31 جنوری 2026 کوبھارتی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے ایک مرتبہ پھر بلوچستان کو عدم استحکام کی آگ میں جھونکنے کی منظم سازش رچائی، جس کو اس نے بڑے طمطراق کے ساتھ ’’آپریشن ہیروف ٹو‘‘ کا نام دیا۔ دشمن کا خیال تھا کہ بیک وقت کئی مقامات پر حملوں کے ذریعے خوف کی فضا قائم کر کے ریاستی رٹ کو کمزور کر دیا جائے گا، ترقی کے سفر کو روکا جائے گا اور عام بلوچ عوام کو پاکستان کے خلاف ورغلایا جائے گا، مگر وہ شاید یہ بھول گیا تھا کہ آج کا پاکستان نہ صرف پہلے سے زیادہ مضبوط ہے بلکہ اس کے سکیورٹی ادارے دشمن کی ہر چال کا بروقت، بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ جونہی دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی میں بیک وقت حملوں کا آغاز کیا، سکیورٹی فورسز نے برق رفتاری سے جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے ان کے تمام ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور یہ نام نہاد ’’ہیروف ٹو‘‘ لمحوں میں دہشت گردوں کے لیے عبرت ناک انجام میں بدل گیا۔ بھارتی آقاؤں کے ایما پر کیے گئے یہ بزدلانہ حملے دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن کھلے میدان میں بدترین شکست کے بعد اب پراکسی جنگ کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ بزدل دشمن نے خصوصاً ضلع گوادر اور خاران میں درندگی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے خواتین، بچوں، بزرگوں اور مزدوروں سمیت اٹھارہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جو جام شہادت نوش کر گئے۔ علاوہ ازیں رودبن میں مسجد پر بھی حملہ کر کے اللہ کے گھر کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ یہ حملے اس جھوٹے بیانیے کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جس کے تحت بی ایل اے خود کو بلوچ عوام کا نام نہاد ہمدرد ظاہر کرتی ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ گروہ معصوم بلوچوں کا قاتل اور غیر ملکی مفادات کا آلہ کار ہے۔ مگر دشمن یہ بھول گیا تھا کہ بلوچستان اب تنہا نہیں، ریاست پوری قوت کے ساتھ عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ردعمل دیا۔ مختلف علاقوں میں طویل، شدید اور جرأت مندانہ کلیئرنس آپریشنز کیے گئے جن میں پیشہ ورانہ مہارت اور انٹیلی جنس برتری نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد موقع پر ہلاک کیے گئے، جبکہ اس سے ایک روز قبل پنجگور اور ہرنائی میں مزید 41 دہشت گرد جہنم واصل کیے جا چکے تھے۔ یوں دو دنوں میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 تک پہنچ گئی۔ یہ بھر پور جواب اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ ریاست پاکستان اب دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کی نرمی پالیسی ترک کر چکی ہے۔ دشمن کا ہر حملہ اسے مزید مضبوط جواب کی صورت میں واپس مل رہا ہے۔ بدقسمتی سے ان آپریشنز کے دوران وطن کے 15 بہادر سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ وہ جوان تھے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے بلوچستان کے عوام کے مستقبل کو محفوظ بنایا۔ ان شہداء کا خون اس سرزمین کی حفاظت کی گواہی دے رہا ہے اور تاریخ گواہ رہے گی کہ پاکستان کے بیٹے دہشت گردی کے سامنے کبھی نہیں جھکے۔ آئی ایس پی آر اور انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر تصدیق کی ہے کہ حملوں کے دوران دہشت گرد وں کا بیرون ملک موجود اپنے ہینڈلرز سے براہ راست رابطہ رہا۔ یہ انکشاف ایک بار پھر بھارت کے اُس مکروہ کردار کو بے نقاب کرتا ہے جو برسوں سے بلوچستان میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔ کلبھوشن یادیو سے لے کر حالیہ انٹیلی جنس شواہد تک، ہر حقیقت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بی ایل اے اور اس جیسے گروہوں کو بھارت کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ آپریشن ’’ہیروف ٹو‘‘ جسے بی ایل اے نے بڑے دعوؤں کے ساتھ لانچ کیا تھا، درحقیقت ان کے لیے اجتماعی قبرستان ثابت ہوا۔ دہشت گردوں نے اسے اپنی طاقت کا مظاہرہ سمجھا، مگر یہ ان کی آخری بڑی
غلط فہمی نکلی۔ سکیورٹی فورسز نے نہ صرف ان کے حملے ناکام بنائے بلکہ ان کے نیٹ ورک کو بھی کاری ضرب لگائی۔ اہم بات یہ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز مسلسل جاری ہیں تاکہ کسی بھی باقی ماندہ دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے۔ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اب یہ جنگ صرف بندوق تک محدود نہیں بلکہ پورے دہشت گرد انفراسٹرکچر کے خاتمے کی جنگ بن چکی ہے۔ یہ تمام کارروائیاں قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے فریم ورک میں ہو رہی ہیں، جس کا مقصد پاکستان سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔ یہ محض ایک آپریشن نہیں بلکہ ریاستی عزم کا اعلان ہے کہ اب دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی جائے گی۔ بلوچستان کے عوام کو بھی اب یہ حقیقت سمجھنا ہو گی کہ بی ایل اے جیسے گروہ ان کے خیرخواہ نہیں بلکہ ان کے بچوں کے قاتل ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں پر حملے، مزدوروں کا قتل، سکولوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانا یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کا مقصد حقوق نہیں بلکہ تباہی ہے۔ آج گوادر بندرگاہ، سی پیک منصوبے، سڑکوں کا جال، تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز بلوچستان کو روشن مستقبل کی طرف لے جا رہے ہیں، اور یہی وہ ترقی ہے جس سے دشمن خوفزدہ ہے۔ اسی لیے بھارتی سرپرستی میں دہشت گرد نیٹ ورک ان منصوبوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آپریشن’’ہیروف ٹو‘‘ کی ناکامی دراصل اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گرد اب دفاعی پوزیشن پر جا چکے ہیں۔ جب دشمن میدان میں مقابلہ نہ کر سکے تو وہ بزدلانہ حملوں پر اتر آتا ہے … اور یہی کچھ بی ایل اے نے کیا، مگر ہر بار کی طرح اسے منہ کی کھانا پڑی۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بلوچستان اب دہشت گردوں کے لیے نرم ہدف نہیں رہا۔ ریاست پوری قوت سے موجود ہے، فورسز الرٹ ہیں، انٹیلی جنس متحرک ہے اور عوام دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔ فتنہ الہندوستان کی ہر سازش اسی طرح ناکام ہو گی، اور ہر حملے کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہو گا۔ بی ایل اے اور اس کے بھارتی سرپرست یہ بات جتنی جلدی سمجھ لیں، اتنا ہی ان کے لیے بہتر ہو گا کہ بلوچستان پاکستان کا مضبوط قلعہ ہے اور رہے گا۔
فتنہ الہندوستان کا آپریشن ہیروف 2 ناکام
09:06 AM, 2 Feb, 2026