بسنت اور صوفی ازم

09:09 AM, 2 Feb, 2026

بر صغیرپاک و ہند میں بسنت کی روایت کوئی نئی نہیں۔ روایات کے مطابق اسے صوفیاء کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے جوان سال اکلوتے لے پالک بیٹے کا اچانک انتقال ہوگیا اور حضرت نظام الدین اولیائؒ افسردگی اور غمزدگی کی علامت بنے اپنے حجرہ تک محدود ہرکر رہ گئے۔ ان کے قریبی دوست اور صوفی شاعر حضرت امیر خسرو ؒ  ان کی غمز دگی اور خاموشی کی وجہ سے بے حد پریشان تھے۔ مرشد کو خوش کرنے کے لیے مختلف جتن کرتے رہتے۔ ایک روز صبح کے وقت امیر خسروؒ کو دور پگڈنڈی پہ پیلے کپڑے پہنے ہاتھوں میں پیلے پھولوں کی ٹوکریاں اٹھائے گیت گاتے ہوئے خواتین جاتی نظر آئیں۔ پوچھنے پر خواتین نے بتایا کہ اس روز ہندو دیوی سرسوتی کو خوش کرنے کے لیے مندر پہ پیلے پھولوں کے تحائف پیش کیے جانے کا تہوار ہے۔ امیر خسرو نے پوچھا کیا اس طرح آپ کی دیوی خوش ہو جائے گی اور مسکرانے لگے گی۔ خواتین نے بتایا کہ جی بالکل ہماری دیوی پیلے پھولوں سے خوش ہو گی بلکہ مسکرانے لگے گی۔ خواتین کے اس مشورے کے مطابق امیر خسرو پیلے پھولوں کی ٹوکری لے کر اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیائؒ کے حضور پیش ہوئے۔ پھولوں کو دیکھتے ہی نظام الدین اولیائؒ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور ان کے مرید خوش ہوگئے۔ 
پیلے پھولوں کے اسی تہوار کو وقت کے ساتھ بسنت کا نام دیا گیا۔ مغل دور حکمرانی میں اس تہوار کو پورے جوش و جذبے اور خاندانوں کے بیچ پیار، محبت، ہم آہنگی، دوستی کے طور پر منایا جانے لگا۔ برصغیر پاک و ہند کا یہ تہوار شدید سرد موسم کے اختتام اور بہار کی آمد کو خوش آمدید کہنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ بسنت کا ماضی کچھ بھی ہو مگر لاہور کی روایات کے مطابق برسوں تک یہ تہوار دوستی، ہم آہنگی، بھائی چارہ اور محبت کے تہوار کے طور پر منایا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے لاہور میں ہونے والے خصوصاً اندوہناک واقعات اصولی طور پر انتظامی امور میں نااہلی کے باعث رونما ہوئے۔ جس کے باعث لاہوریوں کا پسندیدہ تہوار بسنت ممنوع کردیا گیا۔ 
پیلا پھول محبت، دوستی اور خوشحالی کی علامت سمجھا جاتاہے۔ ہندو دیوی سرسوتی کے مندر سے ہوتا ہوا مغل حکمرانوں کے درباروں کی زینت بننے کے بعد یہ تہوار عام آدمی کی خوشی کی دلیل بنتا گیا۔ اس تہوار میں مزید رنگ بھرنے کے لیے پتنگ اڑانے کی رسم بھی شامل ہوتی گئی۔ اس بات سے انکار نہیں کہ کاروباری شعبہ کی لاپرواہی کی وجہ سے گلے پہ ڈور پھرنے کے کئی واقعات نے ہزاروں گھر اجاڑے اور قیمتی جانوں کا نقصان کیا مگر اس غلط کاری کو آج کی مضبوط پنجاب حکومت ہی قابو کر سکتی ہے۔ حکمرانوں کا ڈر ہوگا تو نہ کسی کے گلے پر ڈور پھرے گی نہ ہی خوشیوں کا کوئی گہوارہ غم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے گا۔ 
لاہور اور بسنت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کھلے میدانوں پارکوں اور وسیع چھتوں پر لال، پیلی، نیلی، ہر ی رنگ برنگی پتنگوں اور دیسی کھانوں، بچے بچیوں کے قہقہے، لال پیلے جوڑے اور پتنگوں، گڈیوں کی بہار۔ اگر ہمیں تین دن ہنسنے مسکرانے اور قہقہے لگانے کاموقع دے تو یقینا یہ عام آدمی کی نفسیاتی بھلائی کا باعث بنے گا۔ جس طرح خوشیوں، خوشبوؤں اور رنگوں کا کوئی ملک اور سرحد نہیں ہوتی۔ اس طرح بر صغیر کے تما م صوفیاء نے محبت، ثقافتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے بسنت منانے سے کبھی گریز نہیں کیا… شکریہ وزیر اعلیٰ پنجاب آپ نے ہماری گمشدہ بسنت واپس لوٹا دی۔

مزیدخبریں