سمندری آلودگی معیشت کے لیے خطرہ: پاک بحریہ کی 'سی گارڈز 2026' مشقوں میں ہنگامی پلان پر غور

05:19 PM, 2 Feb, 2026

کراچی :پاکستان کی بحری حدود کو غیر روایتی خطرات اور بڑھتی ہوئی آلودگی سے بچانے کے لیے پاک بحریہ نے "ایکس سی گارڈز 2026" مشقوں کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ 9 فروری تک جاری رہنے والی ان مشقوں کا مقصد صرف دفاع ہی نہیں بلکہ پاکستان کی "بلیو اکانومی" (سمندری معیشت) کا تحفظ بھی ہے۔
 افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس ایڈمرل فیصل امین نے اپنے خطاب میں ایک تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 25 سالوں میں ہمارا سمندر تیزی سے زہر آلود ہوا ہے، جو کہ ہماری آبی حیات اور معیشت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی گارڈز مشقوں کے دوران سمندری آلودگی کے خاتمے کے لیے خصوصی آپریشنل مشقیں کی جائیں گی تاکہ سمندر کو دوبارہ اس کی اصل اور صاف حالت میں لایا جا سکے۔
وائس ایڈمرل نے خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ ماہی گیروں کی کشتیوں پر "ویسل مانیٹرنگ سسٹم" (Vessel Monitoring System) لگانے کا کام آخری مراحل میں ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف ماہی گیروں کی حفاظت ممکن ہوگی بلکہ فشنگ انڈسٹری سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالر کے زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔
 پاک بحریہ، حکومتِ سندھ کے ساتھ مل کر آلودگی روکنے کے دو بڑے پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے۔ وائس ایڈمرل فیصل امین کا کہنا تھا کہ ان مشقوں کے ذریعے تمام اسٹیک ہولڈرز اور سرکاری و نجی اداروں کے درمیان روابط کو جے ایم آئی سی سی (JMICC) کے پلیٹ فارم سے مزید مضبوط بنایا جائے گا، کیونکہ ایک محفوظ سمندر ہی مستحکم پاکستان کی بنیاد ہے۔

مزیدخبریں