واشنگٹن،تہران:ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران میں پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کیا گیا یا انہیں ہلاک کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔
ٹرمپ کے بیان پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والے ہر مداخلت پسند ہاتھ کو کاٹ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی معاملات میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہے، جبکہ ایرانی قوم امریکا کی نام نہاد ’مدد‘ کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے، چاہے وہ عراق ہو، افغانستان ہو یا غزہ۔
ادھر ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے بھی امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج کے دوران 7 افراد ہلاک، متعدد زخمی اور کئی مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔