امن منصوبے کے نام پر سازش

09:04 AM, 2 Jan, 2026

ہٹلر جنگ جیت جاتا تو آج ہم کتابوں، نصابوں میں اتحادی فوج کے مظالم کی داستانیں پڑھتے۔ جنگ عظیم پر بننے والی فلموں میں دکھایا جاتا کس طرح اتحادی افواج نے اخلاقیات کی تمام حدود کو پامال کیا۔ کسی بھی جنگ کا تلخ ترین ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ فاتح کا کہا سچ اور مفتوح کا کہا جھوٹ سمجھا جاتا ہے۔ اتحادی افواج اور خاص طور پر انگریز جب کہتا ہے ’’پیار اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے‘‘ تو وہ دراصل اپنے جنگی جرائم کی توجیہ پیش کرتا ہے۔ برما اور انڈونیشیا میں اتحادی فوجی جب کسی جرمن فوجی کو گرفتار کر لیتے تو اس سے کتنا نرمی کا برتائو کرتے وہ کسی کے تصور میں نہیں آسکتا۔ زبان کاٹ دینا، جسم کے نازک حصوں پر ضربات لگا کر اس کی چیخوں سے لطف اٹھانا تو معمولی بات تھی۔ بعض علاقوں میں بانس کا ایسا پودا پایا جاتا تھا جو بارہ گھنٹے میں چھ انچ بڑھ جاتا تھا۔ گرفتار فوجی کو برہنہ کرنے کے بعد زمین میں گاڑے گئے پودے کے اوپر پیٹ کے بل لٹا کر اس کے ہاتھ پائوں چار کھونٹوں سے اس طرح باندھ دیئے جاتے کہ وہ ذرا سی بھی جنبش نہ کر سکتا۔ بانس کا نوکیلا پودا رات میں اس کے پیٹ کا نرم گوشت چیر کر آر پار ہو جاتا۔ قیدی تمام رات تڑپتا رہتا اس کا خون رستا رہتا۔ صبح ہونے تک اکثر قیدی ہلاک ہو جاتے۔ قیدیوں پر تشدد کا ایک اور طریقہ بھی رائج تھا۔ قیدی کو برہنہ کر کے کھونٹوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا پھر اس کے جسم پر چینی کا شیرہ بنا کر لیپ کر دیا جاتا۔ گوشت خور کیڑے مکوڑے اور بعض دوسرے جانور تمام رات اس کا جسم نوچ نوچ کر کھاتے رہتے، اس کی موت کے بعد سورج نکلنے پر گدھ آجاتے اور اپنے حصے کا کام کرتے۔
دنیا بھر میں ہونے والے جنگی جرائم ایک طرف لیکن غزہ میں ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم ان سب پر بھاری ہیں، ان کی تفصیلات جان کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے، کوئی انسان اس کا تعلق کسی بھی قوم سے ہو وہ دوسرے انسان پر یہ مظالم کیسے ڈھا سکتا ہے۔ اسرائیلی فوجی دنیا میں اپنے مظالم کے سبب مشہور ہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قیام اسرائیل سے لے کر آج تک اسرائیلی بچوں کو سکول میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ مسلمان اس کرئہ ارض پر ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں، ان کا فرض اولین انہیں ختم کرنا ہے۔ اسرائیلی قومی ترانے میں بھی یہی درس دیا گیا ہے۔
غزہ میں مسلمان عورتوں، بچوں، بوڑھوں پر جو ظلم کیا گیا اس پر دنیا بھر میں نفرین بھیجی گئی۔ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے یہ کہہ کر دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوششیں کی ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں دنیا کا سب سے بڑا بچوں کا قبرستان آباد کیا ہے۔ دنیا کو اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں، فلسطین میں سکولوں، ہسپتالوں اور مہاجر کیمپوں پر بمباری کی گئی۔ رہائشی علاقوں پر اس قدر میزائل برسائے گئے کہ پورا غزہ کھنڈر بن گیا۔ غزہ کی اس طرح ناکہ بندی کی گئی کہ کسی طرف سے خوراک، ادویات اور لباس و خیمے ان تک نہ پہنچ سکیں۔ غزہ میں عورتوں اور بچوں نے دو موسم سرما کھلے آسمان تلے گزارے۔ ان پر بارشیں برستی رہیں۔ اس سے بچائو کا کوئی انتظام نہ تھا۔ یہی تکلیف انہوں نے موسم گرما میں دیکھی۔ وہ تپتی زمین پر پڑے تھے، سر پر کوئی سایہ نہ تھا۔ کسی مرد و زن کسی بچے کے جسم پر کافی لباس نہ رہا۔ اسرائیلی فوجی انہیں اس حال میں دیکھتے تو قہقہے لگاتے، بالکل اسی طرح جس طرح اتحادی فوجی ویک اینڈ پر اپنے قیدیوں پر تشدد کرتے، ان کی چیخوں سے لطف اندوز ہوتے، ان کے گرد رقص کرتے اور جام لنڈھاتے۔
دو برس بیت جانے کے بعد آج دنیا کے ہر کونے میں مسئلہ فلسطین پر بات ہو رہی ہے۔ سیمینار، ریلیاں اور احتجاج ہو رہے ہیں لیکن دور دور تک آزاد ریاست فلسطین کی بات زبانی جمع خرچ تک نظر آتی ہے۔ امن قائم کرنے کے ٹھیکیدار غزہ میں امن فوج بھیجنے کے معاملے پر سرگرم نظر آتے ہیں لیکن کہیں کسی قرارداد یا کسی عملی منصوبے میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ ریاست فلسطین کا حدود اربع کیا ہو گا۔ تمام بڑی طاقتیں اس سازش میں شریک ہیں کہ جنگ آزادی فلسطین لڑنے والے مجاہدین سے ہتھیار ڈلوائے جائیں، ان کے اسلحہ کے ذخائر پر قبضہ کیا جائے، ان کی محفوظ پناہ گاہیں مسمار کی جائیں۔ جب وہ ہر حفاظتی حصار سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو پھر ان پر یلغار کر کے ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ ٹرمپ کہتا ہے ہم نے علاقے کو حماس سے پاک کرنا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو آزاد فلسطین ریاست کا منکر ہو چکا ہے۔ امریکہ اسے سہولتیں پہنچا رہا ہے اور واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ ہم اسرائیل کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور اسرائیل کے قیام کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انڈونیشیا سب سے زیادہ بے چین نظر آتا ہے، اس کی طرف سے بیس سے پچیس ہزار فوجی بھیجنے کی پیشکش کی گئی ہے جبکہ اصل منصوبہ یہ ہے کہ ہر قابل ذکر مسلمان ملک کے فوجی دستے امن فوج میں شامل کئے جائیں تاکہ کل جب حماس مجاہدین ہتھیار ڈالنے سے انکار کریں تو ان کے مقابل مسلمان ممالک کے فوجی کھڑے ہوں اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کی گولیوں کا نشانہ بنیں تو سازشی کردار دنیا سے یہ کہہ سکیں کہ جو کچھ کیا مسلمان فوجیوں نے مسلمان فوجیوں کے خلاف کیا۔
امریکی اور اسرائیل امن منصوبے میں رنگ بھرنے کے لئے پہلے ایک اور امن منصوبے پر عمل درآمد کرانے کے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ روس اور یوکرین کے درمیان ہونے جا رہا ہے، جس کا اہم نکتہ ہے کہ روس جن علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے۔ وہ یوکرین کو واپس نہیں کئے جائیں گے۔ روس اور غزہ کا معاملہ مختلف ہے۔ فلسطین کے علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہے۔ وہ روس کے ہی تھے، جس طرح مشرقی پاکستان پر قبضہ کر کے اسے علیحدہ ملک بنایا گیا، اسی طرح روس کے علاقوں پر قبضہ کر کے یوکرین کو اس سے علیحدہ کیا گیا۔ یوکرین بھی روس کی ایک ریاست تھی۔
مثل مشہور ہے میدان جنگ میں مقدر بنی ناکامی کو مذاکرات کی میز پر کامیابی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے مگر لگتا ہے غزہ کے مجاہدین کی کامیابیوں اور قربانیوں کو امن منصوبے کے نام پر بھینٹ چڑھانے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ سرکس کے جوکر کا کردار نہ بھولئے۔ وہ ظاہر کرتا ہے اسے سب پتہ ہے لیکن پھر گڑھے میں گر جاتا ہے۔

مزیدخبریں