دکھائی دیتی ہے۔ گیلپ انٹرنیشنل کے حالیہ عالمی سروے نے اسی حقیقت کو اعداد و شمار کی زبان میں بیان کیا ہے کہ پاکستانی قوم، تمام تر مشکلات کے باوجود، مستقبل کو مایوسی کے بجائے اعتماد اور حوصلے کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ یہ رجحان محض ایک سروے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی اور نفسیاتی تبدیلی کا اظہار ہے جو آنے والے برسوں میں قومی سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔سروے کے مطابق پاکستان میں 51 فیصد افراد نئے سال کے حوالے سے پ±رامید ہیں، جو نہ صرف عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے بلکہ خطے کے ایک بڑے ملک بھارت سے بھی نمایاں برتری کو ظاہر کرتا ہے، جہاں یہ شرح 39 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ 53 فیصد پاکستانیوں کا یہ ماننا کہ 2026 معاشی بہتری کا سال ثابت ہوگا، ایک غیر معمولی اشارہ ہے۔ یہ اعتماد ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر مہنگائی، کساد بازاری اور تجارتی بے یقینی نے ترقی یافتہ ممالک کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں عوام کا اپنی معیشت پر بھروسہ کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ نچلی سطح پر معاشی سرگرمیوں، روزگار کے نئے رجحانات اور ٹیکنالوجی سے جڑی امیدوں نے لوگوں کے نقطہ نظر کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔امن کے حوالے سے بھی پاکستانی عوام کا رویہ خاصا مثبت دکھائی دیتا ہے۔ سروے کے مطابق 52 فیصد پاکستانیوں کو امید ہے کہ 2026 دنیا میں امن کے امکانات لے کر آئے گا، جبکہ بھارت میں یہ شرح محض 26 فیصد ہے۔ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں امید کی یہ سطح 1994 کے بعد بلند ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وقتی جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک مسلسل بنتا ہوا رجحان ہے۔ قوم کے مزاج میں یہ مثبت تبدیلی شاید اس احساس سے جڑی ہے کہ مشکلات کے باوجود پاکستان نے کئی میدانوں میں خود کو سنبھالا ہے، چاہے وہ آئی ٹی سیکٹر ہو، فری لانسنگ، ترسیلاتِ زر، یا نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی کاروباری سرگرمیاں۔ پاکستان کی آبادی کا ساٹھ فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور یہی نوجوان اس امید کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق نوجوان طبقہ 2026 کو سٹارٹ اپس اور آئی ٹی کا سال تصور کر رہا ہے۔ ڈیجیٹل معیشت، ریموٹ ورک، ای کامرس اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار نوجوانوں کو نہ صرف روزگار بلکہ عالمی منڈی سے جڑنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل اب صرف ریاستی پالیسیوں پر منحصر نہیں بلکہ انفرادی صلاحیتوں اور اجتماعی محنت کے امتزاج سے جڑا دکھائی دیتا ہے۔ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان ان چند گلوبل ساو¿تھ ممالک میں شامل ہو رہا ہے جہاں عوام کا اپنی معیشت پر اعتماد بعض ترقی یافتہ مغربی ممالک سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔۔ آخرکار، گیلپ کا یہ سروے محض پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک تقابلی جائزہ نہیں بلکہ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ پاکستانی قوم مشکل حالات کے باوجود خود کو کمزور تصور نہیں کرتی۔

مزیدخبریں