پیٹرول مہنگا ہے، عالمی سیاست میں جنگی معیشت پھر سے ترقی کرنے لگی ہے، کون سا ٹوتھ پیسٹ بہترین ہے، گنجے آدمی کو کنگی کیسے بیچی جا سکتی ہے اور بے روزگار کو قاسم علی شاہ کا لیکچر کیسے سنایا جا سکتا ہے، آپ سن رہے ہیں ایف۔۔ایم۔۔۔۔ اور میں ہوں۔۔۔ اگر آپ نہیں جانتے کہ مائیں بچوں کو ٹھیک طرح کیسے پال سکتی ہیں تو آپ ڈاکٹر جاوید کی حکمت بھری باتیں سن سکتے ہیں۔ (میوزک).. قریب سے مسلسل ایمبولینس گزرنے کی آواز آ رہی ہے۔
آپ سن رہے ہیں ایف ایم۔۔
گاڑیاں کھلونوں کی طرح سڑک پر بکھرتی نظر آ رہی تھیں۔
نئے سال کی آمد اسلام آباد میں ہوئی۔ سال جس سمے زمین پر وارد ہو رہا تھا ہم اسلام آباد میں داخل ہو رہے تھے۔ ٹریفک یکا یک رک گئی۔ نئے سال کا جشن شروع ہو چکا تھا۔ سڑک پر تیزی سے گرتی ہوئی بارش کی جھنکار کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ ثروت کا شعر یاد آ گیا:
گھر سے نکلا تو ملاقات ہوئی پانی سے
کہاں ملتی ہے خوشی اتنی فراوانی سے
کچھ منچلے لڑکے موٹر سائیکل پر ادھر ادھر گھومتے ہوئے اچھے لگے۔ موسم کی سردی سے بے نیاز، بارش کی بوندوں کو بازو کھول کر خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ کچھ گاڑیوں سے نوجوان لڑکیوں نے اتر کر سڑک کی دوسری جانب دوڑنا شروع کر دیا۔ پھر تیز بارش کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے لگیں۔ لڑکیاں دوڑتی ہوئی اٹھکیلیاں کر رہی تھیں۔ دائیں جانب سے دو ادھیڑ عمر آدمی گاڑی سے نکل کر سگریٹ سلگانے لگے پھر ڈان کی طرح بارش میں سگریٹ پینے کا لطف لیتے ہوئے ادھر ادھر گھومنے لگے۔ اسلام آباد کی مصروف زندگی میں نازک مزاجی سے پرے یہ پیر و جوان اس انداز سے موسم سے لطف اندوز ہو رہے تھے جیسے کچھ دیر کے لیے مصنوعی خول سے باہر نکل آئے ہوں اور بارش کی بوندوں نے ان پر سے بناوٹ اور نمائش کا تمام تر بوجھ اتار دیا ہو۔ ٹریفک میں پھنسنے سے جو ویگنیں اور گاڑیاں بند ہو چکی تھیں ان کے ڈرائیوروں نے شیشے کھول دیئے تھے۔ ادھ کھلے شیشوں سے پرانی فلموں کے گانوں کی رنگ برنگی آوازیں شور میں شامل ہونے لگی تھیں۔ اسلام آباد کی چوکھٹ پر کئی فرلانگ پھیلی ٹریفک نیو ایئر سیلیبرشن کے خاتمے کی منتظر تھی۔ کچھ دیر بعد ٹریفک کو دھکا لگا۔گاڑیاں آگے پیچھے ہونے لگیں۔ ٹریفک کھلی، سڑک پر بھونچال آیا۔ دائیں طرف کی گاڑیاں انتہائی بائیں طرف کو مڑنے لگیں۔ کارِ میں خیر سبقت لے جانے کے خواہشمند افراد دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں گاڑیاں گھمانے لگے۔ ایک ادھیڑ عمر ویگن والا کئی کاروں کا رستہ کاٹتے ہوئے سروس روڈ کی طرف بڑھا۔ قریب سے گزرنے والوں نے ہارن پر ہاتھ رکھ کر پاپاپاپاپاں سے اسے ہیپی نیو ایئر کہا۔ ایک موٹے نوجوان نے شیشے سے منہ نکال کر موٹی موٹی گالیاں دیں۔ ایمبولینس کا ہارن مسلسل بجتا جا رہا تھا۔ پل کے نیچے ایک کلٹس گاڑی ایک بڑی ہونڈا سیوک سے رگڑ کھا گئی تھی۔ سیوک سے نکلنے والی خاتون جوڈو کراٹے سے کلٹس والے انکل کی گاڑی کی مرمت کر رہی تھی۔ ان کے سٹائل سے متاثر ہو کر کئی نوجوان انھی کی طرف دیکھتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا رہے تھے۔ اس حرکت کی وجہ سے ان کی گاڑیاں ان بے گناہ لوگوں کی گاڑیوں سے رگڑ کھا گئیں جو اس ساری صورتحال سے بے خبر گاڑی چلاتے ہوئے ساری توجہ موبائل پر میسج کو دے رہے تھے۔ کچھ نیک دل اور حساس افراد گاڑی چلاتے ہوئے موبائل کیمرے سے بھیگے ہوئے موسم کی تصویریں لے کر محبوباؤں کو بھیج رہے تھے۔ نظم و ضبط کا خصوصی خیال رکھنے والے پیر و جوان ٹھیک بارہ بجے مسیج کر چکے تھے۔ یہاں جن کی گاڑیاں بند ہو گئی تھیں وہ اتر کر دھکا لگا رہے تھے۔ مین سڑک سے ملحقہ رستوں پر من چلے لڑکے موٹر سائیکل اڑا رہے تھے۔ وہ بارش میں بھیگنے کے باوجود ایک دوسرے کو چھیڑ رہے تھے، ایک دوسرے کی طرف پان کی پیک پھینک رہے تھے۔ اس موڑ سے ذرا آگے نکلے تو میں نے پہلی بار کچھ لوگوں کو نئے سال کی خوشی میں سڑک پر گلے ملتے دیکھا۔ تین چار افراد مل کر ایک شخص سے لپٹ رہے تھے۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، شرٹ کے بٹن ٹوٹ چکے تھے اور دائیں کان سے ہلکا سا خون بھی نکل رہا تھا۔ یہ صاحب موٹر سائیکل سوار تھے اور کسی کی مہنگی گاڑی سے مصافحہ کر بیٹھے تھے۔ شاید بیچ سڑک پر یہی بات ان کی وجہ شہرت بنی تھی۔ اس سب کے ساتھ سب کے چہروں پر خوشی تھی، امید تھی اور آنکھوں میں کچھ خواب جھلملا رہے تھے۔میرے ذہن میں سوال گونجا یہ فرصت کتنی دیر کے لیے ہے ؟ قدرت سے یہ لگاؤ، منظر سے محبت اور جھومنے کہ یہ جرأت کتنی دیر کے لیے ملی ہے؟ دیکھتے ہیں کہ نئے سال کی بارش پرانے برسوں کے غبار کو کتنی تیزی سے دھوتی ہے اور چہروں اور دلوں کو تازگی بخشتی ہے۔ میری نظریں پھر رنگ برنگی لائٹوں سے الجھ رہی تھیں۔ بھیگے بھیگے شیشوں میں سے گاڑیوں کی شکلیں سڑک پر پھیلے ہوئے پانی پر کسی پینٹنگ کی مانند لگ رہی تھیں۔
سال کا پھیرا صرف عددی ہیر پھیر نہ ہو۔ ہم پرانے سال کے ساتھ پرانی سوچ کو اتار پھینکیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ گزشتہ برس کی رنجشوں کو گزشتہ سال کے ساتھ تہہ کر کے رکھ دیں اور نئے طریقے نئے انداز سے سوچنے، سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کریں۔ کیا اس سال ہم کسی بھی طرح کے بدلاؤ کے لیے تیار ہیں؟ چلیں کچھ اور نہیں تو سوچ کا زاویہ بدل کر دیکھتے ہیں۔ اچھا ہم کچھ تجربے کرتے ہیں۔ نئے دوست بناتے ہیں، نئی سرگرمیاں شروع کرتے ہیں۔ پرانے رشتوں کو نیا رنگ دیتے ہیں۔شاید ہمارے رشتے اس سال پہلے سے زیادہ محبت اور توجہ چاہتے ہیں۔
اس برس رات گئے تک سڑکوں پر گہما گہمی رہی۔ مجھے احساس ہوا کہ حالات جیسے بھی ہوں لوگوں کی آنکھوں میں نئے خواب ضرور جنم لیتے ہیں لیکن عام طور پر ہم اپنے خوابوں میں دوسروں کی خوشیوں کو جگہ نہیں دیتے اور نہ ہی دوسروں کے خوابوں کو پورا کرنے میں کبھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انفرادی خوشی تنہائی کے مارے ہوئے امیر زادے جیسی ہوتی ہے جو سب کچھ رکھنے کے باوجود کچھ نہیں رکھتا۔
چلیں اس سال ہم دوسروں کے ساتھ، دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہو کر دیکھتے ہیں۔ خوشیوں کا دائرہ خود بہ خود ہمارے گھروں تک بھی پھیل جائے گا۔
نئے سال کی آمد کا آوارہ منظر
09:06 AM, 2 Jan, 2026