تہران: خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں روشن ہو گئیں۔ ترکیہ، قطر اور مصر کی کامیاب ثالثی کے بعد ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری تنازع پر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا گرین سگنل دے دیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک تاریخی فیصلے میں اپنی سفارتی ٹیم کو حکم دیا ہے کہ وہ متنازع جوہری پروگرام کے حل کے لیے امریکا کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا آغاز کریں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، صدر کا یہ حکم حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت اور معاشی دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس اہم پیش رفت کے پیچھے انقرہ، دوحہ اور قاہرہ کی مثلث کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔ ان تینوں ممالک نے گزشتہ کئی روز سے شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کو اس بات پر آمادہ کیا کہ محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔
مذاکرات کا محور ایران کا جوہری پروگرام اور عائد معاشی پابندیاں ہوں گی۔ ایران نے مذاکرات کی آمادگی تو ظاہر کر دی ہے، تاہم حتمی تاریخ اور وقت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
مبصرین کے مطابق ترکیہ، قطر اور مصر کی کوششوں نے جنگ کے خطرات کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑی پیش رفت، ایران کا امریکہ سے مذاکرات کا فیصلہ
11:13 PM, 2 Feb, 2026