نورڈ پاس نے 2025 کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاس ورڈز کی فہرست جاری کر دی

02:38 PM, 2 Jan, 2026

کیلیفورنیا : ڈیجیٹل سکیورٹی کمپنی نورڈ پاس نے 2025 کے دوران دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاس ورڈز کی فہرست جاری کی ہے، جس میں "123456" کو سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پاس ورڈ قرار دیا گیا ہے۔ یہ فہرست مختلف عالمی ڈیٹا لیکس اور سیکیورٹی کی خامیوں کا تجزیہ کرنے کے بعد تیار کی گئی، اور اس سے ایک بار پھر آن لائن صارفین کی کمزور سکیورٹی عادات سامنے آئیں۔

نورڈ پاس کے مطابق، کمپنی کئی سالوں سے پاس ورڈز کے لیک ہونے کا تجزیہ کر رہی ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر اپنے نام یا خاندانی نام کے ساتھ چند اعداد لگا کر پاس ورڈ بناتے ہیں، جیسے "kristian123" یا "Joan83"۔ اگرچہ ایسے پاس ورڈز عالمی سطح پر ٹاپ لسٹ میں نہیں آتے، لیکن ہر ملک میں مقامی طور پر یہ پاس ورڈز بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جغرافیہ اور ثقافت پاس ورڈ بنانے کی عادات پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

2025 کی فہرست میں بھی سادہ اور آسانی سے اندازہ لگائے جانے والے پاس ورڈز سب سے زیادہ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ پاس ورڈز لاکھوں بار مختلف ڈیٹا لیکس میں سامنے آ چکے ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پاس ورڈز چند سیکنڈز میں ہیک کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، دنیا بھر کے صارفین انہیں بار بار استعمال کرتے ہیں۔

نورڈ پاس نے جنریشن زی (نوجوان صارفین) کے پاس ورڈز کا بھی تجزیہ کیا ہے، جس میں بھی سادہ نمبرز اور عام الفاظ زیادہ نظر آئے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نوجوان صارفین سیکیورٹی کے مقابلے میں سہولت کو ترجیح دے رہے ہیں، حالانکہ یہ گروپ ڈیجیٹل دنیا میں سب سے زیادہ متحرک سمجھا جاتا ہے۔

نورڈ پاس کی یہ فہرست کسی سروے پر مبنی نہیں ہے، بلکہ یہ وہ پاس ورڈز ہیں جو مختلف ڈیٹا لیکس اور ہیکنگ واقعات کے دوران لیک ہو کر سامنے آئے ہیں۔ جب ویب سائٹس، ایپس یا آن لائن سروسز کا ڈیٹا لیک ہوتا ہے، تو یہ پاس ورڈز پبلک ڈیٹابیسز کا حصہ بن جاتے ہیں، جہاں سیکیورٹی کمپنیاں ان کا تجزیہ کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے سادہ، ایک جیسے اور ذاتی معلومات پر مبنی پاس ورڈز کا استعمال صارفین کو سنگین سائبر خطرات سے دوچار کر سکتا ہے، جیسے اکاؤنٹس کا ہیک ہونا، شناخت کی چوری اور مالی نقصان۔ اس لیے صارفین کو مضبوط اور منفرد پاس ورڈز استعمال کرنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کو محفوظ رکھ سکیں۔

مزیدخبریں