معرکۂ حق میں کامیابی

09:05 AM, 2 Jan, 2026

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ دنیا کے تمام ترقی پذیر ممالک میں بیرونی سامراجی طاقتوں کی مداخلت بہت زیادہ ہے، لیکن جب اس تناظر میں پاکستان کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یہاں معاملہ دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک سے بالکل مختلف ہے۔ اس ملک کے قیام کے حوالے سے سیاسی قیادتیں کچھ ہی دعوے کیوں نہ کریں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پورے عمل میں ان عالمی استعماری قوتوں کا کلیدی عمل دخل رہا ہے، جنہوں نے دو صدیوں سے اس خطے کو گریٹ گیم کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں نمائندہ اور غیر نمائندہ دونوں صورتوں میں ہمیشہ گماشتہ قوتیں ہی اقتدار میں لائی جاتی ہیں۔ ان گماشتہ حکمرانوں میں سے کسی نے کسی بھی سطح پر من مانی کرنے کی کوشش کی تو اسے نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔ اس کے علاوہ 1950ء سے 1991ء تک چونکہ پاکستان کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کرنا تھا، اس لئے ترقی پسندانہ سیاسی افکار کو سیاسی قوت بننے سے روکنے کے لئے مذہبی قوتوں کو توانائی دی گئی۔ لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اب پان اسلام ازم جیسی اصطلاحات بے معنی ہو چکی ہیں۔ ہم دیکھتے آ رہے ہیں کہ جب بھی بیرونی استعمار کے مفادات بدلتے ہیں تو ان کی سوچ اور پالیسی بھی پاکستان کے بارے میں تبدیل ہو جاتی ہے اورا سی تناظر میں حکومتیں بننا بھی شروع ہوتی ہیں اور تبدیل بھی ہو جاتی ہیں۔ پھر سازشوں کا چلن چلتا ہے اور منصوبہ بندی سے ایسی حکومتیں تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو ان کے فرمان ماننے سے انکاری ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں آج تک ملکی بقا و سلامتی کا مسئلہ درپیش ہے۔ 
یہ حقیقت اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ عالمی طاقتیں حکومتوں پر اثر اندازہوتی رہی ہیں۔ قائدِ اعظم ایک سال پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے امورِ مملکت چلاتے رہے۔ انہوں نے پاکستان کی آزاد داخلہ اور خارجہ پالیسی کی گائیڈ لائنز کا تعین کیا مگر افسوس ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے اپنے اور سامراجی مفادات کے تحفظ کے لئے قائدِ اعظم کے پالیسی اصولوں سے گریز اور انحراف کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان آج تک داخلی استحکام اور خارجہ پالیسی بحران کا شکار چلا آ رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے 
ایک نگران وزیرِ اعظم نے تو یہاں تک کہہ دیا  تھاکہ قائدِ اعظم کی فلسطین کے بارے میں پالیسی سے انحراف کوئی کفر نہیں ہے، اس سے بڑی اخلاقی گراوٹ کیا ہو گی کہ ایک ایسا وزیرِ اعظم جو کہ صرف انتخابات کرانے کا پابند ہوتا ہے وہ خارجہ پایسی کے حوالے اتنی بڑی بات کر گیا۔ قائدِ اعظم نے خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے ایک مشاورتی اجلاس میں فرمایا کہ امریکہ اور روس دونوں شیطان ہیں لہٰذا ہمیں اس شیطان کا ساتھ دینا چاہئے جس کو ہم جانتے ہیں، ان کا اشارہ امریکہ کی جانب تھا جس نے آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈروں سے اپنے تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ افسوس ہمارے حکمران شیطان سے محفوظ رہنے کی بجائے اس کو آقا سمجھنے لگے۔ وہ قائدِ اعظم کا خود انحصاری کا پیغام بھول کر امریکہ پر غیر معمولی انحصار کرنے لگے۔ جب 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد امریکہ کا اصل چہرہ سامنے آیا تو پاک امریکہ تعلقات کے بانی جنرل ایوب خان نے کتاب " فرینڈز ناٹ ماسٹرز" لکھ کر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنی ڈائری میں تحریر کیا امریکہ پاکستان کو کمزور اور عدم استحکام کا شکار رکھنا چاہتا ہے تاکہ ہم اس کے رحم و کرم پر رہیں۔ 
ذوالفقار علی بھٹو نے قوم پرستی کے جذبے کے پیشِ نظر قومی مفادات کے تابع ایک کامیاب آزاد اور فعال خارجہ پالیسی تشکیل دی مگر افسوس کہ پاکستان کے حکمران طبقے سامراج کے ساتھ مل گئے اور ہنری کسنجر نے بھٹو کو عبرت ناک مثال بنانے کی دھمکی کے بعد سازش میں شریک ہو گئے کیونکہ بھٹو نے ایٹمی پرو گرام رول بیک کرنے سے انکار اور چین نواز پالیسی ترک کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔ پاکستان کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے امریکہ و یورپ کے مراعات یافتہ افراد نے ملی بھگت کر کے قوم پرست رہنما بھٹو کو پھانسی کے تختے تک پہنچا دیا اور یوں پاکستان ایک آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی دینے سے محروم رہا۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہرا بھٹو کے سر بندھتا ہے جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی ضد میں نہ صرف اپنا اقتدار کھو دیا بلکہ اپنی جان کی قربانی بھی دی۔ جب بھی کسی حکمران نے پاکستان کی  خارجہ پالیسی کو آزاد اور خود مختار بنانے کی کوشش کی ہے تو پھر ایسا ہی ہوا کہ مخصوص چہرے بیرونی دنیا کی ملی بھگت کے ساتھ آڑے آ گئے۔   
اگر چہ ملکوں کا داخلی بحران اہمیت رکھتا ہے اور مسائل سے نمٹنے میں اس کی حیثیت ایک کنجی کی ہے۔ لیکن اب داخلی مسائل کو ہمیں بعض خارجی مسائل کے ساتھ جوڑ کر بھی مسئلوں کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ داخلی مسائل کے ساتھ کچھ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل ایسے ہیں جو ہماری داخلی سیاست پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ پاکستان کی داخلی سیاست چونکہ کمزور ہے اور ہماری ریاست یا حکومتوں پر بین الاقوامی اور علاقائی سیاست کے دباؤ کا مضبوط ہونا بھی فطری امر ہے۔ کیونکہ جب آپ داخلی سیاست میں کمزور ہوں گے تو اس کا فائدہ دیگر غیر ملکی قوتیں اپنے مفادات کے پیشِ نظر اٹھاتی ہیں۔ ماضی میں یہی ہوا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادتیں اپنے سیاسی مفادات کے پیشِ نظر بین الاقوامی اور علاقائی سیاسی مفادات کے تناظر میں موجود بڑے اور مشکل مسائل پر بڑی بات کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ 
ماضی میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ جو بھی پاکستانی حکمران امریکہ و یورپ کے سامنے کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے اسے ہٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ 1977ء میں جمہوری اور مقبول رہنما ذوالفقار علی بھٹو کو ہٹانے میں سب سے بڑا کردار امریکہ نے ادا کیا جب کہ سیاسی اور دانشورانہ حلقے اس بات پر متفق تھے کہ بھٹو مجموعی طور پر وہ انتخابات جیت چکے تھے اور دھاندلی کی شکایت صرف چند سیٹوں پر تھی۔ بھٹو دشمنی ہی کا نتیجہ تھا کہ امریکہ نے قومی اتحاد کی نو جماعتوں کے اتحاد کے ذریعے ایک آمر کو عوام پر مسلط کر دیا جس نے پاکستان کو مذہبی انتہا پسندی کے اس غار میں دھکیل دیا جس سے پاکستان ابھی تک نہیں نکل پا رہا ہے۔ بھٹو نے اس تحریک کو روکنے کے لئے فوج کو استعمال کرنا چاہا لیکن وہ تحریک اس قدر مضبوط ہو چکی تھی کہ فوج ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ یوں امریکہ نے بھٹو کو نشانِ عبرت بنا کر انتقام لیا۔ ہمارے ہاں بیرونی سماجی طاقتیں بار بار یہی کھیل کھلتی رہتی ہیں اور پاکستان کو مستحکم ہونے نہیں دے رہی ہیں۔ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد ہمارے پاس بہت اچھا موقع ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو قائد کے فرمان کے مطابق آزاد بنائیں۔

مزیدخبریں