سمندر مجھے بے حد پسند ہے۔ سچ یہ ہے کہ مجھے اس سے محبت ہے۔ کسی دوسرے ملک جاﺅں اور وہاں سمندر موجود ہو تو میری پہلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ میں سمندر پر جا سکوں۔گھنٹوں خاموشی کیساتھ سمندر کنارے بیٹھنا۔ اس کی وسعت کو محسوس کرنا۔ اس کی لہروں کو دیکھنا ۔ لہروں کا شور سننا۔ جہاز میں سوار ہو کر سمندر میں سفر کرنا۔ کسی جزیرے پر اترنا۔ یہ سب میرے پسندیدہ مشاغل ہیں۔ میں نے ترکی انڈونیشیا، ناروے، مراکش ، جاپان وغیرہ، میں سمندرکیساتھ وقت گزارا ہے۔ اسے المیہ ہی کہنا چاہیے کہ اس لگاﺅ اور محبت کے باجود، برسو ں تک میں اپنے ہی ملک کے سمندر سے دور اور اسے دیکھنے سے محروم رہی۔ بچپن کی کچھ تصاویر ہیں، جن میں میںاپنے والدین کی ہمراہی میں کراچی کے ساحل سمندر پر بیٹھی ہوں۔اور بس۔
پاکستان نیوی کا بہت شکریہ، اس کی بدولت مجھے پاکستان کے ساحل اور سمندر دریافت کر نے کا موقع ملا۔ مجھے اپنی لاعلمی اور کم فہمی تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دورے پر روانگی سے قبل میں سمندر کو محض سیر و سیاحت، تفریح اور آمدورفت کا ایک ذریعہ سمجھتی تھی۔ ایک ایسی جگہ جہاں آپ اپنے رب کی پیدا کردہ خوبصورتی اور قدرت کو محسوس کرتے ہیں۔ جہاں وقت گزاری سے آپ ذہنی سکون اور آسودگی حاصل کرتے ہیں۔جہاں آپ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں۔ اس سے آگے میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ اس تربیتی دورے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ سمندر محض تفریح کا ذریعہ نہیں ہے۔ یہ دراصل معلومات اور علم کا خزانہ ہے۔ یہ مواقع اور امکانات کا بحر بیکراں ہے۔ یہ دولت اور معیشت کا سمندر ہے۔ یہ وہ سمندر ہے جس سے راستے کھلتے ہیں، جس پرکسی ملک کی معیشت استوار ہوسکتی ہے اور جو ہماری حفاظت کا ضامن ہے۔
دس روزہ دورے کی اطلاع موصول ہوئی تو سب سے پہلے میں نے اپنی بچیوں حمنہ اور حفصہ کو ان کے ٹھکانوں یعنی خالاﺅں کے گھر روانہ کیا۔ عجلت میں دفتری امور سمیٹے۔ چھٹی کی درخواست دی، دونوں دفاتر متعلقہ کولیگز کے حوالے کئے اور سفر پر روانہ ہو گئی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ نیوی پاکستان کی مسلح افواج کی ایک اہم شاخ ہے۔ بحری حدود کی حفاظت ،تجارتی راستوں کا تحفظ اور قومی مفادات کی پاسداری میں اس کا بنیادی کردار ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان نیوی نے اپنی جنگی صلاحیتوں کو جدید صورتحال سے ہم آہنگ کرنے کے لئے نئی ٹیکنالوجیز اپنائی ہیں۔ ہمارے تربیتی سفر کا آغاز لاہور کے پاکستان نیوی وار کالج سے ہوا۔ یہ سٹاف کالج ہے۔ میرا پہلا تاثر (اور تجسس ) یہ تھا کہ سمندر سے سینکڑوں میل دور بیٹھ کر بھلا بحری امور اور علوم کی تعلیم کیونکر دی جاتی ہو گی۔ پتہ یہ چلا کہ یہ کالج میری ٹائم یعنی بحری اور عسکری تعلیم کی نہایت اہم درسگاہ ہے۔ یہاں افسرن کو قیادت، بحری آپریشنز، جنگی حکمت عملی اور قومی سلامتی وغیرہ جیسے موضوعات پر خصوصی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستان نیوی کیساتھ ساتھ، پاکستان ایئر فورس اور آرمی کے افسران بھی بحری امور کی تعلیم اور تربیت کیلئے یہاں آتے ہیں۔ نیوی وار کالج کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہت سے دوست ممالک کی افواج سے افسران یہاں آتے اور تربیت حاصل کرتے ہیں۔ کالج میں وقتاً فوقتاً مختلف کانفرنسوں اور تربیتی پروگراموں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ ان پروگراموں میں سول اساتذہ اور طالب علم وغیرہ بھی شریک ہوتے ہیں۔ مقصد اس طرح کی سرگرمیوں کا یہ ہے کہ بحری امور اور پالیسی وغیرہ سے جڑے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے اور اس ضمن میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔
پہلے دن میں وقت مقررہ پر میں کالج پہنچی تو کچھ شرکاءپہلے سے موجود تھے۔ نیوی کے یونیفارم میں ملبوس افسران اور جوان دیکھ کر اچھا لگا۔ سب سے پہلے جو بات شدت سے محسوس ہوئی وہ تھی ڈسپلن اور وقت کی پابندی۔ عمومی طو ر پر بڑی بڑی کانفرنسوں اور ورکشاپس وغیرہ میں معاملات طے شدہ ترتیب اور پروگرام کے مطابق آگے نہیں بڑھ پاتے۔ تاہم یہاں ایک ترتیب تھی اور وقت کی پابندی بھی۔ تعارفی سیشن میں شرکاءکا تعارف کروایا گیا۔ یہ پاکستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کا اکٹھ تھا۔ کاروبار، سیاست، صحافت، تعلیم، بیوروکریسی وغیرہ سے تعلق رکھنے والے افراد یہاں پر موجود تھے۔اقلیتوں کی بھی نمائندگی تھی۔ مختلف پس منظر کے حامل لوگوں کی ہمراہی کا فائدہ یہ ہوا کہ اس دس روزہ سفر میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ذاتی طور پر میرے لئے یہ ایک زندگی بھر کا تجر بہ (lifetiem experience) اور سیکھنے کا موقع تھا۔
تعارفی سیشن کے بعد شرکاءکو کالج کا دورہ کروایا گیا۔ اس کے مختلف حصے دکھائے گئے اور ان کے مقاصد سے آگہی فراہم کی گئی۔ نیوی وار کالج میں ایک میری ٹائم سنٹر آف ایکسی لینس (MCE) قائم ہے۔ یہ ایک تحقیقی اور علمی مرکز ہے۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ میری ٹائم سیکیورٹی، بلیو اکانومی، میری ٹائم پالیسی اور حکمت عملی پر تحقیق کی جائے اور پالیسی سازی کیلئے سفارشات مرتب کی جائیں۔ کالج میں ہونے والی مختلف علمی نشستیں، مباحثے اور تربیتی یا آگہی پروگرام اس مرکز کے زیر اہتمام منعقد ہوتے ہیں۔ پتہ یہ چلا کہ نوجوانوں کو میری ٹائم سیکٹر(یعنی بحری شعبے) کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کیلئے یہاں باقاعدگی سے خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایک سینئر افسر نے جب تحقیقی مرکز ایم ۔سی۔ ای کا دورہ کروایا اور بریفنگ دی تو بتایا کہ یہاں سویلین سٹاف موجود ہے۔کہنے لگے کہ ہم فوجی تو ایک مخصوص انداز میں سوچتے ہیں۔ سویلین سٹاف کی موجودگی کا فائدہ یہ ہے کہ یہ روائتی انداز سے ہٹ کر(out of the box) سوچتے ہیں۔
جتنے دن نیوی وار کالج میں گزرے وہاںنیوی کے سینئر ریٹائرڈ افسران کو سننے کا موقع ملا۔ پہلی مرتبہ اس قدر تفصیل اور گہرائی سے بلیو اکانومی کے تصور کو سمجھنے اور سوچنے کا موقع ملا۔ پتہ چلا کہ بلیو اکانومی دراصل سمندری وسائل کے درست اور پائیدار استعمال کا نام ہے۔ یہ ایک خاموش طاقت ہے جس کے ذریعے تجارت، ماہی گیری، جہاز رانی، توانائی، سیاحت اور بندرگاہوں کے ذریعے قومی معیشت کو مستحکم اور توانا کیا جاسکتا ہے۔ میری ٹائم سیکیورٹی کا تذکرہ بھی ہم اکثر سنتے رہتے ہیں۔ کالج میں اس کے متعلق تفصیلاً آگہی ملی۔ معلوم ہواکہ بحری حدود کا تحفظ، تجارتی راستوں کی نگرانی اور غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کس قدر اہم معاملات ہیں۔ کیسے ہماری بحری سلامتی ہماری قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ ا س سب میں پاکستان نیوی کا کردار کس قدر اہم اور ناگزیر ہے۔ وجہ یہ کہ بحری سلامتی اور سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ کے بغیر سمندری معیشت کا تصور ادھورا اور نامکمل رہتا ہے۔ یہ جاننے کا موقع ملا کہ کتنے جان جوکھم سے پاکستان نیوی کے جوان ملک کی سمندری سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی سطح پر محفوظ سمندری ماحول کے قیام میں بھی معاون و مددگار ہیں۔ نہایت وضاحت سے یہ بات سمجھنے کا موقع ملا کہ سی پیک، جسے ہم خطے اور خاص طور پر پاکستان کیلئے گیم چینجر منصوبہ قرار دیتے ہیں، اس کی کامیابی کا انحصار میری ٹائم سیکیورٹی پر ہے۔ کیوں کہ محفوظ سمندری راستے اور بحری ماحول کے بغیر تجارتی سرگرمیاں پنپ نہیں سکتیں۔
یہ سب عمدہ اور فکر انگیز باتیں ہم نے پاکستان نیوی وار کالج میں برپا مختلف سیشنز میں سنیں اور سمجھیں۔ اس کے بعد ہمیں فیلڈ میں جا کر عملی طور پران معاملات کا بذات خود مشاہدہ کرنا تھا۔ (جاری ہے)
پاکستان نیوی کے ساتھ چند دن !!
09:08 AM, 2 Feb, 2026