ایک برس اور گزر گیا۔ 365 مزید ایام بیت گئے۔ ایام و ماہ و سال گزر رہے ہیں، بیت رہے ہیں، گردش ایام جاری و ساری ہے اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ پہلے بھی ایسے ہی چلتا رہا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے گزرے ایام اور ماہ و سال کیسے گزارے۔ سال گزشتہ 2025ءکیسے گزرا، کیا یہ گزرا یا ہم نے گزارا؟ گزرے سال میں کئی ایک خوشی کے مقام بھی آئے۔ اللہ رب العزت نے ہمیں دنیا کی سب سے بڑی بت پرست قوم پر فتح عطا کی۔ ہندوستان ایک عظیم ریاست ہے، اسے کئی امتیازارات حاصل ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی مملکت ہے، اس سے پہلے یہ اعزار چین کو حاصل تھا۔چین ایک نشئیوں کی مملکت تھی، ان کی قیادت نے اپنی آبادی کو اپنی تعمیر و ترقی کا زینہ بنایا، ان کے عظیم لیڈر نے اپنی آبادی کو فن و ہنر سے آراستہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی ترتیب کے ساتھ، تہذیب کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے گئے اور پھر وہ دنیا کی عظیم اقوام کی صف میں کھڑے ہو گئے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے عالمی تجارت پر چھا جانے کا منصوبہ منظر عام پر لائے۔ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے براعظموں کو اس عظیم الجثہ منصوبے کے ذریعے مربوط کیا اور اپنی معاشی قوت کو جلا بخشی۔ آج چین دنیا کی دوسری عظیم معاشی قوت ہے۔ اس نے دو ہاتھوں سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا۔ اب ہاتھ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ آبادی کا بوجھ اتار پھینکا ہے۔ اب دماغ سے کام لے رہے ہیں۔ ہائی ٹیک، آئی ٹی، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی اماں جان مصنوعی ذہانت کے استعمال سے عالمی منظر پر چھا رہے ہیں، چھا گئے ہیں۔ حرب و ضرب کے میدان میں انہوں نے مشرق و مغرب کو صرف حیران ہی نہیں کیا ہے بلکہ شکست فاش بھی دے دی ہے۔ ہم نے 4روزہ دفاعی جنگ میں چینی ٹیکنالوجی کے استعمال سے جس طرح ہندوستان کو شکست دی ہے۔ اس نے ہماری عزت و توقیر میں جو اضافہ کرنا تھا وہ تو ہوا لیکن چینی قوت و ذہانت کا جو عملی ثبوت دنیا کو ملا ہے وہ حیران کن ہے۔ ہم جنگ جیت چکے ہیں، ہماری حربی و ضربی برتری ثابت ہو چکی ہے۔ چین ہمارا قبال بھروسہ ہی نہیں بلکہ مکمل طور پر آزمودہ دوست ثابت ہو چکا ہے۔ ہماری عسکری دھاک بیٹھ چکی ہے لیکن دوسری طرف ہماری معیشت، سیاست، صحافت اور معاشرت زوال پذیر ہے۔ سب کچھ ہمہ گیر زوال کا شکار ہے۔ اللہ نے ہمیں آبادی کے لحاظ سے دنیا کی پانچویں بڑی مملکت کا اعزاز بخشا ہے۔ اللہ نے ہمیں 260ملین کھانے کے منہ بخشے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ 520 ملین ہاتھ کمانے کے لئے بھی دیئے ہیں۔ 260 ملین منہ کھانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں، ان کی ضروریات کو ٹالا نہیں جا سکتا ہے۔ہم ان کی ضروریات پورا کرنے میں بڑی حد تک ناکام ہو چکے ہیں، وجہ وسائل کی قلت نہیں ہے بلکہ تقسیم دولت اور پیدائش دولت کا کوئی مربوط نظام قائم کرنے میں ناکامی کے باعث ابتری پھیلی ہوئی ہے۔ پیداواری نظام فرسودہ اور اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ ہماری زراعت ہو یا صنعت اور تجارت، ہمارا خدمات کی فراہمی کا نظام ہو یا کوئی اور بھی پیداواری نظام اپنی اہمیت و افادیت کھو چکا ہے۔ دنیا اس وقت مصنوعی ذہانت کے دور سے بھی آگے نکل رہی ہے۔ اعلیٰ مصنوعی ذہانت بروئے کار لائی جا رہی ہے، جس سے پیداواری نظام چھلانگیں لگا کر سرعت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم ابھی تک توانائی کے شعبے کے بحران میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دنیا سولرائزیشن کے دورمیں داخل ہو چکی ہے۔ ہم ابھی تک کوئلے و ڈیزل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ عام آدمی توانائی کے شعبے کے بحران میں جکڑا جا چکا ہے۔ صنعت کا پہیہ رکا ہوا ہے، بجلی کی بلند قیمت کے باعث پٹرول کی بلند قیمت کے باعث، صنعت اور صارف دونوں بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ صنعت کے لئے پیداواری لاگت قابل برداشت نہیں رہی جبکہ صارف کے لئے اشیاءکی خریداری ممکن نہیں رہی ہے۔ صنعت و حرفت گھٹتی چلی جا رہی ہے۔ ہمارے قرض خواہ نے ہم پر جو پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، ٹیکس وصولیوں کے جو اہداف دیئے ہوئے ہیں انہیں پورا کرتے کرتے حکمران باﺅلے ہوئے جا رہے ہیں اور عوام بدحال ہو گئے ہیں۔ تقریباً نصف آبادی خطِ غربت سے نیچے جا پہنچی ہے۔ اللہ نے ہمیں ایک اور عظمت و طاقت بخشی ہے اور وہ ہے ہماری نوجوان و جوان نسل جو ہماری آبادی کا 67فیصد بنتا ہے۔ اس حوالے سے ہم دنیا کی اولین قوم شمار ہوتے ہیں۔ جوان آبادی کی کثرت ایک عظیم نعمت ہے اور بہترین عامل پیداوار ہے۔ اگر اسے مربوط عملی نظام میں ڈھالا جائے تو یہ معاشی انقلاب کا پیشہ خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم اس حوالے سے قطعاً ناکام ہو چکے ہیں۔ ہماری کارآمد آبادی ملک چھوڑ کر جہاں مواقع ملتے ہیں نکلی جا رہی ہے۔ کوئی شخص جو کچھ کر سکتا ہے اور کرنا چاہتا ہے، ملک چھوڑنے کی طرف مائل ہی نہیں، مشغول نظر آتا ہے یہاں صرف وہی رہ جائے گا جو کچھ کرنا نہیں چاہتا یا کر نہیں سکتا ہے۔ ہم اپنی نئی نسل کو کوئی
لائحہ عمل تو کیا کوئی بیانیہ بھی نہیں دے سکتے ہیں۔ ایک شخص کو اللہ نے یہ صلاحیت دی تھی کہ وہ نئی نسل کو متاثر کر سکے اور وہ اس نے کر دکھایا ۔نئی نسل کے ذہنوں کو اس طرح آلودہ اور پراگندہ کر دیا گیا ہے کہ وہ اب سوشل میڈیا کے ذریعے ہر شے کو تباہ و برباد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ کسی بھی مثبت بیانیے کی عدم موجودگی اور کسی بھی سیاسی و سماجی نظام کی عدم دستیابی کے باعث منفی عوامل روبہ عمل ہیں۔ اوپر سے رہی سہی کسر کمزور اور بدحال معیشت نے پوری کر دی ہے۔ جاری نظام صرف خانہ پری ہے، اس میں کوئی سکت نظر نہیں آرہی ہے۔ گزری صدی کی آٹھویں و نویں دہائی کے تجربات کو دہرایا جا رہا ہے جبکہ معاملات بہت آگے نکل چکے ہیں۔ آج کی نسل ہماری سوچ اور فہم و ادراک سے کہیں زیادہ ایڈوانس اور تیز ہے۔ سوشل میڈیا نے اسے نجانے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ 2025ءگزر گیا۔ ایک برس اور بیت گیا۔ ہم نے نہیں گزارا۔ وہ گزر گیا۔ ہمارے پاس 2026ءگزارنے کا بھی کوئی دستورالعمل موجود نہیں ہے۔ کوئی بیانیہ، کوئی امید سامنے نہیں ہے لیکن ہم جی رہے ہیں، جیسے جی رہے ہیں ، ویسے ہی جیتے رہیں گے۔ 2026ءبھی ایسے ہی گزر جائے گا۔
2025ءسے 2026ءتک کا سفر: اک برس اور بیت گیا
09:02 AM, 3 Jan, 2026